128

ڈونلڈ ٹرمپ کی کریڈ یبلٹی

صدر امریکہ نے پاکستان کودھمکی دینے کے تین دن بعد اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسکی سوا ارب ڈالر کی فوجی اور مالی امداد منسوخ کر دی اب امریکہ پاکستان تعلقات کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک باتونی شخص نہیں بلکہ وہ جو کہتا ہے اسے کرکے بھی دکھا تا ہے سال رواں کے پہلے ہفتے میں ٹرمپ نے پاکستان کے علاوہ ایران‘شمالی کوریا اور فلسطین کو بھی دھمکیاں دی ہیں مہنگائی اوربیروزگاری کیخلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں ایرانی مظاہرین سے صدر امریکہ نے کہا کہ آگے بڑھو میں تمہارے ساتھ ہوں‘ شمالی کوریا کو ایک مرتبہ پھر ٹرمپ نے وارننگ دی کہ وہ اسے تباہ و برباد کر دیگا ہفتے کے دن علی الصبح بھیجے جانے والے کئی ٹویٹس کہ جنہیں امریکی میڈیا نے Tweet Storm کہا ہے میں صدر ٹرمپ نے فلسطین کی امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے یوں ڈونلڈٹرمپ نے پے در پے ٹویٹس بھیج کر نئے سال کا آغاز اسی گھن گرج سے کیا کہ جس سے انہوں نے پچھلے کا اختتام کیا تھاوائٹ ہاؤس سے ہر روز نازل ہونے والے ان گرجدار پیغامات کو ایک دنیا حیرت و استعجاب سے سن رہی ہے ایک سال تک انہیں بھگتنے کے بعد اب بزبان شاعر انکے بارے میں کہا جا سکتا ہے ۔

ساون کا نہیں بادل دو چار گھڑی برسے
برکھا ہے یہ بادوں کی برسے تو بڑی برسے
امریکہ کے اندر اور باہر ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین ہر صبح انتظار کرتے ہیں کہ سفید محل کے عقب سے نکلنے والے سورج کی پہلی کرنیں ان کے لئے کیا پیغام لیکر آتی ہیں صدر صاحب دفتر آنے سے پہلے ہی دو چار ٹویٹ داغ کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں اسکے بعد انکی مصروفیتیں انکا ہاتھ تھام لیتی ہیں‘ دن دھیرے دھیرے گذرنے لگتا ہے ایسے میں سہمے ہوے حریف سکھ کا سانس بھرتے ہیں اور انکے چہروں پر خوف کی سمٹتی ہوئی پرچھائیاں یہ کہتی نظر آتی ہیں
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں

آج کل امریکی دانشور اس سوال پر بھی غورو فکر کر رہے ہیں کہ دنیا انکے صدر کی دھمکیوں کا اعتبار بھی کرتی ہے یا نہیں اور اگر بعض ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹس کو اہمیت نہیں دیتے تو کیا وہ اسکے وزیروں اور مشیروں کو بھی ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں جب ملک کا سربراہ ہی قابل اعتبار نہ ہو تو اسکے وزیروں اور سفیروں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے ایک ممتاز امریکی دانشور Richard Hass نے ٹرمپ کی گھن گرج کے بارے میں کہا ہے This is our commander in chief, think about it.یعنی یہ ہمارا کمانڈر ان چیف ہے ذرا سوچئے اسکے بارے میں‘عام طور سے امریکی صدر کے کنج لب سے پھوٹنے والے ہر لفظ کو ایک پالیسی بیان سمجھا جاتا ہے اور انکے اظہار مدعا کے بعد انتظار کیا جاتا ہے کہ انکا فرما ن کس رنگ و روپ میں سامنے آتا ہے اسکے بعد وقت اگر گذر جائے اور کچھ ہوتا ہوانظر نہ آئے تو یہ تاثر قائم ہونے لگتا ہے کہ صدر صاحب کا غصہ بجھی ہوئی راکھ کی مانند تھا اس سے دامن بچا کر گذر جانا ہی بہتر ہے اسکے برعکس یہ غیض و غضب اگر کسی شعلے کی طرح بھڑک اٹھے تو پھر اسکے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش داں میں کیا کیا کچھ
موسم ا تنا سر د نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

