بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / آف شور کمپنیاں غیر قانونی نہیں ،ٹیکس اور اثاثے چھپانا غیر قانونی ہے،سپریم کورٹ

آف شور کمپنیاں غیر قانونی نہیں ،ٹیکس اور اثاثے چھپانا غیر قانونی ہے،سپریم کورٹ


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں،ٹیکس اور اثاثے چھپانا غیر قانونی ہے۔عدالت مفروضوں پر فیصلہ نہیں دے گی بلکہ حقائق کو دیکھے گی ،یہ کیس پوری قوم سے متعلقہ ہے کیونکہ فریق وزیر اعظم ہیں ، ہمیں 20 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کو بھی دیکھنا ہوگا۔جمعرات کے روز جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔سماعت شروع ہوئی تو مریم نواز کے نام خریدی گئی جائیداد کی تفصیلات انکے وکیل شاہد حامد ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش کی جن دستاویزات میں جائیداد خریداری کی تاریخیں اور قانونی دستاویزات شامل ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا زمین والد نے بیٹی کے نام خریدی تھی جس پر وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ والد نے بیٹی کے نام اراضی خریدی، مریم نواز نے بعدازاں اراضی کی قیمت ادا کی تو زمین کا انتقال ہوا جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ زیر کفالت ہونے کی تاریخ انکم ٹیکس قوانین میں ہے نہ ہی عوامی نمائندگی ایکٹ میں کیس کو مدنظر رکھ کر ہی زیر کفالت کی تعریف کوسمجھنا ہوگا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں بے نامی جائیدادوں کی تعریف تو ہے لیکن زیر کفالت کی نہیں، اس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ بے نامی کے حوالے سے عدالت کے متعدد فیصلے موجود ہیں، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے ان عدالتی فیصلوں میں دو فریقین کے درمیان تنازعہ تھا، عمومی طور پر والد زیر کفالت بچوں کو جائیداد خرید کر دیتے ہیں، یہاں اس کیس میں فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت کا کوئی تنازعہ نہیں ہے جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ الزام بے نامی جائیداد کی خریداری کا بھی ہے، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ زیر کفالت ہونے کا فیصلہ حقائق کی بنیاد پر کرسکتے ہیں، ہماری تشویش زیر کفالت سے متعلق حقائق پر ہے۔

اس حوالے سے حقائق پیش کئے جائیں اس پر وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز قطعی طور پر کسی کے زیر کفالت نہیں اور مالی طور پر خود مختار ہیں، مریم کے اثاثوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کیسے برداشت کرتی ہیں،مریم کے حوالے سے مزید حقائق شاہد حامد پیش کرینگے، ہر ٹرانزیکشن کو بے نامی نہیں کیا جاسکتا، بے نامی ٹرانزیکشن کی قانون میں باقاعدہ تعریف موجود ہے،وزیر اعظم کے وکیل نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بے نامی جائیداد سے متعلق ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے خود کہا ہے وکیل صاحب کہ جائیداد کے مریم کے نام پر رکھی گئی، مریم کو تحفے میں رقم دی گئی جو اس نے والد کو بعد میں واپس کی، تحفے میں دی گئی رقم کی واپسی کے بعد جائیداد مریم کو مل گئی، اس سے لگتا ہے مریم نواز والد کی زیر کفالت ہیں، مریم نواز کے مالی حالات میں 2011 کے بعد بہت تبدیلی آئی، اس پر وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز 2010 میں بھی والد کے زیر کفالت نہیں تھیں، لندن فلیٹس ٹرسٹ ڈیڈ پر شاہد حامد دلائل دیں گے جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کے نام جائیداد خریدتا ہے تو کیا وہ بھائی کے زیر کفالت ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ ہے ایسی جو بھی جائیداد ہے اس کو ظاہر کیا جانا چاہیئے، 20 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کو بھی دیکھنا ہوگا، اس کیس میں پوری قوم متعلقہ ہے کیونکہ فریق وزیر اعظم ہے، آرٹیکل 225 کے تحت الیکشن میں کامیابی کو چیلنج کرنے کی معیاد مختصر ہے، معیاد ختم ہونے کے بعد آرٹیکل 184/3 اور 199 کے تحت آئینی عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، اسی وجہ سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض نہیں کیا، جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا آئینی مقدمے میں کو وارنٹو رٹ کو لایا جاسکتا ہے، ایک آئینی مقدمے میں رٹ آف کو وارنٹو میں وزیر اعظم کو کیسے نااہل کیا جاسکتا ہے، کیا 184/3 کے مقدمے کو کو وانٹو میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس کو وارنٹو کا نہیں بلکہ اہلیت کا ہے جبکہ جسٹس گلزار نے کہا کہ عدالت کی معاونت کی جائے کہ کیا اس کیس کی کو وارنٹو کے تحت سماعت کی جاسکتی ہے یا نہیں، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ موجودہ کیس میں دونوں فریقین کا موقف ایک ہے۔ بے نامی کے معاملے پر نیب کی تعریف متعلقہ ہوسکتی ہے، جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے معاملہ الیکشن کا نہیں بلکہ نواز شریف کی بطور وزیر اعظم کہ اہلیت کا ہے ۔ وزیر اعظم کے وزیر اعظم ہاؤس ہولڈ کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ محمود اختر نقوی کیس میں ارکان اسمبلی کو نااہل کیا گیا تھا وزیر اعظم کو نہیں۔ نواز شریف کی نااہلی بطور رکن اسمبلی ہو سکتی ہے، اس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ دوسرے فریق کا کہنا ہے نواز شریف اب رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہاں پر معاملہ رٹ آف کو وارنٹو سے بالاتر ہے، یہ عوامی اہمیت کا کیس ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہاں پر پانامہ سنگاپور اور آف شور کمپنیوں کا معاملہ نہیں بلکہ قانونی نقطہ نااہلی کا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ غیر متنازعہ دستاویزات حاصل کی جائیں، لیکن دستاویزات فراہم نہیں کی جارہیں، مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی بیرون ملک کوئی ایسی سرمایہ کاری نہیں جو آف شور نہ ہو، نیویارک ہوتلز، روز ویلٹ ہوٹل وغیرہ ٹیکس سے بچاو کے لیے آف شور ہیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا آپ یہ مثالیں دے کر موکل کے اقدامات کو justifyکر رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنیوں کے زریعے ٹیکس چھپایا نہیں بچایا جاتا ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس کا مطلب ہے ا آپ یہی کرتے رہے ہیں جبکہ آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ موزیک فوزیکا 13000 آف شور کمپنیوں کو ڈیل کر رہی ہے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ قابل سماعت ہونے کو چیلنج نہیں کر رہا، وقفے کے بعد 183(3) کے تحت آپ کیس سن سکتے ہیں یا نہیں اس پر دلائل دوں گاجبکہ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ حقائق متنازعہ ہوں تو عدالت بے بس نہیں، متنازعہ حقائق پر انکوائری اورحقائق تسلیم ہو جائیں تو فیصلہ ہوتا ہے جو دستاویزات ہم مانگ رہے ہیں وہ موزیک فونیسکا کی ہیں جو قانونی معاونت کا ادارہ ہے،دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں۔

