78

نواز شریف، مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدلیہ مخالف اور توہین آمیز تقاریر کو نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر پر دائر درخواستوں کی سماعت کی اور کچھ دیر سماعت کے بعد فل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا۔

بعد ازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے پیمرا کو عدلیہ مختلف تقریر سے متعلق زیر التوا درخواستوں کا 15 روز میں فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت دیگر کوئی بھی شخص عدلیہ مختلف تقریر کرے گا تو پیمرا اس کی نشریات کو روکے گا۔

عدالت عالیہ کے عبوری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پیمرا نگرانی کا عمل سخت کرے اور کوئی بھی توہین آمیز تقریر یا پروگرام نشر نہیں ہونا چاہیے۔

کیس سماعت کے دوران اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ’میرا کام عدلیہ مخالف تقاریر کا معاملہ ریکارڈ پر لانا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت آزادی اظہار رائے کا حق ہے اور آئین کا آرٹیکل 19 اے درست تنقید کا حق دیتا۔

جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ فیئر تنقید کا آئینی حق کسی قانون و ضابطے سے مشروط ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر کوئی کھڑا ہو کر عدالتی معاملات اور فیصلوں کو فیئر تنقید کے نام پر تنقید کا نشانہ بنائے، کوئی وکیل یا ماہر بات کرے تو سمجھ بهی آتا ہے لیکن ہر کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، آئین کے آرٹیکل 19 اے کے علاوہ آرٹیکل 68 بهی پڑھ کر سنائیں۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ آرٹیکل 68 میں تو یہاں تک پابندی ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں اور معاملات پر پارلیمنٹ میں بهی بات نہیں ہو سکتی۔

اس سے قبل فل بینچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی نقوی نے پیمرا کے ایگزیکٹو ممبر اور قائم مقام چیئرمین اشفاق جمانی سے استفسار کیا کہ پیمرا عدلیہ مخالف اور توہین آمیز تقریر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، جس پر اشفاق جمانی نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا کے پاس اختیار ہے کہ توہین آمیز تقریر کو روک سکے۔

پیمرا کے وکیل سلمان اکرام راجا کا موقف تھا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت ‘آزادی اظہار کا حق’ سب کے پاس ہے تاہم ریکارڈ شدہ پروگرام یا تقریر کی تو نگرانی کی جا سکتی ہے لیکن براہ راست ہونے والی تقریر میں عدلیہ مخالف یا توہین آمیز جملے بولیں جائیں تو پیمرا اسے روکنے سے قاصر ہے، جس پر عدالت نے پیمرا کے ایگزیکٹو سے استفسار کیا کہ پیمرا کے پاس کتنے سکینڈز ہوتے ہیں کہ توہین آمیز تقریر کو نشر سے روک سکیں۔

پیمرا کے قائم مقام چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ 10 سے 20 سکینڈز کا دورانیہ ہوتا ہے اور اسی انتہائی مختصر وقت میں مواد کے توہین آمیز ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

اس حوالے سے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پیمرا 10 سے 20 سکینڈز میں فیصلے لے کر نشریات روک دے، جس پر پیمرا کے وکیل نے کہا کہ تمام تر معاملات پیمرا کو ارسال کردی جائیں کیوں کہ پیمرا ایک خود مختار ادارہ ہے جو قانون کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ پیمرا نے 10 سے زائد زیر التواء درخواستوں پر کارروائی نہیں کی تو اب کیسے کارروائی عمل میں لائے گا۔

اس دوران نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے فل بینچ کی کارروائی روکنے کی استدعا کی جس پر جسٹس مظاہر ولی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ آپ تشریف رکهیں، آپ کی باری آئے گی تو آپ کو بهی سنیں گے۔

جسٹس عاطر محمود نے ریمارکس دیئے کہ ڈوگر صاحب، آپ اس کیس میں ابهی فریق نہیں بنے، نہ ہی آپ کو نوٹس ہوا ہے، جس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ یہ مفاد عامہ اور قومی سطح کا کیس ہے، وقت کے ضیاع کی نشاندہی کرنا بطور وکیل میری ذمہ داری ہے۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ عدالت نے آپ کی نشاندہی سے نہیں چلنا، جس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے۔

تاہم فل بینچ کی ہدایت پر نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔

علاوہ ازیں اے کے ڈوگر عدالت سے استدعا کی کہ میری درخواست ہے کہ بینچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی فل بینچ سے الگ ہو جائیں تاہم عدالت نے جسٹسں مظاہر علی اکبر نقوی کو بینچ سے الگ ہونے کی درخواست بھی خارج کردی۔

9 اپریل 2018 کو لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی درخواستوں کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم کے وکیل نے بینچ کے جج جسٹس عاطر محمود پر اعتراض اٹھایا تھا۔

علاوہ ازیں 13 مارچ کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کو عدلیہ مخالف تقاریر کرنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے 15 مارچ تک جواب طلب کیا تھا۔

یاد رہے کہ 29 جنوری 2018 کو لاہور ہائی کورٹ میں بھی سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کے خلاف توہینِ عدالت کی متفرق درخواست دائر کی گئیں تھیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف درخواست پر پیمرا سے ریکارڈ طلب کیا تھا۔

عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف درخواست

عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ مریم نواز کی جانب سے جلسے، جلوسوں اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر کے عوام کو اکسایا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ان رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا ہے جبکہ ان تقاریر کو نشر کرنے سے روکنے کے لیے پیمرا کچھ نہیں کررہا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ پیمرا بھی عدلیہ مخالف تقاریر اور بیانات نشر نہ کرنے کے حوالے سے ناکام ہو چکا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف بیان بازی کرنے پر نواز شریف، مریم نواز، طلال چوہدری اور رانا ثناءاللہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پیمرا کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

فل بینچ کا قیام

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی درخواستوں کی سماعت کے لیے فل بینچ 3 مرتبہ تحلیل ہوچکا ہے جس کے بعد چوتھی مرتبہ بینچ تشکیل دیا گیا۔

پہلی مرتبہ تشکیل دیئے گئے بینچ میں جسٹس شاہد بلال حسن کو شامل کیا گیا تھا تاہم ان کی ملتان بینچ میں منتقلی کے بعد بینچ تحلیل ہوگیا تھا اور ان کی جگہ جسٹس شاہد مبین کو نئے بینچ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

تاہم دوسرے بینچ کا حصہ بننے والے جسٹس شاہد مبین نے ذاتی وجوہات پر اس کیس میں شرکت سے معذرت کرلی تھی اور بینچ تحلیل ہوگیا تھا۔

اس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاور علی نے تیسری مرتبہ نیا بینچ تشکیل دیا تھا اور جسٹس شاہد مبین کی جگہ جسٹس شاہد جمیل خان کو اس میں شامل کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے بھی ذاتی وجوہات پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔

جسٹس شاہد جمیل کی معذرت کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ان کی جگہ جسٹس مسعود جہانگیر کو فل بینچ میں شامل کیا تھا۔