147

قابل توجہ امور

سابق و زیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس نے وطن عزیز میں جاری سیاسی گرما گرمی کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وہ مریم نواز کے ماتحت کام نہیں کر سکتے اور یہ کہ وہ اتنے سیاسی یتیم نہیں کہ جونیئر کو سر یا میڈم کہیں‘ چوہدری نثار یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ ڈان لیکس کے مسئلے پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس نہ بلایا گیا تو وہ معاملہ پبلک کردینگے اسکے ساتھ سیاسی قیادت کے ایک دوسرے کیخلاف بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے دوسری جانب سینٹ کے الیکشن کیلئے سیاسی جوڑ توڑ بھی بڑھتی چلی جارہی ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کچھ روز قبل ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ روز جلسے سے خطاب میں انکا کہنا ہے کہ ووٹ خرید کر سینٹ میں آنے والوں کامقابلہ کیا جائیگا ایوان بالا کے الیکشن کیلئے بعض ارکان کی جانب سے بغیر اجازت دوسری جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر دستخط کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام اور قومی وطن پارٹی نے اپنے اپنے ممبران کے حوالے سے الیکشن کمیشن سے رابطے کا عندیہ دیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان کا کہناہے کہ الیکٹوریل ریفارمز میں اگر تحریک انصاف کی تجاویز مان لی جاتیں تو ہارس ٹریڈنگ کو روکا جا سکتا تھا جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کہتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن کیلئے ارکان اسمبلی کی بولیاں لگائی جارہی ہیں وہ الیکشن کمیشن سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اس ساری گرما گرمی میں بعض دیگر اہم امور کیساتھ فاٹا انضمام کا کیس دب کر رہ گیا ہے اسفند یار ولی خان کا کہنا ہے کہ حکومت اس کیس میں اپنی ہی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرسکی خیبرپختونخوا اور وفاق کے درمیان دیگر معاملات کیساتھ بجلی بنانے کیلئے گیس کی فراہمی کے کیس میں وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ 28ملین کیوبک فٹ گیس اب ایگری ٹیک کو ملے گی کیونکہ خیبرپختونخوا نے بجلی نہیں بنائی اس ساری صورتحال میں جہاں ضرورت سیاسی معاملات کو سیاسی طریقہ کار کے مطابق طے کرنے کی ہے وہیں ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے کیساتھ فاٹا انضمام اور دیگر اہم امور نمٹانے کی ہے اب جبکہ عام انتخابات قریب آتے جارہے ہیں سینئر سیاسی قیادت کو اپنے اختلافات ایک جانب رکھتے ہوئے سینٹ الیکشن کو شفاف بنانے کے ساتھ اہم اموریکسو کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

چکن کے نمونے ٹیسٹ کروانے کا حکم

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے مرغیوں کو دی جانے والی خوراک اور چکن کے نمونے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا ہے ‘ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ چکن کے استعمال سے عورتوں اور بچوں کے ہارمونز میں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں ایک ایسے وقت میں جب غریب اور متوسط طبقے کے شہری کے لئے مہنگائی کے ہاتھوں کچن کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو پانی آلودہ اور خوراک ملاوٹ شدہ ملنا انتہائی قابل افسوس ہے مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار حکومتوں کیساتھ ہر لیول پر انتظامیہ کیلئے بھی یہ بات چیلنج سے کم نہیں کہ زیادہ قیمت دے کر خریدے گئے بوتل بند پانی میں سے بھی بعض غیر معیاری پائے جا رہے ہیں دودھ میں مضر صحت کیمیکل مل رہے ہیں اس سارے منظر نامے میں زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ حکومتی سطح پر مارکیٹ کنٹرول کیلئے موثر سیٹ اپ کی بحالی کا کام فائلوں میں گردش ہی کر رہا ہے ۔