بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیوزلیکس کی رپورٹ تیار جلد حکومت کے حوالے کی جائے گی،چوہدری نثار

نیوزلیکس کی رپورٹ تیار جلد حکومت کے حوالے کی جائے گی،چوہدری نثار


کلرسیداں۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو مجھ سے کیا تکلیف ہے سب کو پتہ ہے، پیپلزپارٹی کے چند لوگوں کا رونا دھونا جاری رہتا ہے،ان کے بہتان کی کوئی وقعت نہیں ،میڈیا کے پی پی کی زبان استعمال کرنے پر تحفظات ہیں،آزاد میڈیا تنقید کرے میں جوابدہ ہوں،میں نے فقہی اختلاف پربات کی توہنگامہ کھڑا کردیا گیا،سانحہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ پر 18 جنوری کو سپریم کورٹ میں تفصیلی جواب داخل کرا دوں گا، نیوز لیکس کی انکوائری رپورٹ تقریباً تیار ہے جلد ہی حکومت کے حوالے کی جائے گی ۔پیپلزپارٹی کاکونسا لیڈراپنے دورمیں کالعدم جماعتوں کے لوگوں سے نہیں ملا؟ دہشت گرد تنظیموں اور فقہی تنظیموں کیلئے الگ الگ قانون سازی کرنا ہو گی۔

،پروفیسر حیدر سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات کررہے ہیں ، موجودہ حکومت نے 32400 جعلی پاسپورٹ منسوخ کئے گئے ،جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی منسوخی ایک مشکل کام ہے ، مگر چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے تو اسے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لوں گا۔میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو مجھے سے کیا تکلیف ہے یہ سب کو معلوم ہے ، ساری پیپلزپارٹی اس میں شامل نہیں بلکہ چند لوگ میرے خلاف الزامات اور بہتان تراشی کررہے ہیں اور ان کی تمام بہتان تراشی کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا ،انکو سینٹ میں جواب دیا اور بہتر ہوتا وہ میری سینٹ تقریر سن کر اس کا جواب دیتے مگر الزامات لگانے والوں نے جواب دینے کی بجائے وہاں سے بھاگنے کو ترجیح دی۔چوہدری نثار نے میڈیا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے کچھ حلقے پیپلزپارٹی کی زبان میں مجھ پر تنقید کرتے رہے جس پر حیرانگی ہوئی ۔ دہشت گرد تنظیموں اور فقہی تنظیموں میں بہت فرق ہے اور میری اس بات سے کچھ لوگوں نے غلط مطلب نکالنے کی کوشش کی جو میرے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے ، فقہی کے رہنماؤں سے ملنا کوئی بڑا جرم نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ مولانا لدھیانوی سے میری ملاقات کو غلط رنگ دیا گیا اور مولانا لدھیانوی کو دہشت گردوں سے جوڑا گیا جو درست نہیں ہے ، میرا ان لوگوں سے سوال ہے کہ کوئی علامہ ساجد نقوی اور علامہ موسوی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑے تو یہ عجیب سے بات ہوگی کیونکہ علامہ ساجد نقوی اور علامہ موسوی محب وطن لوگ ہیں اور میں ان کی دل سے عزت و قدر کرتا ہوں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دہشت گرد تنظیموں اور فقہی تنظیموں کیلئے الگ الگ قانون سازی کی ضرورت ہے اس لئے فقہی تنظیموں کو دہشت گرد گروپوں سے نہیں جوڑا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ شیعہ سنی میں اختلاف 1300 سال پرپرانے ہیں اور یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات میں قتل عام ہوا لیکن ان کو فرقہ واریت کو دہشت گردی سے جوڑنا مناسب نہیں،انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ فقہی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں سے علیحدہ کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے بھی فقہی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی اور پیپلزپارٹی کا کونسا لیڈر ہے جو ان تنظیموں کے رہنماؤں نہیں ملا مگر مجھے افسوس ہوا کہ پڑھے لکھے لوگ میری ملاقات احمد لدھیانوی سے ملاقات کو دہشت گردوں سے جوڑ رہے ہیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ میں جب امریکہ اور برطانیہ جاتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ پاکستان کیساتھ آپ کے تحفظات اپنی جگہ ہیں اگر کوئی تحفظات ہیں۔

تو ہمیں بتائیں ہم دور کریں گے مگر بھارت کی زبان میں ہم سے بات نہ کی جائے کیونکہ ہمیں اس سے چڑ ہوتی ہے بالکل اسی طرح میڈیا سے بھی کہتا ہوں کہ وہ پیپلزپارٹی کی زبان میں مجھ سے بات نہ کرے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں اور پروفیسر حیدر کی بازیابی کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں تاہم ایسے کیسز میں تھوڑا ٹائم لگتا ہے لواحقین سے کہتا ہوں کہ وہ تھوڑا صبر کریں پروفیسر حیدر کو بھی ضرور بازیاب کرایا جائے گا۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے بھی میٹنگ ہوئی ہے اور ان کی مزید توسیع پر پیپلزپارٹی کو کچھ تحفظات ہیں مگر اس بات پر سب متفق ہیں کہ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بابراعوان سے میرا ایک رشتہ ہے اور وہ جس پارٹی میں بھی ہوں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی ، میری بابر اعوان سے ملاقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ، میں ان سے اکثر ملتا رہتا ہوں۔ایک اور سوال پر وفاقی وزیرداخلہ نے کہاکہ جہاں کہیں بھی حالات میں بہتری آتی ہے یا حکومت کوئی اچھا کام کرتی ہے تو اس کا کریڈٹ کسی اور کو دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور کچھ حلقوں کی جانب سے کسی اور کی ناکامی حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے میں نے سر نیچے کرکے سکیورٹی کی بہتری کیلئے کام کیا ہے اور اب سپریم کورٹ میں جاکر کارکردگی شو کروں گا ۔وزیرداخلہ نے کہاکہ 2002سے 2007ء تک کوئی ایک بھی جعلی شناختی کارڈ نہیں پکڑا گیا اور گزشتہ ادوار میں ساڑھے چار لاکھ جعلی کارڈ جاری کیے گئے جنہیں ہماری حکومت منسوخ کرنے پر کام کررہی ہے ،نادرا سمیت ہر محکمے میں ہیرا پھیری کی گئی اور میں نے اس چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے تو اس کی بہتری کی مجھے پوری امید ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں 32400 جعلی پاسپورٹ جاری کیے گئے جن کو ہم نے منسوخ کیا ،یہ کام اتنا آسان نہیں ہے مگر ہم اس پر کام جاری رکھیں گیسانحہ کوئٹہ کمیشن سے متعلق سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 18 جنوری کو اپنا جواب داخل کرادیں گے، ان کے وکیل نے انہیں وزارت داخلہ کی ساڑھے3سال کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ہم سکیورٹی سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں گے اور اگر عدالت نے اجازت دی تو رپورٹ سے میڈیا کو بھی آگاہ کریں گے۔