بریکنگ نیوز
Home / کالم / چیپل کواپنے سوال کاجواب خود مل گیا

چیپل کواپنے سوال کاجواب خود مل گیا

چیپل کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا نام ہے کرکٹ سے شغف رکھنے والے لوگ ان کی رائے اور کرکٹ پر تبصروں کو اہمیت دیتے ہیں لیکن اتنے بڑے کرکٹر کے منہ سے چندروز قبل ایک ایسا بیان نکلا جو ان کے شایان شان نہ تھاآسٹریلیا میں حالیہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی پر انہوں نے ایک ایسا بیان داغا کہ جو کئی پاکستانیوں کو برا لگا موصوف نے فرمایا کہ آئندہ ٰپاکستان آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ کھیلنے تب ہی اپنی ٹیم آسٹریلیا بھجوائے جب اسے یقین ہو کہ وہ آسٹریلیا کی سرزمین پرمیچ جیت سکے گی اس قسم کے غیر ضروری بیان کی قطعاً ضرورت نہ تھی ہار جیت کھیل کا لازمی حصہ ہوتے ہیں خود آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم بیرونی ممالک کے دوروں میں کئی کئی مرتبہ میزبان ٹیم کے ہاتھوں پٹی ہے ہمیشہ کوئی کرکٹ ٹیم نہیں جیتا کرتی، ہر ٹیم پر برے دن آتے ہیں کہ جسے کرکٹ کی زبان میں Lean Period کہا جاتا ہے کیا چیپل کو یاد نہیں کہ خود آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کو کئی کئی مرتبہ اس کے پرانے حریف انگلستان نے ایشیز(Ashes) کے ٹورنامنٹوں میں شکست دی ہے چیپل کا مندرجہ بالا بیان رعونت کے زمرے میں آتا تھا اس لئے پاکستانیوں کو ازحد خوشی ہوئی جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کو اگلے روز میلبورن کے کرکٹ گراؤنڈ پر دوسرے او ڈی آئی میں 6 وکٹوں سے شکست دی اور چیپل کے متذکرہ بالا مفروضے کو غلط ثابت کیا پاکستان میں کرکٹ کے ٹیلنٹ کی کبھی بھی کمی نہیں رہی ہاں یہ البتہ حقیقت ہے کہ جس طرح ہمارے سیاست دانوں نے سیاسی مداخلت سے اس ملک کے ہر ریاستی ادارے کا بیڑہ غرق کیا ہے بالکل اسی طرح انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن میں بھی بے جا سیاسی مداخلت کی اور پی سی بی کے چیئرمین پر اکثر دباؤ ڈالا کہ ان کے منظور نظر کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا جائے حالانکہ وہ میرٹ پر پورا نہ اترتے تھے افسوس یہ کہ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کو عبدالحفیظ کارداراور ائیر مارشل نور خان جیسے چیئرمین شاذ ہی نصیب ہو ئے کہ جن کے اعصاب اتنے مضبوط تھے کہ وہ کسی بھی سیاسی پریشر کو اپنے اوپر سوار ہونے نہ دیتے تھے ۔

او ر ان کی شہرت اور اصولی پرستی اتنی واضح تھی کہ کوئی ڈر کے مارے بھی ان کو کسی کھلاڑی کی سفارش نہ کر سکتا تھا پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈکا چیئرمین تو اس شخص کو بنایا جا نا چاہئے کہ جس کو کرٹ کی شدبد بھی ہو ا‘اور ان خصوصیات کیساتھ ساتھ مالی امور میں بھی وہ اچھی شہرت کا مالک ہو کیونکہ کرکٹ کنٹرول بورڈ کے پاس اربوں روپے کا بجٹ ہوتا ہے ‘ اب جبکہ پاکستان نے دوسرا ایک روزہ میچ جیت لیا ہے ایک امید سی پیدا ہو گئی ہے کہ پاکستان تھوڑی مزید محنت سے آسٹریلیاسے یہ ODI سریز جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے دراصل عرب امارات کی پچز پر پاکستان کی کرکٹ ٹیم عرصہ دراز سے ہوم سیریز کھیل رہی ہے اور اس سے ہماری ٹیم کو بجائے فائدے کے نقصان پہنچا ہے کیونکہ امارات کی پچز کو کرکٹ کی زبان میں Dead Wickets کہا جاتا ہے اگر ہم نے اپنی کرکٹ ٹیم کو معیاری بنانا ہے تو سے بار بار حتیٰ الوسع جنوبی افریقہ ‘ انگلستان ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کے دوروں پر بھجوانا ہو گا ان ممالک کی وکٹوں پر کھیل کر جو تجربہ ہمارے کھلاڑی حاصل کریں گے وہ پھر کلا کلاں کسی بھی ملک کیخلاف کسی بھی کرکٹ گراؤنڈ پر کسی بھی سطح کے میچ میں انکے کام آئیگا اب تو 2019ء کا ورلڈ کپ بھی کچھ زیادہ دور نہیں اس سے پیشتر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو جتنے زیادہ بیرونی ممالک کے دورے کروائے جائیں اتنے ہی وہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی تیاری میں ہمارے لئے ممدو معاون ثابت ہوں گے ۔