105

دل گرفتگی

مسلم لیگ (ن) میں داخلی اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور صاف دکھائی دے رہا ہے کہ جیسے جیسے عام انتخابات قریب آتے چلے جائیں گے قوم کو مزید ایسے انکشافات سہنے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے جو ہماری سیاست میں کوئی نئی بات بھی نہیں‘ سابق وزیرداخلہ چودھری نثار نے علی الاعلان کہہ دیا ہے کہ وہ نوازشریف اور شہباز شریف کیساتھ مزید نہیں چل سکتے کیونکہ وہ منافقت نہیں جانتے اور نہ سیاسی یتیم ہیں کہ اپنے سے کسی جونیئر کی ہاں میں ہاں ملائیں اور اسے سر یا میڈم کہہ کر مخاطب کریں! تحریک انصاف تیزی سے تبدیل ہونیوالی سیاسی صورتحال پر گہری نظریں جمائے بیٹھی ہے‘ چیئرمین عمران خان نے چوہدری نثار علی خان کو باضابطہ طور پر تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور آزاد امیدوار انتخابی حمایت جیسی دو پیشکشیں کی ہیں‘ عمران خان نے کہا ہے کہ چوہدری نثار تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلیں تو اچھا ہے تاہم اگر وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات لڑیں گے تو بھی ان کی بھرپور حمایت کی جا سکتی ہے‘یہ ایک دلچسپ سیاسی صورتحال ہے جس میں نواز لیگ تحریک انصاف اور تحریک انصاف نواز لیگ کے داخلی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے‘ سارا کھیل الیکٹ ایبلز کے گرد گھوم رہا ہے‘وہ چوہدری نثار جو اگر مریم نواز اور حمزہ شہباز جیسے جونیئرز کے ماتحت کام نہیں کرنا چاہتے تو ایسی تحریک کیساتھ کیسے چل سکیں گے۔

جہاں سینئرز اور جونیئرز کی تمیز ہی نہیں اور نہ ہی حفظ مراتب طے ہیں‘کم سے کم نواز لیگ کا یہ خاصہ تو ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ شخصیات کی قیادت پر کارکنوں کا اتفاق نظر آتا ہے‘تحریک انصاف تو ہمہ خانہ آفتاب ہے جس کا ہر کارکن سینئر و بانی رہنماسے کم تر تعارف اپنی توہین سمجھتا ہے اور پھر نواز لیگ کے بارے میں نہایت ہی سخت رویہ رکھنے والے تحریک انصاف کے کارکن چوہدری نثار کو کس طرح قبول کریں گے جبکہ انہوں نے ایک جمہوری آمرانہ اقتدار کو طول دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہو اور تحریک انصاف کے کارکنوں کیخلاف ریاستی مشینری کا بھرپور اور پوری طاقت سے استعمال بھی کیا ہو‘ چوہدری نثار ان دنوں نواز لیگ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل تیار کر سکیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ جب وہ مریم اور حمزہ کے خلاف بیان دے رہے تھے تو اس سے قبل ہی اپنے سیاسی مستقبل اور لائحہ عمل کو طے کرچکے تھے ‘جمہوری روح رکھنے والے چودھری نثار کا شمار ملک کے ان چند سینئر سیاستدانوں میں ہوتا ہے‘ جنہوں نے ہمیشہ استقلال کا مظاہرہ کیا اور ان وفاداری کا یہ عالم رہا کہ آج بھی اسی پارٹی اور قیادت کیساتھ کھڑے ہیں جس کیساتھ انہوں نے کبھی سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا لیکن اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ سے بالخصوص انکے لہجے میں سختی اور سیاسی بے زاری کا عنصر نمایاں ہے۔

کیا وہ سیاسی سفر سے تھک گئے ہیں یا سیاسی رفاقت کا بوجھ اٹھانے کیلئے ان کے کندھوں میں دم نہیں رہا؟ نواز لیگ چاہے اس حقیقت سے جس قدر بھی انکار کرے لیکن پاناما کیس کی افتاد نے اسکو اندر سے بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ دیرینہ سیاسی ساتھی جو کبھی نواز شریف کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے‘ اب گلے‘ شکوؤں اور شکایتوں سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے ہیں‘ چودھری نثار کی سیاست کے دو واضح رخ ہیں انکا سیاسی قد کاٹھ نواز لیگ کی مرہون منت ہے لیکن نواز لیگ نے بھی چوہدری نثار کی اصولی سیاست سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ کبھی بھی باغی نہیں رہے لیکن انہوں نے قومی اِداروں کیساتھ محاذ آرائی کی سیاست سے ہمیشہ اختلاف کیا۔ ’دل گرفتگی‘ کے موجودہ دور میں جبکہ نواز شریف کو‘ دلجوئی کی ضرورت تھی‘ انکی صاحبزادی مریم نواز ہی انکے شانہ بشانہ نظر آ رہی ہیں‘ مریم نے این اے ایک سو بیس میں اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلائی‘ جو برطانیہ میں زیر علاج تھیں اور محترمہ کلثوم نواز رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے میں مریم سرخرو رہیں اگرچہ یہ بات سننے میں نہیں آئی کہ نواز لیگ کی قیادت مریم کو سونپی جا رہی ہے لہٰذا کسی خیالی موضوع پر غیرمحتاط اظہار خیال کرنا یا پارٹی کے باہر داخلی معاملات زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں تھی جبکہ چودھری نثار بذات خود اس اصول کے وکیل بھی رہے ہیں کہ اس نوعیت کے معاملات پبلک فورم پر نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی فورم پر ہی زیر بحث لائے جانے چاہئیں‘بہرحال کسی ایک شخص کی سیاسی نااہلی کا اثر پوری نواز لیگ پر مرتب ہونے سے بہتر ہے کہ دانشمندی کا مظاہرہ کیا جائے اور آئندہ عام انتخابات کی صورت درپیش بھاری آزمائش سے سرخرو ہونے کیلئے منصوبہ بندی سے کام لیا جائے۔