بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست اور معاشرے کا زوال!

سیاست اور معاشرے کا زوال!

مسلم بادشاہتوں کی دولت اور شان و شوکت اپنی جگہ مگر عالم اسلام مشکلات کا شکار ہے مسلم حکومتیں اندرونی کشمکش‘ بھوک کے شکار لوگوں کی جانب عدم توجہ‘ لالچ اور بیرونی طاقتوں کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب وہ شام اور یمن میں ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگوں پر اتر آئے ہیں اسی وجہ سے گذشتہ سال ایرانی زائرین حج کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہے ان جنگوں نے بڑے انسانی المیوں کو جنم دیا ہے قحط اور غربت پیدا کی اور کروڑوں لوگوں کو دربدر کیا ہے ان سیاسی چالوں کا مقصد صرف خطے میں طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے اور اس کیلئے سیاست اور مذہب کا استحصال کیا جا رہا ہے جسکا حتمی طور پر نقصان عام لوگ اٹھا رہے ہیں۔ پہلے سے منقسم اسلامی دنیا مزید تقسیم کا شکار ہو رہی ہے سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر بھی فرقہ وارانہ جذبات پھیل رہے ہیں جہاں فریقین کی جانب سے مبینہ طور پر کئے گئے ظلم و ستم کی تصاویر بڑی تعداد میں پوسٹ کی جاتی ہیں۔پاکستان میں ہر سال سینکڑوں ’شعلہ بیاں‘ خطیبوں کو محرم کے دوران زیادہ ’حساس‘ اضلاع میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے اقلیتوں پر بے رحم حملے یہاں معمول ہیں جن میں عسکریت پسند شامل ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی دیگر گروہ بھی اس کام میں حصہ لیتے ہیں نفرت پھیلانے کیلئے مسجدومنبر کا استعمال عام ہے صدیوں سے قرآن کے لفظی معانی پر زور‘ کمزور احادیث پر یقین اور قبائلی اور مردانہ حاکمیت پر مبنی روایات نے ایک ایسے پریشان کن بیانیے کو جنم دیا ہے جس میں خود کو پارسا سمجھنے والے مولوی حضرات کی سماجی اور مذہبی خواہشات کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

1980ء کی دہائی میں پاکستانی پالیسیوں کی وجہ سے وہ بے رحم جنونی وجود میں آئے جو اسلام کو قتل و غارت کے لئے استعمال کرتے ہیں اس حقیقت کے ادراک اور بڑھتی ہوئی داخلی دہشتگردی کی وجہ سے ضرب عضب نامی فوجی کاروائی شروع کرنے کی نوبت آئی جس چیز کی اب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، وہ ’ضرب فکر‘ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے نظریات کو شکست دی جا سکے میں یہاں اس اصطلاح کا استعمال وسیع تر تناظر میں کر رہی ہوں مسلم دنیا اس کے وہ علماء اور رہنما جو مسلم سیاست اور معاشرے کے تیز رو زوال کے بارے میں سنجیدہ تشویش رکھتے ہیں‘ انہیں متبادل طرزفکر تلاش کر کے کھلی بحث کے پلیٹ فارمز تشکیل دینے چاہئیں۔ اس کام کو مقامی‘ ملکی‘ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونا چاہئے مقاصد میں ایسے معاشروں کا قیام شامل ہونا چاہئے‘ جن میں برداشت اور تکثیریت پائی جاتی ہو‘ جیسا کہ مسلم معاشروں کو ہونا چاہئے مگر اسکے ساتھ اِن معاشروں کو تعلیم اور مضبوط سماجی تعلقات کے ذریعے ٹیکنالوجیکل اور اقتصادی ترقی پر بھی اپنی توجہ رکھنی چاہئے اسکی جانب پہلا قدم مسائل کا تجزیہ اور ذمہ داریوں کا تعین ہے ہمیں ہر چیز کا الزام مغرب کی’سازشوں پر ڈالنے کی روش چھوڑنی ہوگی ممالک بالخصوص پاکستان کو مذہبی اختلاف رائے کو کھلے دل سے قبول کر کے شروعات کرنی چاہئے اور آزادئ اظہار کے مخالفین پر گرفت مضبوط کرنی چاہئے نہ کہ آزادی اظہار پر یقین رکھنے والوں پر۔

ماضی قریب و بعید میں ایسی کئی مثالیں ہیں جن میں ایک کے بعد ایک حکومتوں نے یا تو پاکستانیوں کو خوف اور دہشت میں مبتلا کرنیوالے گروہوں کی یا تو حوصلہ افزائی کی یا پھر ان کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ کئی قوانین مشتبہ تشریحات پر مبنی ہوتے ہیں اور انہیں کمزور و معصوم لوگوں کیخلاف ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کیا جاتا ہے آج اسلام کے عقلیت پسندی‘ غور و فکر‘ بحث و مباحثے‘ کشادگی ذہن اور انتخاب کی آزادی کے پیغام کو دہرائے جانے کی ضرورت ہے ایک فرد کو اپنی مرضی کے مذہب کی پیروی کی اجازت ہونی چاہئے اور ریاست کو اپنی توجہ لوگوں کی بھلائی کی جانب کرنی چاہئے انہیں صحت اور تعلیم فراہم کرنی چاہئے اور صرف غریب لوگوں کے استحصال کی صورت میں مداخلت کرنی چاہئے۔ علماء مل بیٹھ کر گفتگو کریں کہ آخر لڑائیاں ہیں کس بات پر؟ اور یہ بھی کہ کیا ان کے مؤقف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں بھی یا نہیں؟ مسلمانوں کو ان کی ذاتی اور اجتماعی زندگیوں میں شریعت کے مطلب پر بحث کرنے کی آزادی ہو اور یہ کہ اس کی کون سی صورت متعلقہ ہے اور کون سی نہیں۔ خطبوں کا محتاط جائزہ لے کر کسی بھی نفرت انگیز چیز کو نکال دینا چاہئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی اصلاح ضروری ہے اور ان تمام اقدامات کو سخت قوانین کی حمایت حاصل ہونی چاہئے اسلام سے متعلق معاملات پر تحقیق اور یہ کام ہمیں اسلامی ممالک کے علماء و مجتہدین کے ساتھ مل کر کرنا چاہئے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ موجودہ دور کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: نگہت ستار۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)