بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سندھ ہائیکورٹ کا ماڈل گرل ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کا ماڈل گرل ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم


کراچی ۔ سندھ ہائیکورٹ نے ماڈل گرل ایان علی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا ،فیصلہ ریفری جج جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے تحریر کیا ہے۔ پہلے دو ججز کے درمیان ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے اختلاف پیدا ہوا تھا جس کے بعد ریفری جج جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ایان علی کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس سے قبل جسٹس احمد علی ایم شیخ نے فیصلہ سے اختلاف کیا تھا اور قرار دیا تھا کہ درخواستیں قابل سماعت نہیں۔

جبکہ جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے۔ ریفری جج نے کے کے آغا کے فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوئے ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ دوران سماعت ایان علی کے وکیل سردار لطیف خان کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایان علی کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود ان کا نام دوبارہ ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا تھا جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین کا کہنا تھا کہ ایان علی کا نام عدالتی حکم پر نکال دیا گیا تھا۔

اس کے بعد پنجاب حکومت کی درخواست پر کسٹم آفیسر کے قتل کے کیس میں ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ درخواست قابل سماعت نہیں ہے تاہم عدالت نے ان کا موقف مسترد کرتے ہوئے ایان علی کی استدعا منظور کر لی اور ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے تیسری دفعہ ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایان علی کا نام فوری طور پر ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے جبکہ عدالت نے سرکاری وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لئے 15 روز کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کر دی۔