Home / پاکستان / سپریم کورٹ ؛ پاناما لیکس کیس میں تحریک انصاف جماعت اسلامی کے وکلاء اور.شیخ رشید کے دلائل مکمل

سپریم کورٹ ؛ پاناما لیکس کیس میں تحریک انصاف جماعت اسلامی کے وکلاء اور.شیخ رشید کے دلائل مکمل

اسلام آباد۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی کے وکلاء اورشیخ رشید نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں جبکہ وزیر اعظم کے وکیل نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا ہے ان کے دلائل مکمل ہونے پر وزیراعظم کے بچوں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکلاء دلائل دینگے۔نعیم بخاری کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام شواہد اوردستاویزات پیش کردیئے ہیں،عدالت سے وزیر اعظم کی نا اہلی کا فیصلہ چاہتے ہیں ۔امید ہے سپریم کورٹ کیس کا فیصلہ جلد سنائے گی، عدالت نے شیخ رشید کی طرف سے پاناما معاملہ پر از خود نوٹس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ اس معاملہ میں درخواستیں عدالت کے سامنے آچکی ہیں،جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے دائر درخواست ترمیم کیلئے واپس دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے سینیٹر سراج الحق کا موقف بھی ضرور سنا جائے گا ۔عدالت نے ابزرویشن دی ہے کہ عدالت میں بڑے چھوٹے کی بات نہ کی جائے ہماری نظر میں سب برابر ہیں، سیاسی مخالفین تقسیم ہوں تو انصاف وہی لگتا ہے جو حق میں ہو۔ مرضی کا فیصلہ نہ آئے تو بے انصافی لگتا ہے۔ پی ٹی آئی کو لندن فلیٹس تک محدود رہنے کا کہا تھا۔

لیکن ہم کسی کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کر سکتے،صادق و امین کا ایشو اس عدالت میں مختلف مقدمات میں آیا۔کچھ مقدمات میں شہادتیں ریکارڈ بھی ہوئیں۔ لیکن یہ مقدمہ 184/3 کے تین کے تحت سن رہے ہیں۔ یہ کیس باقی مقدمات سے مختلف ہے۔۔بدھ کوجسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے پانچ رکنی بینچ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹرسراج الحق، شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈوو کیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔نعیم بخاری نے کہاکہ مریم نواز کے پاس آف شور کمپنیوں کے لیے پیسہ نہیں تھا، آف شور کمپنیوں کے لیے مریم کو رقم نوازشریف نے دی۔ شریف خاندان کو ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا ہر کام قانون کے مطابق ہوا۔پاناما لیکس کیس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ ابھی بھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ لندن فلیٹس کب خریدے گئے؟ شریف فیملی کے مطابق انہیں فلیٹس 2006 میں منتقل ہوئے، درخواست گزار کے بقول شریف خاندان نے فلیٹس 1993سے 1996 میں خریدے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے جب سماعت کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل جاری رکھے۔نعیم بخاری نے عدالت کے سامنے نواز شریف اور ان کے بچوں کے بیانات میں تضاد کی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ملکیتی سرٹیفیکیٹ( بیئرر سرٹیفکیٹ) پرائز بانڈ نہیں ہوتا، جس کے پاس ہو، آف شور کمپنی اس کی ہوگی اور قانون کے مطابق بیئرر سرٹیکفیٹ سے متعلق آگاہ کرنا ضروری ہے۔

ساتھ ہی شریف خاندان کو سرٹیفکیٹ کا قطری خاندان کے پاس ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرنا ہوگا۔اس موقع پر جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ غالبا یہ قانون 2002 میں آیا تھا، جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ کیا اس قانون کا اطلاق پہلے سے قائم کمپنیوں پر بھی ہے؟نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ بلیک لا ئڈکشنری کے مطابق زیرکفالت وہ ہوتا ہے جس کے اخراجات دوسرا برداشت کرے، مریم نواز کے پاس آف شور کمپنیوں کے لیے پیسہ نہیں تھا اور یہ رقم انہیں نواز شریف نے فراہم کی۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے مریم کو کروڑوں روپے بطور تحفہ دیے،حسین نواز نے بھی مریم نواز کو رقم دی ہیجس پر جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ حسین نواز نے بھی مریم نواز کو رقوم دی ہیں، اگر آپ کی تعریف مان لیں تو کیا مریم، حسین نواز کی بھی زیر کفالت ہیں؟