205

سپریم کورٹ نے سیاسی شخصیات کی تصویر والے اشتہارات پر پابندی عائد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سیاسی شخصیات کی تصویر والے اشتہارات پر پابندی عائد کردی۔

چیف جسٹس پاکستان نے گزشتہ روز پنجاب حکومت کی لیپ ٹاپ اور ہیلتھ کارڈ اسکیم پر وزیراعلیٰ شہبازشریف کی تصویر کا از خود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کے پی حکومت نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپر کتنے اشتہارات دیئے؟ یہ بتائیں کن اشتہارات پر عمران خان اور پرویز خٹک کی تصاویر ہیں؟ 

سیکریٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ ٹی وی، اخبار، ریڈیو اور سوشل میڈیاپراشتہارات دیئے گئے، سوشل میڈیا کو کسی قسم کی ادائیگیاں نہیں کی جاتیں جب کہ وزیراعلیٰ یا عمران خان کی تصویر اشتہارات میں دینے کی پالیسی نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اخبارات کے اشتہار کوبند نہیں کررہے، اخبارات کےاشتہارات کی ایک کیٹگری کوبند کررہے ہیں، سیاسی تصویر والے اشتہار بند ہوں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے سیکریٹری اطلاعات کے پی کے سے استفسار کیا کہ گزشتہ ایک ماہ میں اشتہارات کی مد میں کتنی رقم خرچ کی؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں 20کروڑ 47 لاکھ روپےکے اشتہار دیئے گئے اور پی ٹی آئی حکومت میں اب تک ایک ارب 63 کروڑ روپےکے اشتہارات دیئے۔

سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ کے پی صوبے کی پالیسی کے تحت زیادہ تراشتہارات ذاتی تشہیر کے لیے نہیں ہوتے، اشتہارات عوامی سہولیات اور منصوبوں سے متعلق معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہمیں بیان حلفی دیں کہ کسی لیڈر شپ کی تصویر نہیں لگائی گئی، اگر جھوٹا بیان حلفی دیا تو ایکشن لیں گے کیونکہ آپ ریاست کے ملازم بھی ہیں، وہ اشتہار لے کر آئیں جن پر عمران خان اور پرویز خٹک کی تصویر تھی، سیاسی شخصیات کی اشتہارات پر تصاویر ہوئیں تو ذمہ دار آپ ہوں گے۔

چیف جسٹس نے خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات سے ایک سال کے اشتہارات کی تفصیل طلب کرتے ہوئے کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ سیکریٹری اطلاعات نے عدالت کو کل 3 ماہ کی تفصیلات دینے کی یقین دہانی کرائی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہا تھا کہ سیاسی مہم کی اجازت نہیں دیں گے،  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور عمران خان کی تصاویر لگانابند کریں، اشتہارات کی مہم پرلگنے والا پیسہ قومی خزانے کا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں اشتہارات سے کوئی غرض نہیں، ذاتی تشہیرنہیں ہونی چاہئے، بے نظیر بھٹو، وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو کی تصویر بھی نہیں آنی چاہیے۔

سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انشاء اللہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے، کوشش کریں گے 1970 کے بعد اس مرتبہ شفاف الیکشن ہوں۔