286

ٹیم‘پارٹی‘ این جی اویاادارے کی کارکردگی

میری پیدائش سے قبل ہی میرے والد جماعت اسلامی کے رُکن بن چکے تھے‘ چنانچہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا‘ ہر طرف لٹریچر ہی لٹریچر تھا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا مودودی کے قلم اور منہ سے نکلنے والا ہر لفظ میں پڑھ چکا ہوں۔ جب میں دوسری جماعت میں تھا تو میں ہر ماہ کی پہلی سے دس تاریخ تک چندے کی کتاب لے کر بازارکلاں سے خیبر بازار تک جماعت کے ہمدردوں سے اعانت جمع کرتا تھا جو ایک دو روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ پانچ روپے ہوتا تھا۔ ان سب اعانتوں کا اندراج ہوا کرتا تھا۔ مہینے کے آخر میں چند ایک بیوائیں اور یتیم جو میرے والد کو معلوم تھے‘ ان کے پاس آٹے کی بوری‘سلائی مشین یا گھی کا ڈبہ پہنچانا میری ذمہ داری ہوتی تھی وہ بھی اس لئے کہ اس مدد پر میرے والد یا جماعت اسلامی کا نام نہ آنے پائے۔ مرحوم فضل جلال صاحب اپنی ساری جمع پونجی سے کتابیں خریدتے اور گھنٹہ گھر کے پاس ایک بالاخانہ کرائے پر لے کر لائبریری میں رکھتے۔ خود ہی لوگوں کو جاری کرتے اور پھر واپس لینے بھی خود جاتے۔یہ تو جماعت کا ایک رُخ تھا۔ دوسرا رخ آپس کا بھائی چارہ تھا۔ شادی بیاہ ہو یا ویسے ہی مل بیٹھنے کا بہانہ ‘ضرور نہ صرف جماعت کے ساتھیوں کو بلایا جاتا‘ ان کے گھر والوں کے بھی آپس میں تعلقات بنتے بلکہ ساتھ ساتھ اپنے پرائے ہمسائیوں کو بھی دعوت دی جاتی۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود ان کی دیانت داری شک و شبہ سے بالاترہوتی۔ ایوب خان کے بی ڈی سسٹم میں کونسلروں کا الیکشن تھا تو اندرشہر کے تمام باسی جمع ہوکر مرحوم فضل معبود کے پاس آئے اور ان کو بلامقابلہ منتخب کیا۔وقت گزرتا گیا اور نہ صرف سیاست میں بلکہ روزمرہ تعلقات میں بھی خود غرضی بڑھتی گئی۔ دوستوں کا تعلق تو چھوڑیں بچوں اور والدین کا تعلق صرف اور صرف ذاتی مفاد پر رہ گیا ہے۔

سیاست میں تو یہ حال ہے کہ ایک ہی پارٹی میں مفاد کی خاطر کئی گروہ بن گئے ہیں۔ اعتماد کا یہ حال ہے کہ کسی رکن پریقین نہیں کہ وہ پارٹی کے نامزد اُمیدوار کو ووٹ ڈال دے گا۔ اگر کسی پارٹی کا نظم مضبوط ہے تو سربراہ کی مرضی ہے کہ محض ایک سیٹ کیلئے کبھی ایک پارٹی سے اور کبھی دوسری پارٹی سے اتحاد کرے۔ باقی کارکنان کا کام صرف یہ رہ جاتا ہے کہ بُرا ہو یا بھلا ‘اوپر کے ہر فیصلے کادفاع ہی کرتے رہیں ‘خواہ چہرہ خجالت کے پسینے سے تر ہی کیوں نہ ہو۔کسی نئے لیڈر کی آمد پر خوشیاں منائی جاتی ہیں خواہ اس سے قبل انہیں مختلف بُرے ناموں سے پکارا گیا ہواور انہیں صرف گالیوں کا مستحق ہی گردانا گیا ہو‘یوں سیاست سے تو اخلاقیات کا جنازہ کب کا اُٹھ چکا۔ خاندانوں میں بھی صورتحال کچھ زیادہ قابل ترجیح نہیں۔ بچوں کے والدین سے تعلقات‘ بہن بھائیوں کے معمولی مفادات پر تنازعات اور چچازاد تو پختون خوا میں دشمن ہی گردانے جاتے ہیں۔یہ سیاسی پارٹیاں ہوں یا خاندان‘ سب ایک ٹیم کی طرح ہوتی ہیں۔ موجودہ مادی دور میں سب سے اہم کاروباری تعلقات ہوتے ہیں‘ ہر ادارہ چاہتا ہے کہ وہ ہر سال ترقی کا گوشوارہ بلند سے بلند رکھے۔ کسی زمانے میں ان اداروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین کو شوق سے بھرتی کیا جاتا تھا۔ اب وہ سارے تصور خاک ہوئے۔ سرٹیفیکیٹ اور ڈگری کی اہمیت اب کاروباری دنیا میں بہت کم رہ گئی ہے‘ جب سے نئی صدی میں کالج اور یونیورسٹی سے ڈراپ ہونے والے ذہین لوگ ارب پتی بن گئے ہیں، لوگوں کو سمجھ آگئی ہے کہ مروجہ تعلیم کامیاب زندگی کی ضمانت ہر گز نہیں تو پھر وہ کیا اصول ہیں جو کسی ٹیم میں نئے ممبران کو شامل کرنے کے لئے اختیار کرنے چاہئیں یا کسی ٹیم کے ارکان کے ساتھ کیسا سلوک ہو کہ وہ آپس میں ایک گھڑی کے پرزوں جیسی روانی کے ساتھ کام کرسکیں۔گُوگل کا دفتر اسوقت دنیا بھر میں لاکھوں کارکنوں کی جنت سمجھا جاتا ہے۔