نعیم بخاری نے عدالت کو کہا کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ شادی کے بعد اس کی بیٹی کی کفالت شوہر کرے مگرریکارڈ کے مطابق کیپٹن صفدر کی کوئی آمدن نہیں تھی۔جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ ابھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ فلیٹس کب خریدے گئے کیونکہ شریف فیملی کے بقول انہیں فلیٹ 2006 میں منتقل ہوئے اور آپ کے بقول شریف خاندان نے فلیٹ 1993 اور 1996 میں خریدے۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ نعیم بخاری صاحب آپ نے عدالت کی بہترین معاونت کی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنی کمر میں درد کے علاج کے لیے عدالت سے دو گھنٹے رخصت کی اجازت مانگی جس کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دلائل کا آغاز کیا۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایک طرف مریم نواز کہتی ہے کہ ان کی آمدن نہیں دوسری طرف وہ امیر ترین خاتون ہیں، عدالت سب کچھ جانتی ہے ہم صرف معاونت کے لیے آتے ہیں اور یہ مقدمہ 20 کروڑ عوام کا ہے۔عدالت کو مخاطب کرکے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آپ نے انصاف فراہم کرنے کا حلف لیا ہے اور عوام کی نظریں عدالت پر ہیں۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ نعیم بخاری کے دلائل کی مکمل تائید کرتے ہیں اور اگر کوئی کسی کے زیر سایہ ہے تو وہ زیرِکفالت کہلائے گا۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں نشست نہ ملنے پر پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے عدالت سے شکوہ کیا کہ ایجنسیوں کے لوگ نشستیں قابو کر لیتے ہیں اور ہمیں عدالت کے باہر بھی کھڑے نہیں ہونے دیا جاتا۔جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آپ کی شکایت کا نوٹس لیں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وکالت کا تجربہ نہیں، غلطی ہو تو معافی چاہتا ہوں، میرا کوئی بچہ یا فیملی نہیں لیکن یہ قوم ہی میری فیملی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے جبکہ قطری خط رضیہ بٹ کا ناول ہے۔عدالت میں قطری خط کو رضیہ بٹ کے ناول سے تشبیہ دینے پر قہقہے لگے توجسٹس شیخ عظمت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت میں موجود لوگ سنجیدہ ہوں، ورنہ عدالت خود سنجیدہ کرے گی۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف پاناما کیس میں براہ راست ملوث ہیں اور اسحاق ڈار نے خود اربوں روپے دبئی منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے ،شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ نیب حدیبیہ پیپرملز کیس میں اپیل کرتا تو آج سپریم کورٹ نہ آتے۔ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی نے کہا جو کرنا ہے کر لو، میں حلفیہ یہ کہتا ہوں کہ ساڑھے تین سال میں تمام تعیناتیاں وفاداری کی بنیاد پر ہوئیں اور تمام تحقیقاتی ادارے حکومت کی جیب میں ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ قطری نوازشریف کو انتخابات میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے انہیں قانونی باتوں پر آنے کا مشورہ دیا۔شیخ رشید نے عدالت سے درخواست کی کہ اسحاق ڈار کو بھی شامل تفتیش کیا جائے جس پر جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار پہلے ہی مقدمہ میں فریق ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ وقت آگیا کہ سپریم کورٹ ایک ایسا فیصلہ دے کہ ادارے ریاست کے بجائے عوام کی خدمت کریں۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت سب کچھ جانتی ہے ہم صرف معاونت کے لیے آتے ہیں، شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے، قطری شہزادہ نواز شریف کے لے ریسکیو 1122ہے۔ رشید کا کہنا تھا ایک طرف مریم کہتی ہے کہ انکی آمدن نہیں دوسری طرف وہ امیر ترین خاتون ہیں عدالت سب کچھ جانتی ہے ہم صرف معاونت کے لیے آتے ہیںیہ مقدمہ بیس کروڑ عوام کا ہے۔ آپ نے انصاف فراہم کرنے کا حلف لیا ہے عوام کی نظریں عدالت پہ ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ رقوم کو چھپانے کے لیے ملک میں ماہر افراد کی خدمات لی جاتی ہیں۔ سات اعشاریہ پانچ بلین ڈالرز بیرون منتقل کرنے کا انٹرویو سن کر افسوس ہوایہ پیسہ ملک کا ہے ایک ارب چالیس کروڑ روزانہ کی بنیاد پر چھاپے جا رہے ہیں میرا کوئی بچہ یا فیملی نہیں لیکن یہ قوم ہی میری فیملی ہے ایک خاندان بامقابلہ بیس کروڑ عوام کا کیس ہے۔سب سے پہلے ہم نے قطری نام ہیلی کاپٹر کیس میں سنا۔ شیخ رشید نے کہا انیس سو اسی میں ایک درہم کی قیمت دو روپے ساٹھ پیسے تھی۔ شیخ رشیدنواز شریف نے دو افراد کو زیر کفالت ظاہر کیا۔

