143

کڑی نگرانی کی ضرورت

محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ پشاور کے بی آر ٹی منصوبے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو انکے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے برطرفی کی وجہ ریپڈبس منصوبے کو بروقت پایہ تکمیل تک نہ پہنچانا بتائی گئی ہے دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ای او کی برطرفی کے بعد ٹرانزٹ پشاور کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کیساتھ بی آر ٹی کے چیف فنانشل آفیسر اور جی ایم آپریشنز نے بھی اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے ہیں وزیر اعلیٰ کے ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ برطرف اور مستعفی ہونیوالے آفیسرز پراجیکٹ کی بروقت تکمیل میں سنجیدہ نہیں تھے اور باربار تاریخیں دے رہے تھے منصوبے پرکام اور دی گئی ڈیڈ لائن پر تکمیل میں تکنیکی معاملات پر بحث میں پڑے بغیر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی حکومت اور خود وزیراعلیٰ اس کی بروقت تکمیل اور اسے پشاور کیلئے ثمرآور نتائج کا حامل بنانے میں پورا خلوص رکھتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے ترجمان کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ پراجیکٹ وقت پر مکمل ہوگا اس مقصد کیلئے حکومت کو ایک ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی جس میں ضرورت پڑنے پر دیگر محکموں سے تکنیکی مہارت اور افرادی قوت بھی طلب کی جا سکتی ہے اس سب کیساتھ اوور سائٹ کا انتظام ضروری ہے ہمارے ہاں نگرانی کا کام فائلوں میں لگی رپورٹس پر ہوتا ہے اور ذمہ دار ادارے سب اچھا ہی لکھتے رہتے ہیں یہ بات صرف بس پراجیکٹ تک محدود نہیں متعدد شعبوں میں حکومت کے مثبت اور ٹھوس اقدامات اس بات کے متقاضی ہیں کہ انکے نتائج کا جائزہ لیا جائے اس بات کو بھی پلے باندھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست میں عام شہری کو تبدیلی کااحساس عملی نتائج ہی سے ہوتا ہے اگر وہ شفاخانے میں دھکے کھاتارہے تواسے ہیلتھ سیکٹر میں اصلاحات کیلئے جاری اعلانات سے کوئی تسلی نہیں مل سکتی یہی شہری آلودہ فضا میں سانس لے اور گندگی کے بکھرے ڈھیر دیکھتا رہے اسے بلاک سیوریج سسٹم ملے اور آلودہ پانی پینے کو ملے تو اسے میونسپل سروسز کے حوالے سے میگاپراجیکٹس سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ٹریفک پولیس اہلکار اگر ٹریفک وارڈن بن جائے تواس وقت تک تبدیلی کا احساس نہیں ہوتا جب تک سڑکوں پر ٹریفک کلیئر نہ ہو یہی صورت دیگر سیکٹرز میں بھی ہے۔

توجہ طلب مسا ئل

وطن عزیز میں جاری سیاسی تناؤ اور گرما گرمی کے شور تلے دبے اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے 9 ماہ میں مرکزی بینک سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے ‘ انگریزی روزنامے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے پہلے9 مہینوں میں914.2 ارب روپے مرکزی بینک سے لئے گئے جبکہ جاری سال یہ حجم2.309 کھرب روپے ہے اسی طرح کمرشل بینکوں سے جولائی2017ء سے مارچ 2018 ء تک کے عرصے میں959.5 ارب روپے لئے گئے جوشرح میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی رقم سے3.10 فیصد زیادہ ہے ‘ بیرونی قرضے‘ ملک کے اندر گردشی قرضے ‘ توانائی کا بحران‘آبی ذخائر کی قلت اور شہری سہولیات کا فقدان اپنی جگہ ہے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں مسلسل مشکلات کا شکار ہیں منتخب حکومتیں رخصت ہونے والی ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ آخری چند روز میں درپیش حقائق کا صحیح معنوں میں ادراک کرنے کے ساتھ موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ عام شہری کو ریلیف مل سکے۔