262

بھرپور جواب

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ امریکہ یا کسی اور ملک کی جانب سے جارحیت کا بھرپور جواب دیاجائیگا، یہ بھی کہہ دیاگیا ہے کہ وطن عزیز کے بندوبستی علاقوں میں ڈرون حملہ ہوا تو مار گرائیں گے‘ وزیر دفاع خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ امریکہ سے غیر معمولی حرکت کا خدشہ ہے، پاکستان ہر متوقع شرارت کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے اور کسی قسم کی فضائی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیاجائیگا، وزیر خارجہ خواجہ آصف کہتے ہیں کہ پاکستان خوفزدہ ہے نہ ہی تھا، دوسری جانب پاک فضائیہ کو چوکس رہنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں، دریں اثناء پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی کلیئر کیاگیا کہ قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا، یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں کسی صورت نہیں لڑ سکتے‘ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر بند گلی میں پھنس چکا ہے۔

، بیت المقدس سے متعلق قرار داد میں مخالفت دیکھ کر امریکی صدر بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہے ہیں، اس بوکھلاہٹ میں وہ تمام ارضی حقائق اور پاکستان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنی امدادی رقم سے متعلق بے سروپا بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں‘ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 16سال میں ا مریکہ کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 23ارب ڈالر کی بلنگ کی ہے جس میں سے 14ارب ڈالر ملے ہیں اور 9ارب ڈالر سے زائد کی رقم اب بھی واجب الادا ہے، ایسے میں 23ارب کے فنڈز کا دعویٰ تو اپنی بنیاد ہی نہیں رکھتا، اس سب کیساتھ امریکی پالیسی سازوں کا یہ خیال بھی ہے کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہوجائیگا، تویہ سوچ بھی غلط ثابت ہوئی ہے خودپاکستان کی قومی قیادت کا جواب بھی بھرپور اور موثر ہے‘ بدلتے منظر نامے کا تقاضا ہے کہ سیاسی گرماگرمی میں ایک دوسرے کی مخالفت اپنی جگہ، ہم سب کو یک زبان ہوکر پورے قومی وقار کو یقینی بناتے ہوئے امریکہ سمیت پوری دنیا کو اپنی اپنا اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ دکھانا ہوگا۔

اعداد وشمار اور عوام

وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وطن عزیز کی معیشت کے حوالے سے اعداد وشمار پیش کئے، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 19.7ارب ڈالر ہیں، حکومت آئی ایم ایف پروگرام بھی نہیں لے رہی اور حکومت صحت مند معیشت چھوڑکرجانا چاہتی ہے، معیشت کے استحکام کیلئے حکومت کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں تاہم اس بات سے انکار بھی نہیں کیاجاسکتا کہ جس معیشت کے استحکام کی بات ہو رہی ہے وہ کھربوں روپے کی قرضدار ہے، اس کا امپورٹ بل زرمبادلہ کے ذخائر گھٹا دیتا ہے، اس کا تجارتی خسارہ بڑھتا گیا ہے، اس اکانومی میں مہنگائی کا گراف روزبروز اوپر جارہا ہے، یہاں شہری بیرونی اداروں کی ڈکٹیشن پر بنے بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنے کے باوجود اندھیروں میں رہتے اور سردی کی شدت میں گیس کی کمی کے باعث مشکلات برداشت کرتے ہیں، گرانی کے ہاتھوں کچن کا خرچ نہیں چلتا، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے اقدامات کے فوائد عوام تک پہنچانے کا ہی انتظام کرلے تو کافی ہے۔