بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

ہمارا میڈیا بھی کئی جگہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے اور بریکنگ نیوز کے چکر میں بعض خبروں میں بڑی دور کی کوڑی لاتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اگر اس کا تجزیہ غلط ثابت ہوا تو تجزیہ کرنیوالے یا جس ٹیلی ویژن چینل پر وہ تجزیہ کررہا ہے ان کی عوام میں بھلا کیا قدر ومنزلت رہ جائیگی، جنرل راحیل شریف کے بارے میں بھی چند روز قبل ہمارے بعض یاردوستوں نے میڈیا میں خبر اچھالی کہ انہوں نے 39اسلامی ممالک کی افواج کی کمان سنبھالنے پر رضامندی کا اظہار کردیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بین السطور یہ چسکا بھی لگایا کہ انہیں ایسا کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا کیونکہ ایران اس ملٹری اتحاد میں شامل نہیں ہے اور اس کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہیں اب جو لوگ جنرل راحیل شریف کو اچھی طرح جانتے ہیں انہیں پورا یقین تھا کہ ہمارے سابق آرمی چیف کوئی ایسا فیصلہ کبھی بھی نہیں کریں گے کہ جس سے انکا ضمیر مطمئن نہ ہو چنانچہ اگلے روز میڈیا میں خبر آگئی کہ جنرل راحیل شریف نے اسلامی افواج کی قیادت قبول کرنے کیلئے ایک پیشگی شرط لگائی ہے اور وہ یہ کہ ایران کو بھی اس عسکری اتحاد کا حصہ بنایاجائے اس خبر سے تو وہ سیاسی مبصرین ٹھنڈے یخ ہوگئے جو خواہ مخواہ جنرل راحیل شریف کے اس فیصلے میں کیڑے نکال رہے تھے، اس بیان کے بعد اسلامی دنیا میں جنرل راحیل شریف کی وقعت اور ان کے مقام میں بے حد اضافہ ہوا ہے، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا، اب بال سعودی بادشاہ کے کورٹ میں ہے اگر وہ مسلم اتحاد کیلئے واقعی مخلص ہیں تو وہ ایران کو بھی اس عسکری اتحاد میں شامل کرنیکی جنرل راحیل شریف کی دعوت قبول کرلیں گے اور اگر وہ اس عسکری اتحاد کو ایران کو نیچا دکھانے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

تو اس صورت میں وہ جنرل راحیل شریف کے مشورے کو درخوراعتناء نہیں سمجھیں گے سابق آرمی چیف جیسے فوجی جرنیل صدیوں میں ایک آدھ ہی پیدا ہوتے ہیں جنرل راحیل شریف سے اس ملک کے کرپٹ عناصر سخت گھبراتے تھے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری زندگیوں میں کرپشن نہ جانے کہاں سے آگئی ہے، اسی کرپشن کی وجہ سے ہمارے اکثر اسلامی ملکوں کے رہنما دنیا میں بدنام ہیں جب تک مسلمانوں میں کرپشن ختم نہ ہوگی اور جب تک تمام عالم اسلام یورپین اکنامک کمیونٹی کی طرح یکجا نہ ہوگا ہم ہر وقت اسلامی دشمن طاقتوں کی سازشوں کا شکار رہیں گے۔یہ کتنی اچھی بات ہے اگر تمام اسلامی ممالک اپنے مسلکی اختلافات بھلا کر ایک ہوجائیں یہ بے اتفاقی کی وجہ ہے کہ آج ہم عراق‘ شام‘ یمن‘ لبنان‘ فلسطین‘ کشمیر اور برما میں اغیار کے ہاتھوں پٹ رہے ہیں ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ’’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جیسے جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے ایسے ہی مسلمان ہیں، جب کسی ایک مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے تو سب مسلمان تکلیف محسوس کرتے ہیں‘‘ پر آج مسلمان ایک جسم کی مانند نظر نہیں آرہے، مسلمان ملکوں کے اندر کا حال یہ ہے کہ مسلمان، مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے جو لوگ اسلامی ممالک کی عسکری افواج کے اتحاد کی مخالفت کررہے ہیں ۔

وہ یہ مخالفت چھوڑ کر بس ایک مطالبہ کریں اور جنرل راحیل شریف کی اس تجویز کی حمایت کریں کہ اس اتحاد میں تمام اسلامی ممالک کو یکجا کیاجائے یقین کیجئے گا اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیگا اور پھر یہودی اور ہندو مسلمانوں کیخلاف کوئی بھی سازش کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچا کریگا آج مسلمانوں میں حضرت سلمان فارسیؓ والی سوچ کی ضرورت ہے ان سے کسی نے پوچھا آپکانام آپ نے فرمایا اسلام، اس نے دوسرا سوال کیا، آپکے والد کانام کیا تھا انہوں نے جواب دیا اسلام، اسنے پھر حضرت سلمان فارسیؓ سے سوال کیا آپ کے دادا کا نام، فرمایا اسلام۔ مقصد یہ ہے کہ اگر عالم اسلام اقتصادی اور عسکری میدانوں میں ایک دوسرے کا دم بھرے گا تو ان دونوں میدانوں میں دنیا کا کوئی ملک بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکے گاآج وقت ہم سے دوراندیشی کا تقاضا کرتاہے آج ہم سب کو مسالک، لسانیت کے خول سے باہر نکل کر علامہ اقبال کے اس وژن کو حقیقت میں بدلنا ہوگا کہ ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے، نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر‘‘۔ مسلمان ملکوں کو آپس میں پیار و محبت سے رہناہوگا، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم آپس میں لڑرہے ہیں اور وہ بھی غیر مسلموں کی ترغیب اور شہہ پر؟