222

خیبرپختونخواحکومت کاخدمات پرٹیکسز کی وصولی کاآغاز

پشاور۔خیبرپختونخواحکومت نے 18ویں ترمیم کے تحت خدمات پر ٹیکسز کی وصولی فیڈرل بورڈآف ریونیو سے لیکر صوبائی ریونیواتھارٹی کے ذریعے وصولی شروع کردی اور گزشتہ تین سالوں کے دوران35ارب سے زائد ٹیکسزکی وصولی کی جاچکی ہے گزشتہ روزپشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کے پی آراے)طاہراورکزئی نے کہاکہ 2013ء کے فنانس ایکٹ کے تحت کے پی آراے قائم کیاگیا اور اب تک یہ ادارہ خدمات پر ٹیکس کی وصولی کیلئے دائرہ کار کو مسلسل پھیلانے کی کوشش کررہاہے۔

2014-15میں ہمیں بارہ ارب روپے کے ٹیکس وصولی کا ہدف دیاگیالیکن نامساعدحالات اور ملازمین کے نہ ہونے کے باعث صرف ساڑھے چھ ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا 2015-16 میں ہدف آٹھ ارب روپے کے بدلے سات ارب 27 کروڑوصول کئے گئے اسی طرح2016-17ء میں دس ارب کے ہدف کے مقابلے میں دس ارب27کروڑ وصول کئے گئے اور رواں مالی سال کے دسمبر تک 13 ارب 65 کروڑ کے بدلے پانچ ارب4لاکھ ٹیکس وصولی کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ ٹیکس کی وصولی ٹیلی کام سیکٹرسے کی گئی ہے جوکہ مجموعی ٹیکس کے اہداف کا53فیصد ہے ،طاہراورکزئی نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں خدمات کے بدلے ٹیکس کی وصولی چالیس سے پچاس ارب روپے تک ہوسکتی ہے لیکن ابتدائی طور پر ہم نے پشاور اور ایبٹ آباد کواپناہدف بنایاہواہے اگرچہ اس وقت پشاور ایبٹ آباد اور بنوں میں ریجنل آفسزبھی کام کررہے ہیں تاہم ٹیکس وصولی کا دائرہ کارمزید پھیلایا جائے گا۔

انہو ں نے کہاکہ جنرل سیلزٹیکس اوردیگرٹیکسزکی وصولی کاہدف اب بھی ایف بی آرکے پاس ہے اس سال ہمیں بائیس ارب روپے کے ٹیکس کا ہدف دیاگیاہے جس میں13ارب80کروڑکے پی آراے کے ذریعے کیاجائے گاطاہراورکزئی نے واضح کیاکہ کے پی آراے کیلئے قواعدوضوابط بنائے جاچکے ہیں اورچاہتے ہیں کہ ادارہ شفافیت کے ساتھ اپنے اہداف کویقینی بنائے جس کیلئے ملازمین کی بھرتی کا عمل بھی انتہائی شفاف طریقے کیاگیاہے اور ان کی اب تربیت کی جارہی ہے۔