بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاکستان سے ڈومورکاامریکی مطالبہ

پاکستان سے ڈومورکاامریکی مطالبہ

قندہار اورکابل میں ہونیوالے بم دھماکوں کی پاکستان کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت اور افغانستان میں قیام امن کیلئے ہرممکن تعاون کے اعادے کے باوجود پاکستان پر اگر ایک جانب افغان حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے واقعات کی پشتیبانی کے الزامات ایک بار پھر دہرائے گئے ہیں تودوسری جانب افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے سابق سربراہ امراللہ صالح کی قیادت میں بیسیوں شرپسندوں کاکابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے سے افغان قیادت کاپاکستان مخالف چہرہ بھی ایک بارپھر عالمی سطح پر بے نقاب ہوگیاہے جبکہ تیسری جانب دہشتگردی کی تمام صورتوں کیخلاف پاکستان کی بے پناہ قربانیوں اور اقدامات کے باوجود اگر ایک جانب امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان پر فاٹا میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کابھونڈا الزام لگایاہے تو دوسری طرف امریکہ کے نامزد سیکرٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن نے بھی اپنا پہلا بیان پاکستان پردہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں داغ کر ممکنہ امریکی پالیسی کااظہار کردیا ہے ان چاروں الزامات کے پس منظر بظاہر جد اجداہیں لیکن ان کی ٹائمنگ کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پرپہنچنا چنداں مشکل نہیں کہ ان تمام الزامات کامقصد جہاں پاکستان کو دباؤ میں لاناہے وہاں پاکستان نے چونکہ پچھلے دو تین ماہ کے دوران اگر ایک جانب چین کیساتھ اپنے تعلقات میں مزید گرمجوشی کامظاہرہ کرتے ہوئے سی پیک پر کام میں تیزی لائی ہے تودوسری جانب پاکستان نے پہلی دفعہ افغانستان کے معاملے پر خطے کی دو بڑی طاقتوں روس اور چین کیساتھ مشترکہ موقف اختیارکرتے ہوئے امریکہ، افغان حکومت اور بھارت کو جو واضح پیغام دیاہے اس سے بھی امریکی کیمپ میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے دہشتگردی کیخلاف امریکی جنگ اورا س میں اب تک کے امریکی کردار اورحاصل ہونے والے نتائج کا اگر تقابلی جائزہ لیاجائے تو ا س سے جو تصویر ابھر کر سامنے آئیگی وہ یقیناًادھوری ہوگی طالبان حکومت کے زوال کے بعدامریکہ کادعویٰ تھاکہ چند ماہ کے اندر سارے افغانستان سے طالبان کا مکمل صفایا کردیاجائیگا لیکن اب خود اعلیٰ امریکی حکام اس تلخ حقیقت کابرملا اعتراف کررہے ہیں کہ امریکہ پندرہ سالہ جنگ کے دوران نہ توطالبان کامکمل خاتمہ کرسکا اورنہ ہی مستقبل قریب میں اس بات کے کچھ امکانات نظر آرہے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے طالبان کامکمل صفایا کرنے میں کامیاب ہوجائیگااس ساری صورتحال میں جب پچھلے سال پاکستان نے نیک نیتی سے افغانستان میں مستقل قیام امن کیلئے مری مذاکرات کاآغاز کیاتھا تو ا س سے یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شاید مذاکرات کی میز پر تمام فریقین کسی متفقہ حل پر پہنچ جائیں گے اور اسطرح اس خطے میں خونریزی کا نہ صرف خاتمہ ہوجائیگا بلکہ تمام فریقین کو سکھ کا سانس لیتے ہوئے جہاں اپنے وسائل کو خود اپنے شہریوں کی فلاح وبہبودکیلئے بروئے کار لانے کے مواقع دستیاب ہوسکیں گے وہاں ان وسائل کا کچھ حصہ تباہ شدہ افغانستان اورا س خطے کے دیگرممالک بالخصوص پاکستان کے قبائلی علاقوں کی آبادکاری کیلئے بھی بروئے کار لانے کی امید کی جاسکے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق امریکہ نے اپنے طاقت کے زعم میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کی شہادت کی صورت میں ان مذاکرات کو جس رعونت کے ساتھ سبوتاژ کیا اب اس کا سب سے زیادہ خمیازہ خو دامریکہ اورا سکی پٹھو افغان حکومت کوہی بھگتنا پڑرہاہے۔

اب ایسے میں امریکہ کے پاکستان سے ڈومور کے مطالبے کو باہر کی دنیا تو کجا خودامریکی عوام بھی سنجیدہ لینے کیلئے تیار نہیں ہیں اس خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ا س خطے کی سلامتی اور ترقی کا خواب تب ہی شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب ا س خطے کے ممالک اپنے مسائل حل کرنے کیلئے بیرونی طاقتوں پر انحصار کی بجائے اپنے علاقائی تعاون کو فروغ دینگے‘روس نے ماسکو مذاکرات پر افغان حکومت کے رد عمل کو مسترد کرتے ہوئے افغان حکومت کو ان مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دیکر جس کامیاب ڈپلومیسی کامظاہرہ کیا ہے وہ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ روس اگر مشرق وسطیٰ میں امریکہ اورا سکے اتحادیوں سے اپنا کردارمنوا سکتاہے توا س خطے جس سے روس اور اسکے مستقبل کے اتحادی چین کامستقبل وابستہ ہے سے کیونکر لاتعلق رہ سکتاہے اس پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں امریکہ اور افغان حکومت کی افغانستان میں قیام امن سے متعلق تشویش اور پریشانی کو سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں ہوگا وہاں یہ صورتحال یقیناًبھارت کیلئے بھی کسی ڈراؤنے خواب سے ہرگز کم نہیں ہوگی لہٰذا آنیوالے دنوں میں روس، چین اور پاکستان کواس خطے میں قیام امن کیلئے اپنے پتے انتہائی احتیاط اور ہوشیاری سے کھیلنا ہونگے۔