بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا اصلاحات پر حکومتی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار،محمود خان اچکزئی

فاٹا اصلاحات پر حکومتی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار،محمود خان اچکزئی


اسلام آباد۔ حکومتی اتحادی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے فاٹا اصلاحات پر حکومتی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی پاکستان زندہ باد کہتے ہیں مگر 2 فیصد اراکین پارلیمنٹ کو بھی قومی ترانہ نہیں آتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قبائل کی ر ائے کے بغیر کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ قابل قبول نہیں ہو گا۔

اس امر کا اظہار جمعہ کو قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا ۔ قومی اسمبلی میں ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کر کے فاٹا اصلاحات پر بحث کرائی گئی۔ جمعہ کو جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر سیر حاصل بحث کے لئے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کی جائے۔ سپیکر نے کہا کہ شیخ آفتاب کا بھی فون آیا تھا، تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ اگر مشترکہ اجلاس بدھ کو ہونا ہے تو فاٹا پر بحث کے لئے دن آگے بھی بڑھائے جا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے تحریک پیش کی کہ فاٹا پر بحث کرانے کے لئے وقفہ سوالات، توجہ مبذول نوٹسز سمیت ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کی جائے۔ ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی۔ ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کی بین الاقوامی اور قومی اہمیت ہے۔

اس مسئلہ کو موجودہ حالات میں اٹھانا درست فیصلہ نہیں ہے، کوئی اچھا سمجھے یا برا، ہمیں سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے محمود خان اچکزئی نہیں کہا کہ فاٹا کے مستقبل پر مولانا فضل الرحمن نے جو موقف اختیا رکیا ہے اس کی حمایت و تائید کرتا ہوں۔ پختون اور افغان نہ دہشت گرد ہیں نہ فرقہ پرست ہیں وہ وطن پرست ہیں اگر ان کی مادر وطن کو چھیڑا جائے گا تو جواب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو ہم سب کہتے ہیں کہ پاکستان زندہ باد مگر قومی اسمبلی کے اراکین میں سے 2 فیصد کو بھی قومی ترانہ نہیں آتا اگر یقین نہیں آتا تو ان سے سن لیں۔ میں نہ پاگل ہوں اور نہ لوگوں کو تنگ کرتا ہوں، تاریخی حقائق سب کے سامنے ہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے قبائل سے جو وعدہ کیا تھا اس کی آج تک پاسداری نہیں کی گئی۔

