70

غلطیاں اور لغزشیں

غلطیاں اور لغزشیں انسانوں سے ہی سر زد ہوتی ہیں کیونکہ وہ گوشت پوست کے لوتھڑے ہوتے ہیں ایک مرتبہ جب گناہ کبیرہ میں ملوث ایک مجرم کو ہجوم میں موجود ہر فرد نے سنگسار کرنے کیلئے اپنے اپنے ہاتھ میں پتھر اٹھائے تو حضرت عیسیٰ نے کہا کہ صبر صبر اس گنہگار کو صرف وہی شخص پتھر مارے گا کہ جس نے خود کبھی گناہ کبیرہ نہ کیا ہو‘ یہ سنتے ہی ہجوم میں موجودسب افراد نے اپنے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے پتھر واپس زمین پر پھینک دئیے‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی فرد پر الزام لگانے سے پہلے اگر الزام لگانے والا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھے تو شاید وہ الزام تراشی سے باز آ جائے وطن عزیز کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کیخلاف دشنام طراز یاں بھی کر رہے ہیں اور نہایت ہی ناروا قسم کے الزامات بھی لگا رہے ہیں حالانکہ اپنے مخالفین پر جس قسم کے الزامات وہ لگا رہے ہیں اس قسم کے خبائث میں وہ خود بھی مبتلا ہیں ان کا اپنا دامن بھی ان قباحتوں سے آلودہ ہے دوسروں کو آئینہ دکھانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ اپنا چہرہ بھی آئینے میں دیکھنے کی تکلیف اٹھائیں تو ان کو اپنے چہروں پر بھی کئی بدنما داغ نظر آئیں ‘خلوت کے تقدس کا احترام اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید بات ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے کیمرے کی آنکھ نے کئی پردہ نشینوں کے کرتوتوں کا پردہ چاک کر دیا ہے اور خرقہ سالوس میں ملبوس کئی سیاسی رہنمااب عوام کو ننگے دکھائی دے رہے ہیں اگر کوئی کام اپنے وقت پر نہ ہو تو اس کے مطلوبہ نتائج پھر نکلتے نہیں آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ جونہی دہشت گردوں کو پھانسی کے تختے پر لٹکانے کا عمل تیزی سے شروع ہوا ملک میں بم دھماکوں کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ پرانی ضرب المثل ایک مرتبہ پھر درست ثابت ہو گئی کہ بگڑے ہوئے لوگوں کا علاج صرف اور صرف ڈنڈے میں ہی ہے۔

چھوٹے بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے والوں کو فوری طور پر سزا نہیں دی جارہی تب ہی تواس گھناؤنے جرم کی شرح میں کمی واقع نہیں ہو رہی‘کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ زینب کے کیس کو اتنا زیادہ لٹکا کیوں دیا گیا ہے ؟اس طرح دوسرے کئی قسم کے جرائم مثلاً مشال کیس بھی کافی لمبا کر دیا گیا ہے ہمارے بعض وکلاء کرام کو اللہ ہدایت دے کہ وہ قانونی موشگافیوں کے بل بوتے پر اس قسم کے سنگین مقدمات کو اتنا زیادہ طولانی کرنے سے گریز کیا کریں آخر اخلاقیات بھی کوئی شے ہوتی ہے ؟ حکومت نے اچھا کیا کہ پاکستان میں ایک ترقیاتی پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کو واپس چین بھیج دیا کہ جو قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ‘چینیوں نے ابھی یہاں ایک لمبے عرصے تک رہنا ہے اور قانون شکن لوگوں کو اگر درست سگنل نہ گیا تو ان کے ہاتھوں اس ملک کے قانون کو توڑنے کے واقعات کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں گوادر کے علاقے میں ترقیاتی عمل زور و شور سے جاری ہے۔

جس بات کی البتہ ضرورت ہے وہ یہ کہ گوادر کی مقامی آبادی کو بالخصوص اور بلوچستان کے دوسرے رہائشیوں کو اس عمل میں سو فیصد شامل کیا جائے ان کو سٹیک ہولڈر بنایا جائے اور وہ تب ہی ممکن ہے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ نوکریاں دی جائیں تاکہ ان کو احساس محرومی نہ ہو وہاں ملازمتوں پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے یہ نہ ہو کہ سوئی گیس والاحال ہو کہ سوئی گیس جہاں سے نکلتی تھی اس علاقے کے باسی تو ایک لمبے عرصے تک اسکی افادیت سے محروم رہے البتہ اس کا فائدہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہنے والے اٹھاتے رہے ‘ عقلمند اسے کہتے ہیں کہ جو ایک مرتبہ ٹھوکر کھا کر وہ غلطی دوبارہ نہ کرے کہ جس کی وجہ سے اس نے ٹھوکر کھائی ہو مشرقی پاکستان کو ہم نے اس لئے اپنے ہاتھ سے گنوایا کہ ہم نے وہاں کے باسیوں کو انکا جائز حق نہ دیا انہیں سیکنڈ ریٹ سٹیزن تصور کیا اور جب ان میں نفرت اور احساس محرومی کا لاوا پک گیا تو وہ ایساپھٹا کہ اسے پھر ہمارے لئے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