149

فاٹا اصلاحات‘ مشاورت میں تاخیر کیوں؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے عین اس وقت جب انکی مدت اقتدار ہفتوں تک محدود رہ گئی ہے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کا اعلان کر دیا ہے دیرآیددرست آید کے مصداق اب ضرورت ان اصلاحات کو برسرزمین لانے کی ہے قومی اسمبلی کے اجلاس سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خطاب میں موجود چیدہ چیدہ نکات کے مطابق اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمدموجودہ اسمبلی کی مدت ہی میں ہوگا فاٹا میں ایجنسی ڈیویلپمنٹ فنڈ ختم کر دیا گیابلدیاتی انتخابات اکتوبر2018ء سے پہلے منعقد ہونگے وزیر اعظم اس بات کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں کہ قومی مالیاتی کمیشن کا نیاایوارڈلایاجارہا ہے جبکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے انتخابات کا ٹائم فریم مشاورت سے دینے کی یقین دہانی بھی کرائی جا رہی ہے مہیا تفصیلات کے مطابق فاٹا ریفارمز اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے اہم فیصلے ہوئے ہیں وزیر اعظم ریفارمز سے متعلق سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا عزم کرتے ہیں تادم تحریر اس حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی فاٹا ریفارمز میں اب تک کی تاخیر سیاسی رابطوں اور درکار مشاورت میں سست روی کا ہی نتیجہ ہے۔

جمہوری نظام میں اختلاف رائے کوئی بری بات نہیں سٹیک ہولڈرز کی مشاورت ہر شعبے میں اصلاحات کیلئے بہتر نتائج ہی دیتی ہے فاٹا کے کیس میں ایک تو ٹائم شیڈول انتہائی طویل دیا گیا دوسرا اس ضمن میں پائے جانیوالے تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کیلئے سیاسی رابطوں کا کوئی خصوصی اہتمام نہیں کیا گیا اب بھی مشاورت کے عمل میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں اس سب کیساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کی منظوری پر کیا ہمارے محکمے اختیارات کی منتقلی اورانتظامی امور سنبھالنے کیلئے تیار ہونگے ہمارے دفتری سسٹم کی سست روی تو آج تک آئینی ترمیم کے بعدمرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور ڈیپارٹمنٹس کی تبدیلی کا کام مکمل نہ کر سکی تو فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کس طرح ممکن ہوگا بہتر یہی ہے کہ حکومت فوری طورپر مرکز‘ خیبرپختونخوا اور فاٹا میں کام کرنے والے محکموں کے درمیان باہمی رابطہ ممکن بنانے کیساتھ تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کام کرنے کیلئے ٹائم فریم دے بصورت دیگر اتنے مختصر وقت میں ثمرآور نتائج کا حصول مشکل ہوگا۔

اربوں کے ٹیکس اور تنخواہ دار طبقہ

ایوان بالا میں حزب اختلاف نے2018-19ء کے بجٹ کو اشرافیہ کا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے دوسری جانب تنخواہ دار طبقہ اور پنشنرز بھی اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں تنخواہ دار طبقے کا یہ بھی گلہ ہے کہ حکومت نے خود 5اپریل کو دی جانیوالی ایمنسٹی سکیم میں سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر ٹیکس عائد نہ کرنے کا اعلان کیا ابھی اس اعلان پر عملدرآمد شروع ہی نہیں ہوا کہ ایک یوٹرن لیتے ہوئے قومی بجٹ میں پھر سے ٹیکس عائد ہوگیا ہے تاہم اس کی شرح مختلف ہے وزارت خزانہ کے مطابق 4 سے8 لاکھ روپے پر1000جبکہ 8 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر 2000 روپے ٹیکس ہوگا حکومت کے ماہرین اسکے نفاذ کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ 12لاکھ روپے کی حد ناقابل ٹیکس ہونے پر گوشواروں کی تعداد کم ہو جائیگی ہمارے ہاں بنیادی مسئلہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کی بجائے ٹیکس دہندگان کی چمڑی اتارنا ہی ہے بالکل اسی طرح جیسے بجلی کا بل دینے والے کو اضافے اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کنڈا ڈالنے والا ہر فکر سے آزاد رہتا ہے وزارت خزانہ کے ذمہ داروں سے یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ کیاایمنسٹی میں سرمایہ داروں کو دی گئی کوئی سہولت بھی واپس لی گئی ہے یا نہیں۔