239

وجہ کے متقاضی امور

مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ نے نوازشریف کو تاحیات پارٹی قائد جبکہ شہباز شریف کو قائمقام صدر منتخب کرلیا ہے‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو مستقل صدر بنانے کیلئے جنرل کونسل کا اجلاس 6مارچ کو طلب کرلیاگیا ہے‘ سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ میرا جرم پی سی او حلف سے کم ہے‘ پہلے وزارت عظمیٰ پھر پارٹی صدارت چھینی‘ اب سینٹ الیکشن سے باہر کردیا‘ ایسے عدالتی فیصلوں پر ردعمل دے کر میں نے کیا غلط کیا‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پارٹی صدارت کے فیصلے کرنا عدالتوں کا حق نہیں‘ نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کا فیصلہ عوام اور ہماری جماعت کا ہے‘ وطن عزیز میں اس وقت بعض اہم عدالتی کیسوں اور احتساب بیورو کی کاروائیوں کیساتھ سیاسی تناؤ بھی موجود ہے اور سیاسی قیادت ایک دوسرے کیخلاف بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے‘ اس سب کیساتھ ایوان بالا کے الیکشن کیلئے جوڑتوڑ اور سیاسی رابطوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

عام انتخابات کیلئے بھی تیاریاں جاری ہیں اور تمام جماعتیں اپنے اپنے لیول پر کام میں مصروف ہیں‘دوسری جانب عام شہری اپنی مشکلات کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کا منتظر ہے جبکہ بعض اہم قومی امور اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کو طے کرنے کیلئے سرجوڑے جائیں‘ اس ساری صورتحال میں معیشت کے حوالے سے معروف ویب سائٹ بلوم برگ پاکستانی اکانومی کی حالت کو خراب تر ہوتا بتا رہی ہے‘ یہ وہی ویب سائٹ ہے جس کی جانب سے اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کی رپورٹ پر بھرپور خوشیاں منائی جاچکی ہیں‘ عام انتخابات سے قبل مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتوں کو پوری سیاسی قیادت کیساتھ مشاورت سے اہم امور طے کرنے چاہئیں تاکہ عام شہری بھی ریلیف محسوس کرے‘ ان میں فاٹا سے متعلق معاملات بھی طے کرنے ہیں ‘ایوان بالا میں ترمیمی بل پیش کئے جانے میں تاخیر پر قبائلی اراکین پارلیمنٹ کے متحرک ہونے کی رپورٹ بھی شائع ہوچکی ہے‘ دریں اثناء دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کانام جون میں گرے لسٹ میں شامل کرے گی‘ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی نے خارجہ پالیسی کومزید فعال کرنے کا کہا ہے جس کے تحت علاقائی اور بین الاقوامی دوستوں کیساتھ مزید رابطے کئے جائیں گے‘ اسی طرح کے بعض دیگر امور بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ قومی قیادت ان پر توجہ مرکوز کرے۔

شہری سہولیات؟

صوبائی دارالحکومت میں چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے‘ دوسری جانب اسلام آباد کی پارلیمنٹ لاجز میں 50ہزار چوہوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے‘ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی کو بتایاگیا ہے کہ چوہے ختم کرنے کیلئے سی ڈی اے کو خصوصی منصوبہ بنا کر دیاگیا ہے اور یہ کہ کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو چوہا کنٹرول سیل قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے‘ اجلاس کو بتایاگیا ہے کہ چوہوں کی تعداد متعدد شہروں میں مسئلہ بنی ہوئی ہے‘ مکھی‘ مچھر‘ چوہوں اور دیگر مضر کیڑوں مکوڑوں کا خاتمہ میونسپل سروسز کا حصہ ہے‘ ڈینگی سے ہونیوالے قیمتی جانی نقصان کے بعد ضرورت شہری خدمات کے اداروں میں اس حوالے سے علیحدہ شعبے قائم کرنے کی ہے جوفوری اقدامات کیساتھ پیشگی منصوبہ بندی کاکام بھی سرانجام دیں۔