شیخ رشیدوہ دو افراف انکی اہلیہ اور مریم نواز ہیں ۔ قطری شہزادہ مین آف دی میچ ہے لیکن قطری خط کی حیثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں کیونکہ یہ خط سنی سنائی باتوں ہر مبنی ہے اور سنی سنائی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ قانون کے مطابق زبانی ثبوت براہ راست ہونا چاہیے۔قطری خط بیان حلفی کے بغیر ہے۔ شیخ رشید نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیس کے پیچھے اصل چہرہ سیف الرحمن کا ہے۔ شیخ رشیدساری عمر سیاسی ورکر رہا۔جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ شیخ صاب آپ سٹوڈنٹ لیڈر بھی تھے۔ جس پر شیخ رشید نے جوابی وار کیا کہ جج صاحب آپکا تعلق بھی میرے حلقے سے تھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ پورٹ قاسم پاور پلانٹ سیف الرحمن کو دیا گیا۔ ایل این جی کا ٹھیکا بھی سیف الرحمن کمپنی کو دیا گیا،اس معاملہ میں نو مہینے ٹی او آرز بنانے میں لگائے پھر بھی ناکام رہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی عزت اور آزادی جمہوریت سے زیادہ اہم ہے۔ بیوروکریسی عوام کی ملازم ہوتی ہے حکمرانوں کی نہیں۔ شیخ رشید حدیبیہ پیپرز مل تمام مقدمات کی ماں ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ حدیبیہ کیس کے ہرصفحے پر اسحاق ڈار کے دستخط ہیں۔ میں نے 164 کے بیان پر لوگوں کو پھانسی چڑھتے دیکھا ہے۔یہاں بڑے لوگوں کے پاس تھانہ چل کر آتا ہے۔ شیخ رشید نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا حوالہ دیا تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ حضرت عمر نے نہیں کہا تھا کہ بار ثبوت الزام لگانے والے پر ہے۔ شیخ صاحب قانونی باتوں پر آئیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ قطری خط میں کہا گیا ہے کہ میاں شریف کی خواہش ہے کہ جائیداد حسین نواز کو دی جائے۔ نواز شریف کے بیان اور تقاریر میں الثانی خاندان کا کہیں ذکر نہیں، بینک قرض دینے سے پہلے جائیداد کی ملکیت اور مالیت بھی دیکھتا ہے۔ یقیننا 34 ملین ڈالر ادا کرنے والا بھی عربی نکلے گا۔ عدالت اسحاق ڈار کو شامل تفتیش کرے۔ جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ اسحاق ڈار پہلے ہی مقدمہ میں فریق ہیں۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو شیخ رشیدنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فروری دو ہزار چھ کو مریم نواز نے ٹرسٹ ڈیڈ پر لندن میں دستخط کیے۔ ڈیڈ پر بطور گواہ کیپٹن صفدر کے دستخط ہیں۔ حسن نواز نے چار فروری دو ہزار چھ کو ڈیڈ پر دستخط کیے۔ دوسرے گواہ وقار احمد کے دستخط میں فرق ہے۔ یقین سے کہتا ہوں نوٹری کے سامنے کسی نے دستخط نہیں کیے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی سفارتخانے سے تصدیق نہیں ہوئی۔جس پر شیخ رشید نے کہا کہ ایک فرد لندن دوسرا جدہ میں ہو تو تصدیق کیسے ہو سکتی ہے؟ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ لگتا ھے کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ غلطی سے جمع کرائی گئیں۔نیلسن اور نیسکول والی ٹرسٹ ڈیڈ بعد میں جمع کروائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ جس ٹرسٹ ڈیڈ کا آپ ذکر کر رھے ہیں وہ نیلسن اور نیسکول کی نہیں ھے۔جسٹس عظمت نے سوال کیا کہ کیا پنڈی میں کوئی جائداد بغیر رجسٹری بیچی جا سکتی ھے؟ شیخ رشید نے کہا کہ پنڈی میں ایک سائیکل بھی نہیں بکتی جب تک شہادتی نہ ھو۔اللہ تعالی نئے راستے دکھانے کے لیے غلطیاں بھی کرواتا ھے، انہوں نے کہا کہ جج صاحبان آپ نے کیس پڑھا ھوا ھے دوسرے فریق نے نہیں۔

