252

ایوان بالا کے وقار کو قائم رکھیں

سینٹ نہ تو ناتجربہ کار کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھوں کی جگہ ہے اور نہ ان لوگوں کی جنہوں نے مشکوک ذرائع سے بے پناہ دھن بنایا ہے کیا یہ سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری نہیں کہ ایوان بالا کیلئے اپنے امیدوار نامزد کرتے وقت ان کے کوائف کی خوب چھان پھٹک کریں اور ان کو کھنگالیں؟ لیکن ان باریکیوں کا آج کل کون اتنا خیال رکھتا ہے ہر پارٹی کا قائد ایوان بالا کی نشستوں کو جب تقسیم کرتا ہے تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ جس بندے کو وہ ٹکٹ دے رہا وہ اس کاذاتی طور پر کتناوفا دار ہے ؟ اگر اس نے پارٹی کے فنڈ میں دل کھول کر رقم جمع کرائی ہے تو اس صورت میں تو وہ پھر اس کی آنکھ کا تارا ہے دوسری طرف جن لوگوں کے پاس بے دریغ روپیہ ہے انہوں نے ایوان اقتدار میں آنے کا یہ شارٹ کٹ اختیار کر رکھا ہے کہ پہلے تو وہ اس سیاسی پارٹی کے کرتادھرتوں کیساتھ ذاتی تعلقات اس طرح استوار کر لیتے ہیں کہ وہ اس سیاسی پارٹی کے فنڈ میں موٹی رقم جمع کرا دیتے ہیں اور اس کے باقاعدہ رکن بھی بن جاتے ہیں پارٹی میں وہ اپنی اس سرمایہ کاری یا انوسٹمنٹ کو اس وقت کیش کرتے ہیں کہ جب پارلیمنٹ کے الیکشن کے دن ہوتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے پارٹی فنڈ میں پانچ کروڑ جمع کرائے ہیں تو کل کلاں پارلیمنٹ کا رکن بننے کے بعد ان کو سینکڑوں ایسے مواقع میسر آئیں گے کہ وہ پانچ یا چھ سالوں میں اس رقم سے دو گناہ زیادہ کما لیں گے کہ جو انہوں نے اس کا ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے لگائی ہے لالچ یا بقول کسے ہل من مزید کا لفظ اسی سوچ ہی کیلئے تو استعمال ہوا ہے الیکشن اصلاحات کا ذکر تو ہمارے سیاستدان بہت کرتے ہیں لیکن ان کو عملی جامہ کوئی بھی نہیں پہناتا اور وہ اس لئے کہ ان لوگوں کو یعنی اشرافیہ کو یہی طریقہ کار جو کہ لاگو ہے زیادہ پسند ہے ۔

پارلیمنٹ کا معیاراس وقت تک بلند ہو ہی نہیں سکتا کہ جب تک معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ جو سفید ریش تجربہ کار ہوں اور جن کی عمومی شہرت نہایت اچھی ہو کہ اس ادارے کارکن بننے کا موقعہ نہیں ملے گا انہوں نے ایوان میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر صرف پھبتیاں ہی نہیں اور نہ صرف ڈیسک بجا بجا کر زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے ہیں انہوں نے عوام کی بہتری کیلئے قانون سازی کرنی ہے اور حکومت کو ایسے کاموں سے روکنا ہے کہ جو عوام دوست نہ ہوں 3 مارچ کو جو سینٹ کے الیکشن ہونے جا رہے ہیں ان کیلئے مختلف سیاسی پارٹیوں نے جواپنے امیدوار نامزد کئے ہیں ان پر آپ اگر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو آپ کو یہ جان کر حیرت بھی ہو گی اور دکھ بھی کہ ان میں اکثر امیدوار حددرجہ مالدار ہیں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اس ملک میں ہر پیشے کو اپنانے کیلئے آپ کے پاس تعلیم اور متعلقہ کوالیفیکیشن کا ہونا ضروری ہے مثلاً ڈاکٹری کرنے کیلئے آپ کو میڈیسن یا سرجری کی تعلیم حاصل کرنی ہوتی ہے انجینئرنگ کیلئے بھی مناسب ٹیکنیکل تعلیم کا حاصل کرنا ضروری ہے ۔

انتظامیہ پولیس ‘ عدلیہ غرضیکہ ہر محکمے میں شمولیت یا اسے اپنانے کیلئے آپ کو کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اگرکوئی پیشہ ایسا ہے کہ جو بغیر تعلیم کے آپ جائن کر سکتے ہیں تو وہ یا تو چپڑاسی کا پیشہ ہے اور یا پھر سیاست دان کا چپڑاسی بن کر آپ کو اپنے حاکم ہر حکم ماننا پڑتا ہے لیکن سیاست دان بن کر آپ لاکھوں لوگوں پر حکم چلاتے ہیں اگر ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ اور یا پھر مشکوک ذرائع سے ارب پتی بننے والے افراد سینٹ کے رکن بن جائیں گے تو ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ قوم کیلئے کوئی بھلائی کا کارنامہ سر انجام دیں گے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے وقت آ گیا ہے کہ اس ملک میں انقلابی الیکشن اصلاحات کی جائیں تاکہ پارلیمنٹ جیسے اہم مضبوط اور مقدس ادارے میں صرف وہی افراد جا سکیں کہ جو اس میں بیٹھنے کی واقعی اہلیت اورصلاحیت رکھتے ہوں ایک منچلے کی اس پیش گوئی پر بھی ذرا غور کر لیں کہ ہو سکتا ہے آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ کو سندھ کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھا دیں اور مشاہدحسین کے سینٹ کے چیئرمین بننے پر (ن) لیگ اور پی پی پی دونوں اتفاق کر لیں کہ سیاست میں حرف آخر کہاں ہوتا ہے ؟