ٹیکس اور اثاثے چھپانا غیر قانونی ہے، جبکہ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ 184 (3)کا اختیار یقینی طور پر عدالت قانون کے مطابق استعمال کرے گی، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آرٹیکل 78 کے تحت جب تک کسی دستاویز یا کتاب کی تصدیق نہ ہو جائے ا سکو فیصلے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وزیر کے وکیل نے کہا کہ دوسری جانب سے کتابوں کے حوالے دئیے گئے۔میں بھی کتاب عدالت کے سامنے رکھتا ہوں، جبکہ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کتاب میں مصنف کی رائے پر یقین نہیں کر سکتے، اگر مقدمہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہو اور سپریم کورٹ میں آجائے تو کیا کہیں گے، 1993 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کا مقدمہ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں سنا گیا تھا، جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ 199 آرٹیکل کے تحت ہائی کورٹ کا فیصلہ ہو تو کیا پہر بھی ایسا کیس سپریم۔کورٹ سن سکتی ہے ، فوجداری کیس میں کسی کتاب کے مصنف کو بھی بلانا پڑتا ہے تاکہ وہ ھر صفحے اور لفظ کی تصدیق کرتا ہے، جس پر وزیراعظم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بنیادی حقوق کے معاملات اگر برسوں تک ہائی کورٹ میں زیر التوا ہوں تو سپریم کورٹ اس کی سماعت کر سکتی ہے لیکن عدالتی فیصلوں کے تحت اخباری خبریں شواہد نہیں، قانون شہادت کے تحت اخباری خبروں کو قانون کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے،184/3 کے تحت اخباری خبر کو عدالت مختلف انداز سے دیکھتی ہے، 184 /3 کے کچھ مقدمات میں سپریم کورٹ نے اپنے اختیار کو وسیع کیا اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ان مقدمات میں شواہد کا جائزہ لے کر حقائق تک پہنچا گیا، آپ 184/3 کے تحت اختیارات محدود اور ہم وسیع ہونے کی بات کر رہے ہیں،جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مخدوم صاحب آپ چالیس سال پرانے مقدماتکا حوالہ دے رہے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ ہمیں شرمندہ کر رہے ہیں،جبکہ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت نئی مثالیں قائم کر چکی ہے، پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا ہے، اس پر وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ امید ہے عدالت قانون کی حدود میں کھڑی ہوگی، مخدوم نصرت بھٹو کیس، لوکو موٹو کیس کے حوالہ جات بھی ہیں، اس پر جسٹس آ صف سعید نے کہا کہ اس اسمبلی تحلیل کے مقدمات میں سوال کرپشن کا تھا، وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ اسمبلی تحلیل کے مقدمات میں عدالت نے صدر کے اقدام کا جائزہ لیا، 58 ٹو بی کے مقدمات میں عدالت شہادت نہیں دیکھتی، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت اپنے سامنے رکھے حقائق کو دیکھے گی، کیا حالیہ مقدمہ میں ایسے ہی مواد کو نہیں دیکھ رہی جبکہ اس مقدمہ میں عدالت کے سامنے فیصلہ تک پہنچنے کے لیے مواد کاہے، مفروضوں پر فیصلے کیسے دیں جسٹس آصف سعید کا کہنا تھا کہ ہر فریق کا موقف سننا چاہتے ہیں تا کہ سب کی تسلی ہو جائے عدالت نے نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل کو قابل ستائش قرار دے دیا، وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت آج جمعہ تک ملتوی کردی، آج جماعت اسلامی کے وکیل توصیف آصف آپنے دلائل شروع کر یں گے