امریکی حکمت کاروں کی اپنے ملک کی ساکھ کے بارے میں تشویش اپنی جگہ مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال کے عرصے میں اپنے وفادار ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے اتنا کچھ کیا ہے کہ اب انکی شعلہ مزاجی کو خالی پیلی دنگل اور لفظوں کی جادوگری نہیں کہا جا سکتا اب تک لاکھوں تارکین وطن کو گرفتار کر کے نکال دیاگیاہے سپریم کورٹ نے بالآخرسات اسلامی ممالک کو ویزوں کے اجراء پر پابندی کے قانون کی توثیق کر دی ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ اور لاطینی ممالک سے کئے ہوئے تجارتی معاہدوں کو منسوخ کرنے علاوہ ماحولیاتی محاذ پر باراک اوباما کی قابل ذکر پیش رفت کو روک دیا ہے اسکے علاوہ اس نے نیٹو اتحادیوں سے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کا بوجھ خود اٹھائیں اسرائیل کے دارالخلافے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان بھی ہو چکا ہے پاکستان کی سوا ارب ڈالر کی امداد پر پابندی لگا دی گئی ہے صدر امریکہ آئے روز ایران کیساتھ کئے ہوئے جوہری معاہدے پر بھی اپنی برہمی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

ایک سال کے قلیل عرصے میں اتنا کچھ کر دینے کے باوجود انکے مخالفین ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ ڈونلد ٹرمپ نے امریکہ کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا ہے اسکا ازالہ ایک طویل عرصے تک نہ ہو سکے گا اپنے موقف کی تائید میں وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے دارالخلافے کو منتقل کرنے کی قرارداد پر امریکہ کے خلاف پڑنے والے چودہ ووٹوں کے علاوہ جنرل اسمبلی میں اسی مسئلے پر 128 ممالک کی مخالفت کا جواز بھی پیش کرتے ہیں ایک سابقہ امریکی سفارتکار Nicholas Burn نے کہا ہے This 128 to 9 vote with 35 abstentions was a humiliating rebuke of the United States یعنی یہ 128 مخالف اور پینتیس غیر جانبدار ووٹ امریکہ کی شرمناک تضحیک ہیں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اب امریکہ کو کسی بھی امن مذاکرات میں ایک ثالث کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کئی مرتبہ ایک پاگل شخص کہنے کے علاوہ بین البراعظمی میزائلوں کے پے در پے تجربے کر کے امریکنوں کے دل میں یہ خوف بٹھا دیا ہے کہ اب شمالی کوریا کے میزائل انکے شہروں پر گر سکتے ہیں پاکستان کی امداد کی معطلی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرانسیسی سفارتکار Francois Heisberk نے کہا ہے کہ اب پاکستان کے چین اور روس کیساتھ مضبوط اتحاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے پاکستان اس طرف کوئی فوری پیش رفت کرتا ہے یا نہیں اسے فی الحال یہ فکر دامن گیر ہے کہ امریکہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے رکوانے کے علاوہ اسکے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بھی کر سکتا ہے امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے اگرچہ کہ پاکستان کی عسکری قیادت کیساتھ گفت و شنید جاری رکھنے کی بات کی ہے مگر اسے نفسیاتی جنگ کا ایک حربہ سمجھتے ہوئےBetter safe than sorry والے امریکی مقولے پر عمل کرنا چاہئے ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی حریف اسکی کریڈیبلٹی کو مشکوک سمجھنے میں حق بجانب ہو سکتے ہیں مگر اسلامی ممالک کو اسکی دھمکیوں کونظر انداز کرنے کی بجائے اپنے دفاع کا بندوست کرنا چاہئے۔