220

مقبول بٹ کی برسی پرحریت رہنماؤں کی کال پر مکمل شٹر ڈان

سرینگر۔مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند رہنماؤں کی کال پر کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی برسی پر مکمل شٹر ڈان رہا اور دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ وادی میں محمد مقبول بٹ کی برسی پر مکمل شٹر ڈان رہا جبکہ حریت پسند رہنماں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے سرینگر میں سونور کے مقام پر اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب مارچ اور ایک کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ اور افضل گرو کی لاشیں ان کے خاندان کو واپس کرنے کے حوالے سے ایک قرار داد پیش کرنے کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے پر بھارت کی جانب سے محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984 جبکہ محمد افضل گرو کو 9 فروری 2013 کو نئی دہلی کی تہار جیل میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ دونوں رہنماں کی لاشوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا تھا۔حریت پسند رہنماں کی جانب سے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ محمد مقبول بٹ اور افضل گرو کو پھانسی دینا عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا، ساتھ ہی انہوں نے کٹھ پتلی انتظامیہ کی جانب سے دونوں رہنماں کی برسی پر پروگرامات سے روکنے کے عمل کی مذمت کی۔

دوسری جانب کٹھ پتلی انتظامیہ نے محمد مقبول بٹ کی 34 ویں برسی پر مظاہرین کو روکنے کے لیے سری نگر، کپوارا، سوپور اور کشمیر وادی کے دیگر حصوں میں پابندیاں لگادی ہیں جبکہ بھارتی پولیس کے دستے اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف) کو تعینات کردیا گیا۔اس کے علاوہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے مارچ سے روکنے کے لیے حریت پسند رہنماں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک، محمد اشرف سہرائی، مختار احمد واعظا، غلام احمد گلزار، محمد یوسف نقاش، بلال صدیقی، محمد اشرف لئیا، عمر عادل ڈار اور سید امتیاز حیدر کو نظر بند کردیا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل 9 فروی کو بھی مقبوضہ وادی میں کشمیری رہنما افضل گرو کی برسی پر بھی مکمل شٹر ڈان رہا تھا جبکہ اس دوران کشمیریوں کی جانب سے پر امن مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملے کے دوران 5 بھارتی فوجی اور 4 حملہ آور ہلاک ہوگئے جبکہ درجنوں اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

بھارتی دفاعی حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز حملہ آوروں کے ایک گروپ کی جانب سے فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں 5 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ انہوں نے دعوی کیا کہ 4 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔حکام کا کہنا تھا کہ چوتھے حملہ آور کی ہلاکت کے بعد کوئی فائرنگ کی اطلاع نہیں ملی تاہم آپریشن اب بھی جاری ہے۔خیال رہے کہ یہ کیمپ جموں شہر کے مضافاتی علاقے میں واقع ہے تاہم اس حملے کے بعد ملٹری اسٹیشن اور اس کے اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی جبکہ تمام اسکولوں کو بھی بند کردیا گیا تھا۔

30 گھنٹے سے جاری اس آپریشن کے دوران بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے بھی جموں کے علاقے کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ کیا۔حملے میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی شناخت صوبیدار مدن لال چوہدری اور صوبیدار محمد اشرف نیر کے نام سے ہوئی۔یاد رہے کہ 31 دسمبر 2017 کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی پیرا ملٹری فورس کے کیمپ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آوار بھی مارے گئے تھے۔