بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم معاملات میں مشاورت کی روایت

اہم معاملات میں مشاورت کی روایت

حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے دوسرے اجلاس میں بھی فیصلہ نہیں ہوسکا، میڈیا رپورٹس کے مطابق باہمی مشاورت کی غرض سے اے پی سی بلانے پر غور بھی کیا جارہا ہے، پارلیمانی قائدین کے اجلاس میں اپوزیشن نے نیشنل ایکشن پلان پر کارکردگی کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کی بریفنگ کیلئے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیپ سے متعلق مزید سوالوں کے جوابات بھی مانگے گئے ہیں، آل پارٹیز کانفرنس میں ملٹری کورٹس یا پھر خفیہ تیز رفتار عدالتوں کے قیام پر بات ہوگی تاہم اے پی سی سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے جو تادم تحریر سامنے نہیں آیا، قانون وانصاف کیلئے حکومت کے مشیر بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک تمام جماعتیں اتفاق نہیں کرتیں فوجی عدالتوں کے معاملے پر کچھ نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام جماعتیں اس بات کا ادراک رکھتی ہیں کہ اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، جمہوری معاشرے میں اہم معاملات پر سیاسی قیادت میں مشاورت ہمیشہ متفقہ فیصلوں تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوتی ہے مشاورت کے اس عمل میں ہر ایک کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل سکتا ہے وطن عزیز کودرپیش مختلف مسائل پر ہمیشہ آل پارٹیز کانفرنسز ہوتی رہی ہیں، اس وقت ضرورت یہ بھی ہے کہ توانائی بحران کے خاتمے ملکی معیشت میں بہتری کے اقدامات اور اس کے ثمرات سے شہریوں کومستفید کرنے، گرانی کے خاتمے اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی جیسے امور پر بھی سیاسی قیادت یکجا ہو کر فیصلے کرے، فیصلے آبی وسائل میں اضافے اور خصوصی حالات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کے واجبات کی ادائیگی کیساتھ اس صوبے کو مزید مراعات اور سہولیات پر پیکج کے حوالے سے بھی ہونے چاہئیں، تمام تر سیاسی اختلافات کے ساتھ ہماری قومی قیادت کو یہ بات بھی مدنظر رکھناہوگی کہ ملک میں غریب اور متوسط طبقے کی ریلیف کیلئے اقدامات ضروری ہیں تاکہ اس کااپنی منتخب قیادت پرا عتماد بڑھے، جو پورے سسٹم کی تقویت کا ذریعہ بنے گا۔

حیات آباد میں پارک بنانے کا اعلان

پشاور ترقیاتی ادارہ کے سربراہ سلیم حسن وٹو نے پشاور میں صوبے کا سب سے بڑا اور جدید پارک بنانے کا عندیہ دیا ہے، یہ پارک حیات آباد میں بنے گا، صوبائی دارالحکومت کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ مذکورہ پارک کا منصوبہ قابل اطمینان ہے تاہم اس کے ساتھ ضرورت پشاور میں پہلے سے موجودہ تفریح گاہوں کی حالت زار کا نوٹس لینے کی بھی ہے، ضرورت پشاور میں مزید پارکس بنانے کی بھی ہے، حیات آباد اس حوالے سے پہلے بھی خود کفیل ہے، پشاور چڑیا گھر کا منصوبہ بھی حیات آباد اور یونیورسٹی ایریا کیلئے رسائی کے حوالے سے زیادہ آسان ہے۔

جہاں تک اندرون شہر کی آبادی کا تعلق ہے تو اس کیلئے مین شارع جی ٹی روڈ پر ایسے جدید پارک کی ضرورت ہنوز موجود ہے جو پشاور اورنوشہرہ کے سنگم پر ہو، اضاخیل کا فاصلہ پشاور سے زیادہ ہے، اس لئے وہاں تک پشاور سے رسائی اتنی آسان نہیں، جدید سہولیات سے آراستہ ایک پارک ایسے مقام پر بھی بن سکتا ہے جو پشاور اور چارسدہ کے درمیان ہو تاہم تمام تفریح گاہوں کا ماحول ایساہونا ضروری ہے جہاں لوگ فیملی کیساتھ اطمینان سے جاسکیں یہ ماحول ایک سے زائد ادارے مل کر ہی یقینی بناسکتے ہیں جن میں رابطہ ناگزیر ہے۔