507

موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن؟

سپریم کورٹ نے آرٹیکل62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے اسکے ساتھ ہی سابق وزیراعظم نوازشریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین تاحیات نااہل قرار پا گئے ہیں‘عدالت عظمیٰ نے اس اہم کیس کا فیصلہ 14فروری کو محفوظ کیاتھا‘ سپریم کورٹ نے پاناماکیس سے متعلق 28جولائی 2017ء کے ایک بڑے فیصلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا جسکے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے‘ اسی طرح 15دسمبر2017ء کو تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دیاگیا‘ ان فیصلوں کیساتھ ہی اس بحث کاآغاز ہوا کہ نااہلی کی مدت کتنی ہوگی‘اس شق کی تشریح کے حوالے سے 13مختلف درخواستوں پر سماعت کی گئی تاہم سابق وزیراعظم نوازشریف نے نااہلی کی مدت کی تشریح کیلئے عدالتی کاروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ‘عدالت کے متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب تک عدالتی ڈکلیریشن موجودہے نااہلی برقرار رہے گی‘اطلاعات ونشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے عدالتی فیصلے کے فوری بعد اپنے ردعمل میں کہاکہ یہ اسی طرح کاایک فیصلہ ہے کہ جس طرح کے فیصلے میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی ‘ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ عدالتوں کا احترام ہونا چاہئے‘ ہمیں فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے آئین کے آرٹیکل 62کی حمایت کی تھی اور وہ اسی میں پھنس گئے ہیں‘عدالتی فیصلے پر قاعدے کے مطابق نظرثانی کی درخواست کیلئے گنجائش موجود ہوتی ہے‘ وطن عزیز میں عدالتوں کے بڑے فیصلوں میں ایک فیصلے کے تحت سابق وزیراعظم نوازشریف کی برطرف کی گئی حکومت بحال بھی کی گئی تھی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ملک کی سیاسی فضاء میں گرماگرمی بڑھ گئی ہے‘ یہ سب اپنی جگہ سہی ‘ اسوقت تبدیلی کاا یک بڑا عمل ہمارے سامنے ہے‘ نگران حکومتوں کا قیام اور عام انتخابات کا مرحلہ آنا ہے‘ اس کیساتھ معیشت کے استحکام اور عوامی ریلیف کیلئے بڑے اقدامات بھی اٹھانا ہیں ایسے میں سیاسی قیادت کو تدبر کیساتھ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے فیصلے کرنا ہونگے۔

موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن؟

پشاور پولیس کی بغیر رجسٹریشن ونمبر پلیٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کیخلاف مہم میں 7ہزار 625موٹرسائیکلیں پکڑی گئی ہیں‘ ایس ایس پی آپریشنز کا یہ کہنا قابل اطمینان ہے کہ اس مہم کا مقصد جرائم پر قابو پانا ہے‘ کسی بھی شہر میں بغیر رجسٹریشن اور نمبرپلیٹ گاڑیوں کاہونا قاعدے قانون کیخلاف ہے‘ جس پر کاروائی ضروری بھی ہے تاہم اس کاروائی کیساتھ رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس کے اجراء کیلئے انتظامات پر نظرثانی بھی ضروری ہے‘ اس بات کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے کہ قانون کی پابندی کرنیوالے شہریوں کو خدمات کی فراہمی بھی آسان ہو‘ ہمارے ہاں یوٹیلٹی بل بروقت جمع کرانے والوں کو طویل قطار میں کھڑا ہوناپڑتا ہے تو رجسٹریشن کیلئے جانے والوں کو دستاویزات کی تیاری میں مشکلات پیش آتی ہیں رجسٹریشن کا عمل اگر کم ازکم ایک ماہ کیلئے کیمپ دفتر کی سطح پر لے آیاجائے‘ جگہ جگہ کاؤنٹر بنادیئے جائیں‘ موبائل سروس دی جائے تو شہری آسانی کیساتھ رجسٹریشن حاصل کرسکیں گے‘ اس سہولت کے باوجود کوئی رجسٹریشن سے گریز کرے تو اس کیخلاف سخت کاروائی ناگزیر ہوگی۔