پہلے بھارت اور پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ فاٹا میں ان کے عوام کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو گا۔ اب فاٹا میں اقدامات سے قبل وہاں کے عوام کی مرضی معلوم کریں، فیصلے نہ تھونپیں۔ فاٹا میں سینکڑوں برس سے آج تک کوئی اکیلی راہ چلتی خاتون کو آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے نہ اس کا تصور کر سکتا ہے۔ فاٹا میں کوئی خاتون پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ عورت فاٹا میں مکمل طور پر محفوظ ہے۔ پاکستان پر سچ پر پابندی لگائی جا رہی ہے کسی کو اچھا لگے یا برا ہم سچ بولنا اور سننا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن نے گذشتہ روز فاٹا کے بارے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ سندھ، بلوچستان اور کئی علاقے افغانوں کی کالونی تھے اور اس بارے میں متعدد کتابیں موجود ہیں۔ کشمیر ،سندھ اور بلوچستان کے علاقے انگریزوں نے افغانوں سے چھینے تھے۔ ریاست دیر، سوات، چترال اور دیگرقبائلی علاقے آزاد تھے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو دو تین آپشن دیئے جائیں اور مشاورت کا وسیع تر میکانزم وضع کیا جائے۔ ان کے تشخص کا خیال رکھا جائے۔ وہ اپنے رسم و رواج اقدار پر سمجھوتہ نہیں کرینگے اور کسی کو انہیں مرہون منت رکھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے تاریخ کے حوالے سے بات کی ہے۔ تاریخ کے مطابق تو پاکستان بھی برٹش کا حصہ رہا ہے اور اب پاکستان ایک آزاد ملک ہے فاٹا اس کا حصہ ہے۔ اچکزئی صاحب کہتے ہیں کہ فاٹا پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی۔ یہ عالمی معاملہ بن جائے گا فاٹا ہمارا اپنا معاملہ ہے یہ عالمی معاملہ کیسے بن سکتا ہے۔ اگر محمود خان اچکزئی آپ عالمی معاملہ بنائیں گے تو بنے گا بدقسمتی سے ہمارے کچھ لوگ، اپنے لوگ اندرونی معاملات کو عالمی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر قومی اسمبلی میں فاٹا پر بحث نہیں ہو گی تو کہاں بات ہو گی۔ پاکستان آزاد ملک ہے، فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے جس پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری جو بھی کہیں واضح کرتا ہوں کہ فاٹا کے عوام کی مرضی کے بغیر کوئی حل قابل قبول نہیں ہو گا۔ عالمی حالات کو سامنے رکھیں۔ کئی معاہدے بھی ہیں۔، فاٹا کے عوام کی مرضی کے بغیر ہمیں کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ فاٹا جیسے اہم مسئلہ پر عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ قبائلی علاقوں کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت ہے، ان حالات میں ان کو زیر بحث نہیں لانا چاہئے تھا۔ ہم سب نے ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا حلف اٹھا رکھا ہے، کوئی اچھا سمجھے یا برا ہمیں سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ کسی علاقے کے ماضی اور حال کا پتہ نہ ہو تو اس کے مستقبل کی بات نہیں کی جا سکتی۔ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز جو کچھ کہا میں اس کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ سب سے بدترین الزام غداری کا ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ فاٹا کے علاقے انگریز نے پٹھانوں سے چھینے ہیں۔ انہوں نے مختلف تاریخی کتابوں کے حوالے دیتے ہوئے فاٹا کی تاریخی حَثیت بیان کی اور کہا کہ ماضی میں بھی فاٹا کے کئی علاقے آزاد ریاستوں پر مشتمل تھے، ان پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون دہشت گرد ہیں نہ فرقہ پرست، یہ محب وطن لوگ ہیں۔ فاٹا کو ہم نے خود روس کے خلاف میدان جنگ بنایا۔ فاٹا کا مستقبل فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پاکستان کے نعرے لگانے والوں کی اکثریت کو قومی ترانہ بھی نہیں آتا۔ قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کی فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تقریر پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ فاٹا ہمارے ملک کا حصہ ہے۔ اس کو بین الاقوامی ایشو کہنا درست نہیں ہے۔ قومی اسبلی پاکستان کے داخلی مسئلے پر بات کر سکتی ہے۔ جب اپنے لوگ اسے بین الاقوامی مسئلہ بنائیں گے تو بنے گا۔ فاٹا ہمارے ملک کا حصہ ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فاٹا میں فاٹا کے عوام کی مرضی کے بغیر ہمیں کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ شازیہ مری نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ محمود خان اچکزئی کے خیالات سے ہم اتفاق نہیں کرتے تاہم اپنے خیالات کا حق ان کو جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور بامعنی ترقی کے خواہاں ہیں۔ کس کو ترانہ آتا ہے اور کس کو نہیں، ہمیں اس حوالے سے چیلنج نہ کیا جائے۔ میر منور تالپور نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے بلوچستان اور سندھ کے حوالے سے جو تاریخ بیان کی ہے ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ سندھ اور بلوچستان افغانستان کی کبھی کالونیاں نہیں رہیں۔ پی ٹی آئی کے فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی قیصر جمال نے فاٹا اصلاحات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے شورش زدہ علاقوں میں تباہ حال صحت اور تعلیم کا انفراسٹرکچر فوری تعمیر کیا جائے۔ فاٹا اصلاحات صرف اعلانیہ نہ ہوں، ان پر عمل درآمد بھی کیا جائے۔