90

اچھنبے کی بات

کچھ لوگوں کی سیاست کی بنیاد ہی اس پر استوار ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آئے کہ اس سے سنسنی پھیلائی جا سکے‘جب کلاشنکوف اس ملک میں متعارف ہوئی تو ہمارے صوبے میں اکثرلوگوں نے اس ہتھیار کو اپنے گلے کا ہار بنایا۔ کوئی خوشی کا موقع ہویاکوئی آپس کی دشمنی کا جواب ہو‘ کسی سیاسی لیڈر کا جلسہ ہویاکسی گھر میں کوئی خوشی کا اہتمام ہو‘ لوگوں نے کلاشنکوف کااستعمال ضرور کرناتھا کلاشنکوف توایک مہنگا ہتھیار تھا مگر اسکی گولیاں مقابلتاً بہت سستی تھیں‘ چنانچہ جن لوگوں کے ہاتھ کلاشنکوف افغان جہاد کے دوران لگی یا انہوں نے کسی نہ کسی طرح سے حاصل کر لی اس کو ہر خوشی کے موقع پر چلانا ایک رواج بنا لیا۔کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ کا ایک نقصان جو سامنے آیا وہ یہ کہ جب اسکی گولی فضا سے واپس آئی تو کئی ایک جانیں لے گئی‘ ہمارا صوبہ اس کا گواہ ہے کہ بہت سی جانیں اس کلاشنکوف کی گولیوں کی فضا سے واپسی کا نشانہ بنیں ‘ کہنے کا مطلب یہ کہ جو بھی گولی ہوائی فائرنگ کے وقت ہوا میں جاتی ہے وہ ہوا میں تحلیل نہیں ہو جاتی بلکہ وہ واپس زمین پرلوٹتی ہے اور اگر وہ کسی ویران جگہ پر نہ گرے تو وہ کسی کو بھی زخمی کر سکتی ہے پستول یا شارٹ گن کی گولیاں تو اپنا زور واپسی تک ختم کر دیتی ہیں مگر کلاشنکوف کی گولی البتہ واپسی پر بھی نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور اسکی کئی مثالیں موجودہیں‘۔

پچھلے روز پستول کی دو گولیوں کے سکے ہمارے محترم جسٹس اعجازالاحسن صاحب کے گھر میں پائے گئے‘ ایک ان کے گھر کے اندر دیوار کے قریب سے اور ایک ان کے گیٹ قریب سے‘بس پھر کیا تھا ایک ہنگامہ برپا ہو گیا کہ جناب جسٹس کے گھر پر کسی نے فائرنگ کر دی‘ ایک گولی کا سکہ رات کو ملا تھا اور دوسرا صبح کواسلئے قیاس کر لیا گیا کہ فائرنگ کرنے والے نے رات کو بھی فائرنگ کی ہے اور دن کو بھی فائرنگ کی ہے‘ یہ کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کہاں سے ہوئی اور کس طرح ہوئی ‘کیا کسی نے موٹر سائیکل سے فائرنگ کی یا کسی نے پیدل آ کر فائرنگ کی‘ اب یہ علا قہ ایساہے کہ جہاں ہر وقت بنگلہ کے باہر اور اندر پولیس اور رینجرز تعینات رہتے ہیں۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کی بھی رہائش ہے جہاں پر بھی ہر وقت پویس کا پہرہ رہتاہے‘ اب یہ تو ممکن ہی نہیں کہ اس علاقے میں کوئی بھی شخص کسی بھی طرح سے فائرنگ کرے اور محافظوں کی نظروں میں نہ آئے‘ اب نہ تو کسی بھی محافظ نے کسی فائرنگ کی آواز سنی اور نہ کسی کو آتے جاتے دیکھا مگر خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ جناب جسٹس کے گھر پر فائرنگ ہوئی‘ اب اس کو معنی پہنانے والے بھی توپورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور بغیر تصدیق کے بات کو پھیلانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ تحریک ا نصاف اور شیخ رشید صاحب کی توپوں کے دہانے کھل گئے اور مسلم لیگ ن کے عمائدین نشانے پر رکھ لئے گئے‘ یہاں تک کہ تحریک انصاف کے سپوک پرسن نے تو بلا واسطہ سعد رفیق اور راناثنا اللہ کو ملوث قرار دے دیا۔ اب دیکھنے والوں نے یہ نہیں دیکھا کہ بات کیا ہوئی مگر اس پر تجزیئے پیش کرنے شروع کر دیئے۔

ان میں ایک تجزیہ نگار کہ جو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کبھی اسمبلی میں بھی آیا تھا مگر دوسری دفعہ اُسے ٹکٹ نہ مل سکا تو وہ ہر بات پر مسلم لیگ ن کو ملوث کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ کام مسلم لیگ ن والوں کا ہی ہے‘ اور اس کے لئے اس نے بہت پہلے کی مثالیں لائیں اور ثابت کیا کہ فائرنگ مسلم لیگ ن والوں نے ہی کی ہے۔ اور صاف ظاہر ہے کہ یہ فائرنگ ججوں کو دھمکانے کے لئے کی گئی ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے لیڈران کے خلاف فیصلے نہ دیں۔ بغیر تحقیق کے خبروں کو پھیلانا ویسے تو کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے مگر ہم جتنے مسلمان ہیں وہ تو معلوم ہی ہے‘مگر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں اور خصوصاً ایک ٹولے نے تو یہ ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ بات کچھ بھی ہو اس میں مسلم لیگ ن کو ملوث کرنا بہت ضروری ہے‘ افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے مگر ہم افواہوں کو پھیلانا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں اور ہر بات پر ہم نے فریق ثانی کو ملوث کرنا اپنا فرض بنا لیا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اگر سچ سامنے آئے تو بھی ہم اپنے کئے پرپشیماں ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔ بات کچھ بھی ہو ہم سپریم کورٹ اور فوج کے پیچھے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آگے نہیں کہ سامنے سے تو گولی بھی آ سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس واقعے کی غیر جانبدار انکوائری کریں اور سائنسی طریقے سے اس واردات کا کھوج لگائیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں ملک بھر میں جج صاحبان کی سیکورٹی فول پروف بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہو نے پائیں۔