169

راؤانورکہاں ہے!

بنیادی سوال یہ ہے کہ پولیس کو مطلوب اپنا ہی ایک ساتھی کس طرح قانون نافذ کرنیوالے جملہ اداروں کی نظروں سے روپوش ہو سکتا ہے اگر پاکستان میں آئین کی بالادستی کا وجود ہوتا‘ تو کراچی پولیس کا ایک اہلکار یوں کھلا چیلنج نہ بنتا۔ گزشتہ ماہ کراچی میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل نے جھوٹے مقابلوں کے قابل مذمت عمل پر قوم کا ضمیر جھنجھوڑ دیا ہے‘ وہاں اس پورے افسوسناک واقعے کے مرکزی کرداروں میں سے ایک‘ مفرور پولیس افسر راؤ انوار اب بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ کیا پاکستان کے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں کہ چاروں صوبوں کی پولیس اگر کسی ایک شخص کے آگے بے بس ہے تو اسکی پشت پناہی کرنیوالا اصل کردار کون ہے اور کیا چاہتا ہے؟ یہ ممکن ہی نہیں کہ راؤ انوار اور گلو بٹ جیسے کئی کرداروں کو حسب ضرورت استعمال کرنیوالے سیاست دان کون ہیں اور پوری طرح ایک ایسے نظام کو ہائی جیک کئے ہوئے ہیں‘ جس میں اُن کے اقتدار کو طول مل سکے۔ راؤ انوار آخری مرتبہ تیئس جنوری کے روز اسلام آباد ائرپورٹ جیسی حساس جگہ پر دیکھاگیا جہاں قدم قدم پر نگرانی کے لئے کیمرے نصب ہیں اور ایسا ممکن ہی نہیں کہ کسی بھی شخص کی ائرپورٹ آمد سے رخصت تک کے لمحات محفوظ نہ ہوں۔ کون کس رنگ‘ ماڈل اور نمبر والی گاڑی میں تشریف لایا اور کس سمت سفر کر کے گیا یہ سب تفصیلات باآسانی معلوم کی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح اسلام آبادسیف سٹی ہے جہاں شاہراہوں پر کیمرے نصب ہیں اور یہ پاکستان کا ایسا پہلا شہر ہے جہاں سیف سٹی پراجیکٹ کے نام سے تجرباتی طور پر کیمروں کی تنصیب کی گئی تھی لیکن عجب ہے کہ راؤ انوار نہ صرف ائرپورٹ بلکہ سیف سٹی کے کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں کو بھی دھوکہ دینے میں کامیاب ثابت ہوا۔ اگر کوئی پولیس اہلکار ایسا کرسکتا ہے تو دہشت گرد اس سے زیادہ منصوبہ بندی اور سمجھ بوجھ کے مالک ہوتے ہیں۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام آباد کا بینظیر ائرپورٹ واقعی بے نظیر ہے‘ جہاں کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور الیکٹرانک آلات پر مبنی جن حفاظتی انتظامات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے وہ سب نمائشی ہیں‘راؤ انوار آخری مرتبہ اسلام آباد میں دیکھا گیا یہ بات سوفیصد درست نہیں کیونکہ وہ کوئی چھلاوہ نہیں تھا جو تیئس جنوری کے بعد تحلیل ہو گیا‘ وہ اسلام آباد سے دبئی جانے والے ہوائی جہاز میں سوار ہونا چاہتا تھا لیکن اسے امیگریشن حکام نے آخری وقت پر روک لیا اور باعزت و احترام جانے دیا۔ تب سے لے کر اب تک اس مفرور افسر کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے باوجود اس کے کہ سپریم کورٹ نے اس کی گرفتاری کے لئے ڈیڈلائن بھی مقرر کر رکھی ہے اور خفیہ اداروں اور ایف آئی اے کو واضح حکم دیا ہے کہ اسے پکڑنے میں سندھ پولیس کی مدد کریں جب سندھ پولیس خود ہی اپنی مدد کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی تو کوئی وفاقی ادارہ کتنی اور کس حد تک مدد کر سکتا ہے۔ راؤ انوار نے روپوشی سے قبل کئی روز تک واٹس ایپ نامی ایک سروس کا استعمال کیا‘ جس کی کال اور میسجنگ کا اصل سورس معلوم کرنا ہمارے تحقیقاتی اداروں کے بس کی بات نہیں! کیا یہ بات قوم اور دنیا کوبتانا ضروری تھا کہ پاکستان میں واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔قوم کو دکھانے اور مگرمچھ کے آنسو بہانے کے لئے سندھ پولیس کی ایک ٹیم اسلام آباد ائرپورٹ کے حکام اور ملازمین سے پوچھ گچھ کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت پہنچی تاکہ معطل ہوچکے پولیس افسر کو تلاش کیا جا سکے۔ یہ کراچی سے اس کیس کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت آنیوالی دوسری پولیس ٹیم ہے اور شاید آخری نہیں ہے۔

یونہی تحقیقات میں وقت گزرتا جائے۔ اصل ضرورت تو قوم کے اعتماد کو بحال کرنے کی ہے۔ راؤ انوار نے اپنے اختیارات کا جس قدر غلط استعمال کیا‘ اس میں وہ اکیلا نہیں اور نہ ہی ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ یہ ایک انتہائی پریشان کن امر ہے کہ آج کے دور میں بھی اس قدر مطلوب شخص قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔اس حوالے سے سنجیدہ سوالات پوچھنے چاہئیں کہ راؤ انوار فلائٹ میں چڑھنے سے روکے جانے کے بعد ائرپورٹ سے کیسے فرار ہوا اور تب سے لے کر اب تک وہ کہاں ہے؟ یہ تصور کرنا بھی بہت مشکل ہے کہ اگر راؤ انوار اسلام آباد میں ہے‘ جسے ملک کے محفوظ ترین علاقوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، تو وہ اس شہر میں روپوش کیسے رہ سکتا ہے؟ سکیورٹی فورسز کو اسے تلاش کرنے کی اپنی کوششوں میں تیزی لانی ہوگی۔ یہ اس لئے اہم ہے تاکہ نقیب اللہ کی بے گناہ ہلاکت میں ملوث افراد پر مقدمہ چلا کر انہیں سزا دی جا سکے۔ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر جھوٹے مقابلوں میں ملوث رہنے والے پولیس اہلکاروں کو سخت پیغام جائے گا۔ محسود قبائلی جرگے نے وزیر اعظم سے ملاقات میں بھی راؤ انوار کی گرفتاری کے اپنے مطالبے کو سختی سے دہرایا ہے۔ ریاست کو نقیب اللہ کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لئے پہلا قدم مرکزی ملزم کی گرفتاری ہونا چاہئے جس کے بعد باقی باتیں ہوں گی! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: سمیرا افضل خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)