298

وفاقی کابینہ کا اطمینان؟

وفاقی کابینہ نے بجلی کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے آئندہ موسم گرما اور رمضان المبارک میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی کابینہ نے کھلے سگریٹوں کی فروخت پر پابندی کی منظوری بھی دی ایک ایسے وقت میں جب مرکزاور صوبوں میں حکومتیں اپنے انتخاب کی مدت مکمل کرنے والی ہیں عام شہری کابینہ کے اجلاس سے اپنی ریلیف کے لئے اہم اقدامات کا منتظر ہوتاہے کابینہ کے اجلاس کا ایجنڈا گو کہ بعض اہم معاملات پر مشتمل تھا تاہم بجلی سے متعلق فیصلے نہ صرف براہ راست عوامی ریلیف سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ ملکی معیشت کا انحصار بھی اس پر ہے حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں تاہم اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ اب بھی صارفین بجلی کیساتھ موسم سرما میں گیس کی قلت اور کم پریشر کے باعث اذیت کا شکار رہے ہیں اس وقت ایک جانب بعض فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

تو دوسری طرف متعددفیڈر صرف اس وجہ سے بند رکھے جاتے ہیں کہ ان سے منسلک علاقوں کے لوگ بجلی کا بل بروقت نہیں ادا کرتے اور یہ کہ کنڈوں کے باعث لائن لاسز ہیں اب اس میں بل جمع کرانے والے صارفین کو سزا کیوں دی جاتی ہے اور لائن لاسز ان بل جمع کرانے والوں کی غلطی کیوں ہیں اس کا مکمل جواب تاحال سامنے نہیں آرہا خبررساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے بجلی کا گردشی قرضہ ادا کرنے میں ناکامی پر اربوں روپے کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا ہے اس مقصد کے لئے1.97روپے فی یونٹ کے دوسرچارج عائد کردیئے گئے ہیں اس سے پہلے2015ء میں بھی یہی پریکٹس کی گئی تھی اس سب کے ساتھ بجلی اور گیس کے ترسیلی نظام میں خرابیاں اپنی جگہ ہیں جن کے باعث لوڈشیڈنگ سے ستائے صارفین بجلی کے کیس میں خصوصاً شکایات کے ازالے میں گھنٹوں بجلی کی بندش برداشت کرتے ہیں حکومت بجلی بحران کے حل کی خواہاں ضرور ہے تاہم یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ملک میں آبی ذخائر کے حوالے سے سیاسی قیادت کو یکجا کرکے متفقہ فیصلے کی کوئی سعی نہیں کی گئی فاٹا اصلاحات کا کام مکمل ہوا نہ ہی این ایف سی ایوارڈ جیسا کیس طے ہوپایا‘سیاسی تناؤ اپنی جگہ ضرورت اہم معاملات پر بڑے فیصلوں کی ہے جو بڑے مسائل کے حل کے لئے بنیاد فراہم کرینگے۔

گراں فروشوں کے خلاف کاروائی

محکمہ خوراک نے گراں فروشی پر قابو پانے کے لئے بڑی کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کے لئے خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کردی گئی ہے قابل اطمینان ہے کہ اس مرتبہ رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر طلب کی گئی ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی دارلحکومت میں مارکیٹ کنٹرول کرنے کے لئے چند روزہ چھاپے جو اہم بازاروں تک ہی محدود ہوں قطعاً ناکافی ہیں ان چھاپوں کے ساتھ سب اچھا ہے کی رپورٹ دینا بہتری کی جانب حکومتی اقدامات کو بے ثمر کرنے کے مترادف ہے اب کی بار بڑی مہم میں تمام سٹیک ہولڈر محکموں کو شامل کیا جائے تو مثبت نتائج مل سکتے ہیں بصورت دیگر صرف ایک محکمہ کے وسائل اور افرادی قوت اتنے بڑے آپریشن کے لئے قطعاً ناکافی ہے۔