234

سی سی آئی کا 35 واں اجلاس

مشترکہ مفادات کونسل کے 35 ویں اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں صوبوں کی نمائندگی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ‘ اجلاس میں صوبوں کیلئے گیس اور بجلی کی پیداوار ‘ تقسیم اور مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں گنے کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل اور ان کو مقررہ قیمت کی بروقت ادائیگی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اقتصادی زونز سے متعلق تجاویز بھی طلب کی گئیں ‘ اجلاس کا ایجنڈا ضروری امور کا حامل ضرور تھا تاہم اس پر حتمی فیصلے ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے اس سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا ایک ایسے وقت میں جب منتخب حکومتیں مرکز اور صوبوں میں اپنی معیاد مکمل کرنے والی ہیں مشترکہ مفادات کونسل اور نیشنل فنانس کمیشن کے لیول پر موجود معاملات کو یکسو کرنا بھی ضروری ہے مرکز اور صوبوں کی سطح پر حکومتوں نے بہت سارے اعلانات کرنے کیساتھ متعدد اقدامات اٹھائے بھی ہیں اَب وقت یہ بھی آگیا ہے کہ اس بات کو بغور دیکھا جائے کہ ان اعلانات اور اقدامات کے نتائج برسرزمین نظر آرہے ہیں۔

یا پھر سب کچھ فائلوں میں بند ہی ہے اس وقت جہاں مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور واجبات کی کلیئرنس اہم تقاضہ ہے تو دوسری جانب دستور میں ترمیم کے بعد مرکز سے صوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں کو آپریشنل کرنا اور ملازمین سے متعلق فیصلے بھی ناگزیر ہیں توانائی بحران ایک توانائی سے بھرپور قابل عمل انرجی پالیسی کا متقاضی ہے جبکہ آبی ذخائر سے متعلق حال اور مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مشترکہ فیصلے بھی ضروری ہیں ‘ ضروری یہ بھی ہے کہ ملکی قیادت اب معیشت کے استحکام کیلئے سنجیدہ فیصلے کرے کسی قوم کیلئے بیرونی قرضوں تلے دب جانا معاشی غلامی کے مترادف ہے وقت آ گیا ہے کہ عوام کے پاس جانے سے قبل عام شہری کی ریلیف کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ان میں ایک مجسٹریٹی نظام کی بحالی بھی ہے جو مارکیٹ کنٹرول کیلئے ناگزیر ہو چکی ہے سیاسی تناؤ میں اُلجھی قیادت کو سینٹ کے انتخابات کا شفاف انعقاد بھی یقینی بنانا ہے ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل جیسے پلیٹ فارمز پر معاملات پرمحض غور کرنے کی بجائے فیصلے کیے جائیں ان فیصلوں کیلئے مرکز اور صوبوں کے ذمہ دار محکموں کو بھی ہوم ورک کرنا ہوگا۔

4500 ملازمین کی مستقلی

خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایمپلائز ریگولر ائزیشن بل کی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں 60 مختلف پراجیکٹس کے ساڑھے چارہزارملازمین مستقل ہو گئے ہیں اس کیساتھ ہی 9 مختلف پراجیکٹس کے16 ہزار اہلکاروں کی مستقلی کیلئے الگ بل لانے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے سرکاری ملازمتوں کیلئے تعلیم کیساتھ عمر کی حد مقرر ہوتی ہے ملازمت میں تاخیر یا پراجیکٹ پر کام کو باقاعدہ ملازمت تصور نہ کئے جانے پر امیدواروں کیلئے گورنمنٹ کی ملازمت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں حکومت کو ہر لیول پر یہ بات ضرور مد نظر رکھنا ہو گی کہ ایمپلائمنٹ پراجیکٹ میں ہو یا مستقل آسامی پر میرٹ کو ہر صورت بالادستی ملنی چاہئے اس کیساتھ سرکاری اداروں میں اصلاحات اور اہلیت کی بنیاد پر حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے ‘ کار سرکار کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے ناگزیر یہ بھی ہے کہ سرکاری دفاتر کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے اور ملازمین کورویے بہتر بنانے کیساتھ خدمات کا معیار بلند کیا جائے ۔