بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک امریکہ تعلقات :نئی جہتیں!

پاک امریکہ تعلقات :نئی جہتیں!

نئی امریکی انتظامیہ جانتی ہے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے تاہم دونوں ملکوں کے بہت سے مفادات مشترک ہیں اسی لئے پاکستان امریکہ کیساتھ دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے کا خواہاں بھی ہے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیرجلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ مل کر دونوں ممالک کی بہتری کیلئے کام کریں گے امریکہ کی نئی انتظامیہ میں جب دوبارہ سے ’ایف سولہ‘ لڑاکا طیاروں کے معاملے پر غور کیا جائیگا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں جائیگا ۔ سات دہائیوں پر پھیلے پاکستان امریکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا پاکستان نے ابتدا میں روسی کیمپ جائن کرنیکا عندیہ دیا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے روس کے دورے کا اعلان کیا مگر وہ روانہ امریکہ کے دورے پر ہو گئے!اس پر روس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور مدد کی پاکستان کی طرف سے جسطرح سے روسی کیمپ میں جانے کے بجائے امریکی کیمپ سے وابستہ ہونیکا فیصلہ کیا گیا امریکہ کو اسی طرح پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے تھا جسطرح روس نے انڈیا کا دیا1971ء کی جنگ میں روس بھارت کیساتھ کھڑا تھا‘ امریکہ نے اس جنگ کے دوران بحری بیڑہ روانہ کرنیکا اعلان کیا مگر مشرقی پاکستان کو سقوط سے بچانے کیلئے وہ بیڑہ کبھی نہ پہنچ سکا پاکستان نے امریکہ کا ساتھ بڑے اخلاص سے دیا چین کو امریکہ کے قریب لانے میں پاکستان کا کردار ناقابل فراموش ہے آج امریکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سرخیل ہے۔ اس نے طالبان حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی یہ پاکستان کی مدد ہی سے ممکن ہو سکا امریکہ اِس جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں ہوا یہ الگ بحث ہے البتہ پاکستان دہشتگردی کی لپیٹ میں بری طرح آ گیا اب امریکہ کو جس طرح پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے تھا اس کا عشر عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا ساتھ دینا اور تعاون کرنا تو کجا معروضی حالات میں پاکستان کو امریکہ کے معاندانہ رویئے کا سامنا ہے بے بنیاد الزامات پر جو غالباً بھارت کے ایماء پر لگائے جاتے ہیں‘ پاکستان کی امداد میں کٹوتی کی گئی اور ایف سولہ دینے سے انکار کر دیا گیا یہ ایف سولہ دہشتگردوں کیخلاف استعمال ہونے ہیں اور جو رقم امداد بند کرنے کے نام پر رد کی گئی ہے وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے اقدامات اور کارکردگی کا معاوضہ ہے۔

جو پاکستان امریکہ کے مابین باقاعدہ معاہدے میں طے پایا ہے جبکہ پاکستان کو اس جنگ میں ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے‘ یہ امداد اس نقصان کے مقابلے میں نہ ہونے کے مترادف ہے‘ جانی نقصان کی تلافی تو ناممکن ہے۔صدر بش کے بعد اوباما انتظامیہ کے ڈومور کے تقاضے پاکستان کی توہین کے مترادف تھے اوباما انتظامیہ کی طرف سے وقفے وقفے سے حقانی نیٹ ورک کیخلاف کاروائی کا مطالبہ اور افغانستان میں مداخلت سے باز رہنے پر زور دیا جاتا رہا ضرب عضب آپریشن کے بعد حقانی نیٹ ورک پاکستان سے افغانستان منتقل ہو گیا‘ وہاں پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کو افغان انتظامیہ نے ٹھکانے فراہم کر دیئے پاکستان نے سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کیلئے ’بارڈر مینجمنٹ‘ کا سلسلہ شروع کیا جسکی بھارت کے ایماء پر اشرف غنی انتظامیہ نے شدید مخالفت کی اُور کئی روز تک انٹری پوائنٹ پر زیر تعمیر گیٹوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ امریکہ ساری صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود پاکستان پر بے جا دباؤ ڈالتا اور مدد بند کر کے اور ایف سولہ دینے سے انکار کر کے بھارت کو خوش کرتا رہا اب پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ سے خطے میں امن کے قیام اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امیدیں وابستہ کی ہیں۔

شواہد کے مطابق ان کو ’بے جا‘ نہیں کہاجا سکتا گو کہ ’نومنتخب امریکی صدر‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں کاروائیوں کیلئے اب بھی پاکستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں مگر انکے لہجے میں بش و اوباما انتظامیہ جیسی رعونت تلخی اور ترشی نہیں۔ انہوں نے الفاظ کے چناؤ میں بڑی احتیاط کی اور کہا کہ ’’دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان کی سلامتی اور تحفظ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ہم پاکستان سے فاٹا میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘ کہاں اوباما انتظامیہ کی طرف سے یہی بیان دھونس دھمکیوں اور ڈکٹیشن کے ساتھ دیا جاتا تھا کہاں اب درخواست کی جا رہی ہے! ٹرمپ انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کرنا پاکستان کی وزارت خارجہ اور امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر کی ذمہ داری ہے پاکستان کے وزیر خارجہ کا قلمدان وزیر اعظم نواز شریف کے پاس ہے اس عہدے اور معروضی حالات کا تقاضا تھا کہ وہ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کیساتھ رابطے میں رہتے بھارتی پراپیگنڈے کا توڑ کرتے اور حقائق سے آگاہ کرتے وزیراعظم نواز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ فون پر گفتگو حوصلہ افزاء رہی ہے جس میں ٹرمپ نے پاکستان کا ساتھ دینے کا یقین دلایا جسکی پاکستان کے مخالفوں خصوصی طور پر دشمن بھارت کو شدید تکلیف ہوئی۔ ٹرمپ بیس جنوری کو اختیارات سنبھالینگے اب پاکستانی وزارت خارجہ کو مزید فعال اور متحرک ہو کر پاکستان کے موقف اور دہشتگردی کیخلاف اقدامات اور کارکردگی سے دنیا کو آگاہ کرنا ہو گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)