بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیٹرولیم مصنوعات:وسط مدتی اضافہ

پیٹرولیم مصنوعات:وسط مدتی اضافہ

وفاقی حکومت نے منظوری دے دی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں دو روپے فی لٹر تک کا اضافہ کر دیا جائے جس کا حسب توقع فوری اطلاق کردیا گیا ہے اور اب پٹرولیم مصنوعات کے یہ نرخ اِس ماہ اکتیس جنوری تک برقرار رہیں گے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ صرف ان مصنوعات کے نرخوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دیگر مصنوعات بشمول اشیائے خوردونوش پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور تاجر برادری پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو جواز بنا کر اپنی اشیاء کے نرخ بھی بڑھا لیتی ہے اس طرح ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنا فطری امر ہے جبکہ حکومت دوسری مصنوعات کے نرخوں میں ازخود کئے جانے والے اضافہ پر کوئی کنٹرول بھی نہیں رکھتی چنانچہ صنعتکاروں‘ تاجروں‘ ذخیرہ اندوزوں اور خوانچہ فروشوں تک کی اشیاء کے نرخ بڑھانے کی من مانیوں نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے بے وسیلہ عوام کو عملاً زندہ درگور کردیا ہے جن کے پاس وسائل کی بھی کمی ہوتی ہے اور وہ بے روزگاری کے گرداب میں بھی پھنسے ہوتے ہیں۔ ان میں یوٹیلٹی بلوں میں آئے روز ہونے والے اضافہ کو برداشت کرنے کی بھی تاب نہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کے نرخوں میں بھی اضافہ ہونے سے ان کیلئے تنفس کا سلسلہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

عوام میں ایک عمومی سوچ یہ پیدا ہوئی تھی کہ سال دوہزار سترہ چونکہ سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعتوں کے لئے انتخابات کی تیاریوں کا سال ہے اور اگلے سال انہوں نے اپنے اپنے پارٹی منشور کے ساتھ عوام میں جانا ہے اس لئے بالخصوص حکمران پارٹیوں کی جانب سے اس سال عوام کو چاہے حکومتی‘ سرکاری‘ ریاستی وسائل بروئے کار لا کر ہی سہی‘ زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں اور ان کے لئے عام انتخابات کی منزل آسان ہوسکے مگر حکمران نواز لیگ اس کے قطعی برعکس جس انداز میں عوام کے دُکھوں میں اضافہ کا باعث بننے والی پالیسیاں وضع کررہی ہے‘ اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں میں یا تو خوداعتمادی حد سے زیادہ پیدا ہوگئی ہے‘ حکومت کو عوامی مسائل کا ادراک ہی نہیں اسلئے وہ عوامی مخالفانہ جذبات کا احساس کئے بغیر ان پر مہنگائی اور دوسرے مسائل کے پہاڑ لادنے میں مگن ہے!

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی بیشی کے فارمولا کے برعکس ہمارے حکمرانوں نے ہر ماہ ان نرخوں میں ردوبدل کی پالیسی اختیار کی جس کے تحت زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کا جھٹکا ہی عوام کو لگا۔ جب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم نرخ کم ترین سطح یعنی چالیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے تھے اس وقت بھی ہمارے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھائے جاتے رہے۔ بھلا ہو عمران خان کی دھرنا تحریک کا جس کا دباؤ کم کرنے کے لئے مجبوراً پیٹرولیم نرخوں میں کمی کی گئی لیکن ساتھ ہی کم کئے گئے نرخ پٹرولیم مصنومات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس میں دس فیصد اضافہ کرکے پورے کرلئے گئے‘ قبل ازیں ایسی ہی عوام دشمن پالیسی ریگولیٹری اتھارٹیز سے بجلی‘ گیس کے نرخوں کے تعین کا اختیار واپس لے کر اختیار کی گئی جس کے تحت پاور کمپنیوں اور سی این جی سٹیشن مالکان کو بجلی اور گیس کے نرخوں کا ازخود تعین کرنے کا اختیار دے دیا جو وقت کی قید میں بھی نہیں رکھا گیا چنانچہ اب پاور کمپنیاں اور سی این جی مالکان خودمختار ہیں کہ وہ جب اور جتنا چاہیں بجلی‘ گیس کے نرخوں میں اضافہ عوام پر مسلط کر دیں۔ مہنگائی کی موجودہ بڑھتی ہوئی شرح پر ’روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے بھی خاموش ہیں۔ کیا پاکستان کسی ایسے خونیں انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے جب بھوک و افلاس کے ہاتھوں مرنے والے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کرلیں؟ بیرون ملک اَثاثے اُور مستقبل رکھنے والوں کو عام آدمی کی مشکلات و مسائل کا احساس کرنا چاہئے جن کے لئے مہنگائی جان لیوا حدوں کو چھو رہی ہے! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: جاوید مظہر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)