130

تمت بالخیر

بلوچستان اسمبلی میں اچانک ہی بھونچال آیا۔ بیٹھے بٹھائے ساڑھے چار سال بعد اراکین کو خیال آیا کہ ان کیساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور انکا چنیدہ وزیر اعلیٰ انکی طرف توجہ نہیں دے رہا ‘یہ خیال اس وقت آیا کہ جب سینٹ کے انتخابات میں تقریباً ایک ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے‘یہ وقت بغیر وزیر اعلیٰ کو نکالے بھی گزر سکتا تھا مگر خدا جانے کہاں سے تاریں ہلیں کہ وزیر داخلہ کو خیال آیا کہ استعفیٰ دے کر وزیر اعلیٰ کو کمزور کیا جائے اور پھر دوسروں سے مل کر ان کو نکال باہر کیا جائے‘ ایک آئینی کام ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے مگر اس کے لئے وقت کتنا ہے‘ کیا کوئی دوسرا نیا وزیر اعلیٰ صرف چند ماہ کے لئے اپنے نام کیساتھ سابقہ لگانے کے لئے آئے گا‘اس میں کوئی تک نظر نہیں آ تی مگر جمہوریت ہے اور ایسے کام جمہوریت میں جائز گنے جاتے ہیں لیکن یہ چال بہت سے شکوک کو بھی جنم دیتی ہے کہ ایک لمبے عرصے سے مسلم لیگ سے وابستہ گھرانہ ایک لیگی وزیر اعلیٰ کے خلاف اٹھ کھڑا ہو گا۔ جیسے یہ چال چلی گئی سرفراز بگٹی صاحب کو پارٹی میں شمولیت کے بھی فون آنے لگے‘ ( ایک پرانے مسلم لیگی کے لئے یہ باعث شرم ہے) خیر وہ تو خیر ہو گئی کہ وزیر اعلیٰ صاحب نے خود ہی استعفیٰ دے دیا اور نو کانفیڈنس سے بچ گئے‘ انہوں نے ٹھیک کہا کہ جب میرے اپنے ہی میرے خلاف ہو گئے ہیں تو پھر کرسی سے چمٹے رہنا کسی بھی طور مناسب نہیں۔ اب بات ہے نئے وزیر اعلیٰ کے سامنے آنے کی اور اس کے بعد اس رویئے کی کہ جس کا سب کو خدشہ ہے کہ آنے والا آتے ہی اسمبلی ختم کرنے کی کوشش نہ کر دے اور اس طرح ایک بحران جنم لے کہ جس کی وجہ سے سینٹ کے الیکشن نہ ہو سکیں۔

‘اس لئے کہ آصف زرداری صاحب نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مسلم لیگ ن سینٹ میں واضح برتری اس صورت میں حاصل کرے گی کہ اگر وہ اس الیکشن تک زندہ رہی‘اب اگر ان کے سٹیٹمنٹ کو اور بلوچستان اسمبلی کی ہلچل کو اور جناب ڈاکٹر طاہر القادری کی موومنٹ کے اوقات کا جائزہ لیں تو لگتا یہی ہے کہ یہ ساری کڑیاں سینٹ کے الیکشن کو ٹھکانے لگانے کی ہیں۔ اللہ کرے کہ ہمارا شک غلط نکلے مگر حالات جس طرف جا رہے ہیں اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آصف زرداری کی سیاست کو پہنچنے کے لئے سیاست میں پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔مگر اسی دن کہ جس دن وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنی تھی اسی دن اور اسی وقت کہ جب یہ تحریک پیش کی جانی تھی دہشت گردوں نے گھنٹی بجا دی۔ اب جب بلوچستان میں حکومت نہ ہونے کے برابر ہے تو ان دنوں میں (میرے منہ میں خاک ) کیا کیا نہیں ہو سکتا۔ او ر یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ایک مسلم لیگی گھرانے کو ایک دوسری پارٹی یہ دعوت دے کہ وہ مسلم لیگ کو چھوڑ کر ان کی پارٹی میں آ جائے‘ہم نے دیکھا ہے کہ اصل مسلم لیگی کسی بھی صورت میں اپنی پارٹی کو نہیں چھوڑتے۔مسلم لیگ کو چھوڑنے والے جو سابقہ دنوں میں پارٹیا ں بدلتے رہے ان کی تاریخ کو دیکھ لیں کہ وہ بنیادی طور پر مسلم لیگی نہیں تھے‘ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان حالات میں ہماری جمہوریت سینٹ کے انتخابات تک پہنچ پائے گی ۔ ہماری دعا ہے کہ جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے نہ اتر پائے۔

اس لئے کہ ان دنوں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے منصب سے ہٹ کر کام کرنے شروع کر دیئے ہیں عوام نے عدالتوں سے تنگ آ کر اپنے فیصلے پنچایتوں سے کروانے شروع کر دیئے ہیں لوگوں نے چوروں ڈاکوؤں کو خود سزائیں دینی شروع کر دی ہیں ‘ سٹریٹ کرائم کے مرتکب افراد کو گاڑیوں کے نیچے کچلنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ادھر پولیس کا چوکوں میں گاڑیوں کو دیکھنا اور راستے دینا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ ایسا سپاہی ایک آسان ترین نشانہ ہے اس پر کوئی بھی اور کسی وقت بھی اپنا پستول آزما سکتا ہے اور آزما رہا ہے‘سائلین عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں اور چیف جسٹس لوگوں کو صاف پانی اور ہسپتال دینے میں مصروف ہیں‘ اب شاید انتظامیہ عدالتوں کا نظام سنبھال لے اسلئے کہ جو لاکھوں کے حساب سے مقدمات عدالتوں میں پینڈنگ ہیں اور لوگ بیس بیس اور تیس تیس سال سے عدالتوں میں جوتیاں چٹخا رہے ہیں ان کو بھی تو کسی نے انصاف دلانا ہے نا۔