جسٹس آصف کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ اگر دونوں دستخط کرنے والے ٹرسٹ ڈیڈ کو تسلیم کریں تو پھر کیا صورتحال ھو گی؟ شیخ رشید نے کہا کہ میرا ایمان ھے آپ کو دستاویزات کی حقیقت کا علم ھے۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ ہماری معاونت کے لیے آئے ہیں۔جسٹس کھوسہ تو شیخ رشید کا کہنا تھا میں اتنا لائق نہیں ہوں۔شیخ رشیدنے کہا کہ انہیں وقار احمد کے دستخطوں پر بھی اعتراض ھے اورمریم نواز کی بینیفیشل مالک ھونے کی دستاویز کسی نے چیلنج نہیں کی۔آئی سی آئی جے کے رکن عمر چیمہ کو بلایا جا سکتا ھے۔انیس سال کی عمر میں ہمارے بچوں کا شناختی کارڈ نہیں بنتا، شریف خاندان کے بچے انیس سال میں ارب پتی بن جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طارق شفیع نے بیان حلفی میں کہا بارہ ملین درھم لے کر دے دئیے۔جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس کو دئیے گئے، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 1980 میں دبئی میں 31 بینک تھے کس کے زریعے رقم منتقل ھوئی شریف خاندان بتائے کہ 1980 سے 2006 تک پیسے کہاں رھے،یہ کہنا درست نہیں کہ دبئی میں کارروبار گدھوں پر ھوتا ھے۔جدہ مل میں کام کرنے والے کسی مسلمان کا نام شریف خاندان بتا دے۔ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان شروع سے ہی حقائق چھپاتا رھا ھے۔برطانیہ میں کوئی الزام لگ جائے تو ساری جائداد بک جانے پر بھی جان نہیں چھوٹتی۔ان کا کہنا تھا مریم صفدر ھی لندن جائدادوں کی حقیقی وارث ھے۔شیخ رشیدعام بات ھے کہ بارہ ملین درھم میں سٹیل مل کے نٹ بولٹ بھی نہیںآسکتے۔انہوں نے کہا کہ مستری اور مزدور طبقے نے ملک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ طاقتور لوگوں نے ہی ملک کی جڑیں کاٹیں۔جسٹس شیخ عظمت نے شیخ رشیدسے کہا کہ آپ صادق و امین کے حوالے سے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں وہ جعلی ڈگری سے متعلق ہے۔ شیخ رشیدنے کہا کہ ڈگری جعلی ہونا کم جرم ہے لیکن ٹیکس چوری کرنا بڑا جرم ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ صادق و امین کا ایشو اس عدالت میں مختلف مقدمات میں آیا۔کچھ مقدمات میں شہادتیں ریکارڈ بھی ہوئیں۔ لیکن یہ مقدمہ 184/3 کے تین کے تحت سن رہے ہیں۔ یہ کیس باقی مقدمات سے مختلف ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے چند تحائف کیا لیے پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ ماراجبکہ اسرائیلی وزیر اعظم کو تحائف ڈکلئیر نہ کرنے پر حزیمت کا سامنا کرنا پڑالیکن ہمارے ہاں گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ادارہ کام بھی نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی میں چھاپے مارنے کی طاقت ہے۔ شیخ رشید نے استدعا کی کہ عوام کی آخری امید سپریم کورٹ نواز شریف کو طلب کرے ، شریف خاندان کل گاندھی کا خط مودی سے تصدیق کرا کر لے آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ منی ٹریل بتا دی جائے تو ہمارا کیس ختم ہو جاتا ہے۔ بڑے لوگوں کی اولاد ملک کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ بڑے چھوٹے کی بات نہ کریں ہماری نظر میں سب برابر ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ اصل مسئلہ غلط بیانی کا ہے۔ جھوٹ سے دل کو برا کہنا ہے یا طاقت سے کچلنا ہے یہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا سیاسی مخالفین تقسیم ہوں تو انصاف وہی لگتا ہے جو حق میں ہو۔ مرضی کا فیصلہ نہ آئے تو بے انصافی لگتا ہے۔ شیخ رشید نے عدالت سے پانامہ پر ازخود نوٹس کا مطالبہ کیا تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواستیں آ چکی ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ عدالت میں بیٹھے بعض لوگوں کو شائد انصاف کی امید نہ ھو۔ لیکن مجھے انصاف کی پوری توقع ھے۔جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ شیخ صاحب کیس سن رہے ہیں تو فیصلہ بھی کریں گے۔شیخ رشید کے دلائل مکمل ہوئے تو جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے وزیراعظم کو طلب کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر دلائل کا آغازکیا تو جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا جماعت اسلامی اور طارق اسد کی درخواستیں مختلف ہیں؟ ان کاکہنا تھاہم نہیں چاہتے کہ 2 الگ مقدمات مکس ھو جائیں۔ جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان اور شیخ رشید کی درخواستوں کی تائید کرتے ہیں۔تاہم ہم چاہتے ہیں کہ پانامالیکس معاملہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ھو۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے پانامہ لیکس میں نام آنے والوں کو فریق ہی نہیں بنایا۔جس پر فاضل وکیل کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ کمیشن بنے اورسب سے تحقیقات ھوں۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی کرپشن پر بھی عدالت کی معاونت کروں گا۔پانامہ میں جن کا نام آیا ان کی فہرست پیش کر چکے ہیں۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ جن لوگوں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں،ان سمیت نواز شریف کو بھی فریق نہیں بنایا۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کی درخواست عمومی نوعیت کی ھے۔ایڈووکیٹ توفیق آصف کا کہنا تھاکہ عدالت نے پہلے کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے قرار دیا تھا کہ ضرورت محسوس ھوئی تو کمیشن بنائیں گے تاہم سراج الحق کی درخواست ضرور سنیں گے۔توفیق آصف نے کہا کہ نواز شریف کو طلب کرنے کی درخواست دی ھے۔جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف آپ کی درخواست میں فریق ہی نہیں تو کیسے بلائیں، توفیق آصف صاحب بات کریں تنگ نہ کریں۔توفیق آصف نے کہاعدالت چاہے تو درخواست میں ترمیم کر سکتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد کاکہنا تھا کہ ترمیم کے لیے آپ کو درخواست واپس لینا ھو گی۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ عدالت آپ کو سننے کی پابند ھے۔جماعت اسلامی کے وکیل نے موجودہ درخواست واپس نہ لینے اور نئی درخواست جمع کروانے کی استدعاکی تو جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ نئی درخواست دائر کرنے لیے اجازت ضرورت نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل ختم ہونے پر وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وقت کم ھے عدالت چاہے تو کل دلائل شروع کر سکتا ھوں، جسٹس آصف کھوسہ نے مزاحا کہا کہ آج آپ وارم اپ کر لیں، مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ خود کو صرف وزیر اعظم تک محدود رکھوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی طرف سے عدالت وزیر اعظم، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کو نااہل کرنے کی درخواست کی گئی اور جواب دہندگان سے ٹیکس وصولی کی عمومی استدعا کی گئی۔ٹیکس وصولی کس شخص سے کرنی ھے یہ بھی نہیں بتایا گیا۔پی ٹی آئی نے میگا کرپشن کیسز کی تحقیقات کی بھی استدعا کی۔ان کا کہنا تھا کہ میگا کرپشن کیسز سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ جبکہ درخواست گذاران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی۔لیکن پی ٹی آئی کے دلائل میں ای سی ایل کا ذکر کہیں نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ جس استدعا پر ذور نہ دیا جائے وہ خود ہی ختم ھو جاتی ھے اور استدعا ختم ھونے کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لندن فلیٹس تک محدود رہنے کا کہا تھا۔ لیکن ہم کسی کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کر سکتے۔آپ کیس کا حصہ تاخیر سے بنے اس لیے شائد آپ کو علم نہیں ھوا۔مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ تمام ایشوز پر عدالت کی معاونت کروں۔ گا۔عدالت کا فوکس پانامہ لیکس پر ھے، مخدوم علی خان نے کہا کہ ‘میں سات روز سے دلائل سن رہا ہوں اور اب تمام حقائق سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں۔مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو صرف وزیراعظم تک محدود رکھیں گے۔۔وزیر اعظم کے وکیل کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی سماعت عدالتی وقت ختم ہونے پر آج (جمعرات) کی صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی گئی ۔

About نیوز ڈیسک