بریکنگ نیوز
Home / کالم / نہایت ضروری

نہایت ضروری


پاکستان میں غیر معیاری اور مضر صحت دودھ کی فروخت سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران جب عدالت عظمیٰ نے متعلقہ سرکاری محکموں کو دودوھ کا معیار جانچنے کی ہدایت کی تو ان ہدایات پر عمل درآمد میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سبقت لیتے ہوئے پنجاب کے متعدد اضلاع کی حد تک عوام پر فروخت کئے جانے والے دودھ کا کچا چھٹا کھول دیا پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں غیر معیاری اور مضر صحت دودھ کی فروخت کے حوالے سے جو چشم کشا انکشافات کئے گئے ہیں اور دودھ کے تاجروں کیخلاف جو کاروائیاں کی گئی ہیں انکے بعد پاکستان کا شاید ہی کوئی شہری ہو جو دودھ پیتے وقت یا اسکا دیگر انداز میں استعمال کرتے وقت یہ نہیں سوچتا ہوگا کہ دودھ کی شکل میں اس تک جو جنس پہنچی ہے وہ واقعی دودھ ہی ہے یا کچھ اور ؟ایک دودھ ہی کیا مارکیٹ میں عام فروخت والے فوڈ آئٹمز میں سے کونسا ایسا ہے جسے شہری پورے وثوق سے معیار ی اور حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق کا سرٹیفیکیٹ دے سکیں ؟ پرچون دکانوں سے لیکر ہول سیل مراکز تک میں فروخت ہونے والی اشیاء خوردونوش ہوں یا ہتھ ریڑھیوں‘سٹالز‘کھوکھوں اور ریسٹورنٹس پر دستیاب پکوان ۔ معیار کے معاملے پر صارفین میں اطمینان کم کم ہی پا یا جاتا ہے یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ دودھ اور گوشت سمیت اشیائے خوردونوش کی فروخت کے مراکز پر نظر رکھنے‘ ان مراکز کو رجسٹریشن و لائسنسنگ کے دائرے میں لانے اورانہیں معیار و حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کیلئے کل وقتی بنیادوں پر کام کیا جائے ۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے وقتاً فوقتاً ایکشن لیتی نظر آتی ہے تاہم یہ معاملہ صرف ایک شہر کا نہیں پورے صوبے اور پورے ملک کا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی مارچ 2014ء میں ’’کے پی کے فوڈ سیفٹی اتھارٹی ‘‘بل کی منظوری دے چکی ہے جسکے تحت ایک اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے لیکن یہ اتھارٹی انتظامی طور پر محکمہ صحت کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے جداگانہ حیثیت میں کام کرتی دکھائی نہیں دے رہی صوبائی دارالحکومت میں ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت اور صفائی کی ابتر صورتحال کی پاداش میں ریسٹورنٹس ، ہوٹلز، کیفے اور فوڈ پارلرز وغیرہ کے خلاف وقفوں وقفوں سے جو کاروائیاں ہوتی نظر آئی ہیں وہ زیادہ ترضلعی انتظامیہ کے افسران کی نگرانی میں عمل میں آتی ہیں حالانکہ اس سلسلے میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی کو اسی طرح ایک مکمل خود مختار ادارے کی حیثیت سے متحرک نظر آنا چاہئے جس طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی پچھلے دو سال کے عرصے میں نظر آئی ہے اتھارٹی نے لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اس قدر زور و شور سے ا پنا کام کیاکہ شیر فروش ہوں یا قصاب‘کھوکھے والے ہوں یا ریسٹورنٹس والے ۔ چھوٹے پیمانے پر فوڈ آئٹمز کاکاروبارکرنیوالے ہوں یا بڑے بڑے ہوٹلوں کے مالکان سب کو اپنا قبلہ درست کر لینے میں ہی عافیت نظر آئی۔

وجہ یہ ہے تھی کہ ایک طرف تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے حوالے سے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی اور اشیاء خوردونوش کا بہتر معیار یقینی بنانے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فری ہینڈ دیا جبکہ دوسری طرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسروں اور اہلکاروں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن سے فرائض کی ادائیگی کو اپنا شعار بنایا۔ اس عمل کے دوران کسی بھی دباؤیا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے غیر معیاری اشیاء خوردونوش فراہم کرنیوالی ہتھ ریڑھیوں سے لیکر نامی گرامی ہوٹلوں تک کیخلاف کاروائیاں ہوئیں جبکہ ساتھ ساتھ تمام طعام گاہوں کی مجموعی صفائی اور ان میں لائی جانیوالی اشیاء خوراک کا معیار جانچنے کیلئے باقاعدہ نظام بھی متعارف کرایا گیا یوں پنجاب کے مذکورہ اضلاع میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنیوالوں پر مستقل بنیادوں پر نظر رکھی جارہی ہے ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی جس قانون کے تحت عمل میں آئی ہے اس میں فوڈ آئٹمز کی فروخت کو باقاعدہ نظام کے تحت لانیکی گنجائش موجود ہے اس سلسلے میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی رجسٹریشن ، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کھولنے والوں کیلئے لائسنس کے حصول اور تجدید کی پابندی اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیاری ہونے کی تصدیق کا عمل متعارف کرانے کیلئے لائحہ عمل کا تعین بھی کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں اس قانون میں سخت سزائیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرز پر فعال بنانا وقت کی ضرورت ہے اس سلسلے میں اتھارٹی کو انتظامی طور پر ایک خود مختارو موثر ادارہ بنانے کیلئے اس امر کا جائزہ لیا جا نا بھی ضروری ہے کہ یہ اتھارٹی جس قانون کے تحت قائم ہوئی ہے اس میں کہاں کہاں کمی رہ گئی ہے تاکہ متعلقہ قانون میں اصلاحات لائی جا سکیں ۔