بریکنگ نیوز
Home / کالم / قیادت کا فقدان

قیادت کا فقدان

امریکی نو منتخب صد ر ٹرمپ کی شخصیت کے پہلو دن بہ دن آشکار ہو رہے ہیں او ر ان کی جو تصویر ابھر کر لوگوں کے سامنے آ رہی ہے وہ ان لوگوں کیلئے پریشان کن ہے جو دنیا میں امن و آشتی کے خواہش مند ہیں اور جو اب یہ بالکل نہیں چاہتے کہ سپر پاورز اپنے مخصوص سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے تیسری دنیا کے ممالک کو استعما ل کریں ‘ موصوف نے اگلے روز بغیر کسی جواز کے تائیوان کے گاڑے مردے کو اکھیڑا ہے اور خواہ مخواہ چین کے ساتھ پنگا لینے کی کوشش کی ہے دنیا جانتی ہے کہ 1949ء سے لیکر1960 کی دہائی کے اواخر تک چین اور امریکہ کی سفارتی تعلقات نہ تھے اور چین کو نیچا دکھانے اور اس کیلئے مسائل پیدا کرنے کے لئے امریکہ تائیوان کا دم بھرتا تھا اور اسے چین کا حصہ نہیں سمجھتا تھا جب 1960ء کی دہائی کے آخری ایام میں امریکہ نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنیکی اپنی خواہش کا اظہار کیا تو چین کے سربراہ ماؤزے تنگ نے یہ شرط رکھی کہ امریکہ تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کرے اور اسے خواہ مخواہ چین کیخلاف ایک ڈھال کی طرح استعمال نہ کرے امریکہ نے چین کی یہ شرط مان لی اور امریکہ اور چین میں سفارتی روابط بحال ہو گئے آج چار دہائیوں سے یہ مسئلہ حل طلب ہے اب اسوقت ٹرمپ کو یہ کہنے کی بھلا کیا ضرورت تھی کہ و ہ چین کے مین لینڈ کو ہی چین تصور نہیں کرتا بلکہ تائیوان کو بھی چین سمجھتا ہے یہ تو شرارت کرنے والی بات ہوئی چین کا ٹرمپ کے اس بیان پر سیخ پا ہوناایک فطری عمل تھا بعد میں جب امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سینئر اہلکاروں کو ٹرمپ کے اس غیرضروری بیان کے نقصانات کا اندازہ ہوا تو انہوں نے اپنے تئیں معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن کمان سے جب ایک مرتبہ تیر نکل جائے۔

تو اس کو واپس لانا مشکل ہوتا ہے 1994 کے دوران ہم چین کے مطالعاتی دورے پر تھے اس وقت چین کے پالیسی ساز اداروں نے یہ مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ ہم نے 2014ء تک کسی بھی ملک بشمول امریکہ کے کسی بھی مسئلے پر ان سے پنگا نہیں لینا کیونکہ فی الحال ہم امریکہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے 2014ء تک ہم کسی کے اشتعال میں نہیں آئیں گے اور صرف چین کی معیشت کی مضبوطی اور سائنس کے میدان میں ترقی پر زور دینگے تاوقتیکہ ہم امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہو سکیں آج چین اس پوزیشن میں آ گیا ہے کہ اب وہ کسی بھی مسئلے پر امریکہ کیساتھ سخت رویہ اختیار کر سکتا ہے ٹرمپ کا تائیوان کے بارے میں بیان شرانگیز ہے اس طرح ٹرمپ کا برطانیہ کو یہ نصیحت کرناکہ وہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کیخلاف پیش ہونے والی ہر قرار داد کو ویٹو کرے بھی ایک بیمار سیاسی ذہن کی غمازی کرتا ہے نظر یہ آ رہا ہے کہ نیا امریکی صدر ایک نسل پرست شخص ہے ۔

جو بین الاقوامی امور میں امریکہ کو تنہا کر دے گا افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ یا تو ایک زمانہ تھا جب جارج واشنگٹن ‘ ابراہام لنکن‘ جیفرسن‘ روز ویلٹ ‘آئزن ہاورجیسے دوراندیش‘ بردبار اور پڑھے لکھے افراد امریکہ کے صدر ہوا کرتے تھے اور یا پھر ایک آج کادور ہے کہ جب پہلوانوں کے طبقے سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ جیسے لوگ وائٹ ہاؤس میں براجمان ہوں گے ماضی میں کیا بلندی تھی اور حال میں کیا زوال ہے ؟ادھر برطانیہ کی لیبر پارٹی کی قیادت بھی ایک سر پھرے انتہا پسند لیڈر کاربائن کے ہاتھ آ گئی ہے کہ جو آئے دن برطانیہ میں مزدوروں کو ہڑتالوں پر مجبور کر رہا ہے جس سے خدشہ یہ ہے کہ جس طرح ماضی میں مسز مارگریٹ تھیچر کی وزارت عظمیٰ کے دوران آرتھرسکارگل روزانہ برطانیہ کے کوئلے کی کانوں کے مزدوروں کو ہڑتالوں پر اکساتا تھا اور جنکی ہڑتالوں کی وجہ سے برطانیہ کی معیشت کا دیوالیہ نکل گیا تھا بالکل اسی طرح موجودہ حکومت کی معیشت کا بھی جنازہ نہ نکل جائے اگر ٹرمپ کی طرح لیبرپارٹی کاربائن کی قیادت میں برطانیہ میں برسر اقتدار آتی ہے تو پھر یک نہ شد دو شد والی بات ہو گی اور ان دونوں ممالک میں آباد ایشیائی اور افریقی نژاد لوگوں کے برے دن آجائیں گے ۔