اس ادارے کے تقریباً ایک لاکھ کل وقتی ملازمین ہیں۔ گوگل نے چند سال قبل ایک پراجیکٹ ’ارسطو‘ کے نام سے شروع کیا جس کا مقصد وہ اصول معلوم کرنے تھے جو ایک ٹیم کی کامیابی کے ضامن بن سکتے ہیں۔ ان ایک لاکھ ملازمین کا ڈیٹا جمع کرنے اور ان کاتجزیہ کرنے سے ان کو ابھی تک واضح طور پر کوئی ایسے اشارے نہیں مل سکے کہ اچھی ٹیم بنانے کیلئے ایک ہدایت نامہ لکھا جاسکے۔تاہم ایک با ت نہایت واضح تھی کہ اگر کارکنان ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مسائل شیئر کرسکیں اور بڑے چھوٹے کی تمیز کے بغیر روزمرہ کے معاملات پر بحث کرسکیں تو ٹیم ورک بہتر طریقے سے کام کرتی ہے۔ جب ایک ٹیم میں سارے فیصلے ایک ہی شخص کرتا ہے تو وہ ٹیم بہت جلد جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔ غیر ارادی طور پر ٹیم کا لیڈر اپنے گرد ایسے ہی لوگوں کو جمع کرتا رہتا ہے جو اُسی کی سوچ رکھتے ہیں‘ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ نئی سوچ پر پہرے بیٹھ جاتے ہیں‘اگر سب کارکن ایک ہی طرح سے سوچ رہے ہوں تو لازماً ان کے حل بھی ایک ہی طرح کے ہوں گے‘ اسی طرح کا ایک تجربہ دو ٹیموں پر کیا گیا۔ ایک ٹیم میں ایک ہی سوچ کے حامل افراد تھے اور دوسری ٹیم میں مختلف الخیال لوگ۔ دونوں ٹیموں کو ان کی روزمرہ زندگی کا ایک ایک مسئلہ حل کرنے کو دیا گیا۔ ایک ہی سوچ کے حامل ٹیم کے سب ممبران نے ایک ہی حل پیش کیا جبکہ دوسری ٹیم کے ارکان ہرقسم کے حل سامنے لے کر آئے۔اب تو لیڈر کا نام بھی مختلف معانی میں استعمال ہورہا ہے ۔ اسے اب زیادہ سے زیادہ رابطہ کار یا کو آرڈینیٹر کہاجاسکتا ہے۔ اور اسکا رول بھی مختلف ہونا چاہئے جو کہ ٹیم کے مختلف ارکان کے درمیاں رابطے کا کام ہے نہ کہ ان پر حکم چلانا۔ اگلا الیکشن سر پر ہے‘ اگر کسی پارٹی کو کارکردگی دکھانی ہے تو اسے اپنی ٹیم میں ہر قسم کے ارکان شامل کرنے ہوں گے‘ اس شخصی غلامی سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اس تصور کو بھی ڈسٹ بن میں پھینکنا ہوگا کہ اچھا لیڈر ہمیں دنیا میں حکمران کردے گا۔ اب وہ دن گئے کہ ایک حکمران بیس اور تیس برس حکومت میں رہے۔ اب نظام درست کرنے کا وقت ہے۔ ہم سبھی اس وقت کسی نہ کسی صلاحیت کے مالک ہیں جن کو مربوط کرنا ایک اچھے رابطہ کار کا منتظر ہے۔