175

عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین پر 12بڑے حملے

پشاور۔خیبر پختونخوا سمیت صوبائی دارالحکومت پشاور میں جاری دہشتگردی کی لہر میں اب تک عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین اور رہنماؤں پر دہشتگردی کے 12 بڑے حملے رونما ہوچکے ہیں جس میں ایک سینئر صوبائی وزیر سمیت درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے جبکہ ٹارگٹ کلنگ اور چھوٹے نوعیت کے 2درجنوں سے زائد واقعات ہوئے اعداد و شمار کے مطابق 2007 میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما وقار احمد خان کے گھر پر راکٹ حملہ ہوا جس میں ممبر صوبائی اسمبلی کے بھائی سمیت کئی افراد مارے گئے ۔

2 اکتوبر 2008میں چارسدہ میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کی گاڑی پر خودکش حملہ ہوا جس میں 4 افراد جاں بحق ہوئے اس کے بعد اسفندر یار ولی کے حجرہ میں دھماکہ ہوا اس میں کئی افراد لقمہ اجل بنے یکم دسمبر کو اے این پی رہنما شمشیر علی کو سوات میں قتل کیاگیا ٗ22 اپریل 2010 کو چارسدہ میں اے این پی رہنما اورنگزیب خان کو ہدف کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد اس وقت کے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے بیٹے کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے دیر میں پارٹی رہنما شیر علی کو قتل کیاگیا اس کے بعد صوابی میں تحصیل ناظم سمیت 3افراد کو مارا گیا 27 فروری 2012کو نوشہرہ میں پارٹی ریلی میں دھماکہ ہوا جس میں 7افراد جاں بحق ہوئے 22 دسمبر 2012کو قصہ خوانی خودکش دھماکہ میں اس وقت کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کو دھماکہ کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد 16اپریل 2013 کو یکہ تو ت میں ہی دھماکہ میں اے این پی کے 17کارکن نشانہ بنے اور پھر چند روز قبل یکہ توت میں ہی خودکش حملہ میں بشیر احمد بلور کے صاحبزادے ہارون بلور کو نشانہ بنایا اور دھماکہ میں ہارون بلور سمیت 22افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