بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاناما کیس‘وزیراعظم نوازشریف نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی، وکیل جماعت اسلامی

پاناما کیس‘وزیراعظم نوازشریف نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی، وکیل جماعت اسلامی

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے وکیل نے موقف اپنایا ہے کہ نوازشریف نے بطوروزیر اعظم اور بطور رکن قومی اسمبلی اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی اس لئے ان کی تقریر کو بطو رشواہد استعمال کرتے ہوئے عدالت ان کو نااہل قرار دے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں اپنے ذاتی مفاد کیلئے تقریر کی ان کی تقریر کسی قومی مفادیاعوامی فلاح و بہبود کیلئے نہیں تھی اس لئے ان کی تقریر کو آئین کے آرٹیکل66کے تحت استحقاق نہیں دیا جاسکتا ۔عدالت نے جماعت اسلامی کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے جس دن تقریر کی تھی اس دن کا ایجنڈا عدالت میں جمع کروا دیں۔

دوران سماعت عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ آرٹیکل 248کے تحت استثنی اور 66کے تحت استحقاق الگ الگ ہیں، نوازشریف نے آرٹیکل 66کے تحت استثنیٰ نہیں استحقاق مانگا ہے ،بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ذاتی الزامات کا جواب دینے کیلئے اسمبلی فلور استعمال ہو سکتا ہے ؟ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے اگلی سماعت پر جماعت اسلامی کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے پانچ رکنی بینچ نے جمعہ کو پانامالیکس کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی، نوازشریف نے اپنے لندن کے اثاثے چھپائے لہذا وہ صادق اور امین نہیں رہے اور نااہل قرار دیا جائے۔

توفیق آصف درخواست میں کی گئی استدعا پڑھتے ہوئے موقف اپنایا کہ یہ آئینی درخواست آئین کے آرٹیکل 184-3 کے تحت دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ کیونکہ میاں محمد نواز شریف نے اپنے اثاثے چھپائے ہیں اس لیے وہ صادق و امین نہیں رہے ۔عدالت آئین کے آرٹیکل 62-1F کے تحت انہیں نا اہل قرار دے۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے استدعا میں وزیراعظم پر صرف ایک الزام عائد کیا ہے کہ جائیداد چھپائی ہے اس لیے نااہل قرار دیا جائے توفیق آصف نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف نے لندن فلیٹس کی ملکیت سے انکار نہیں کیا ، نوازشریف کی تقریر بطو رشواہد استعمال ہو سکتی ہے اور عدالت کو ڈیکلریشن دینے کا اختیار ہے۔ نوازشریف کے کاغذات نامزدگی اور اثاثوں میں لند ن فلیٹس کا ذکر نہیں ، کیا نوازشریف کی قومی اسمبلی میں تقریر قانون شہادت کے زمرے میں نہیں آتی ؟ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کی آپ سمجھتے ہیں کہ عدالت کو 184/3کے مقدمے میں ڈکلریشن دینے کا اختیار ہے ؟جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت کو تبایا کہ نوازشریف نے بطور ایم این اے اور وزیر اعظم حلف کی پاسداری نہیں کی جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں حلف کی پاسداری نہ کرنے پر نااہل قراردیاجائے؟ ۔ وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے وزیر اعظم نوازشریف کی تقاریر میں تضاد پر دلائل دئیے۔وزیر اعظم کی تقریر اعتراف جرم ہے ۔ عدالت کا دائرہ اختیار ہے کہ فائنڈنگز ریکارڈ کر کے ڈکلریشن جاری کرے۔اتفاق فاؤنڈری 1980میں خسارے میں تھی اور وزیر اعظم کے مطابق اتفاق فاؤنڈری 3 سال میں خسارہ ختم کر کے 60کروڑ منافع پر چلی گئی ۔ 1985میں اتفاق فاؤنڈری کا دائرہ کئی کمپنیوں تک پہنچ گیا ۔توفیق آصف نے عدالت کو بتایا کہ دبئی میں گلف سٹیل مل قائم کی جو 9ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کاروبار کی رقم کہاں سے آئی ۔وزیر اعظم کی تقریر کو درست مان لیا جائے کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔تقریر میں کہا گیا کہ فلیٹ 1993سے 1996میں خریدے گئے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ بات کہاں مانی گئی ۔

اگر ایسا ہوتا تو ہم اتنے دنوں سے یہ کیس کیوں سن رہے ہیں ؟وکیل توفیق آصف نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف نے تقریر میں کہا تھا کہ وہ دبئی فیکٹری کے وقت سیاست میں نہیں تھے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا آپ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اعتراف کیا ہے جسے ہم ڈھونڈ رہے ہیں ۔ تقریر کا وہ حصہ دکھائیں جس میں اعتراف کیا گیا ہے ۔ آپ کہتے ہیں تقریر میں تضاد نہیں اعتراف ہے ۔ آپ کا کیس پی ٹی آئی سے بہت مختلف ہے ۔بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر وزیر اعظم لندن فلیٹس کی ملکیت تسلیم کرتے تو اتنے دن سماعت ہی نہ ہوتی ۔جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا یہ وہ وسائل ہیں جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے ۔وزیر اعظم نے تقریر میں کہا کہ دبئی اور جدہ فیکٹری کا تمام ریکارڈ موجود ہے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ نعیم بخاری کا موقف ہے کہ وزیرا عظم کی تقاریر میں تضاد ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ یہاں پر 2سوالات ہیں ، سوال نمبر ایک فلیٹس کب خریدے گئے اور دوسرا ان کا وزیر اعظم سے کیا تعلق ہے ؟خریداری کی حدتک اعتراف ضرور ہے مگر یہ نہیں ہے کہ جائیداد نوازشریف نے خریدی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لندن فلیٹس کے خریدنے کا ذکر بھی والد کے حوالے سے ہے جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ لندن فلیٹس کا ذکر ظفر علی شاہ کیس میں موجود ہے ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا ظفر علی شاہ کیس میں نوازشریف فریق تھے تو وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف ظفر علی کیس میں فریق اول تھے۔ ایڈوکیٹ خالد انور نے اس وقت نوازشریف کی کیس میں وکالت کی جس پر وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ ظفر علی شاہ کیس میں نوازشریف فریق نہیں تھے ۔بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کیا آپ میری آواز سن پا رہے ہیں ، جناب وکیل صاحب؟جس کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل کے دوران ظفر علی شاہ کیس سے متعلق دلائل واپس لے لئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ جو حوالہ دے رہے ہیں وہ وکلاکے دلائل ہیں عدالتی فیصلہ نہیں ، پراپرٹی کی ملکیت اس کیس میں بھی ثابت نہیں ہے ۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل نے لندن فلیٹس پر حوالے دیے مگر عدالت نے ان حوالوں کو قبول نہیں کیا تھا ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ توفیق آصف صاحب خدا کا خوف کریں ، آپ نے درخواست میں غلط بیانی کی ۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ پر آرٹیکل 62لگائیں یا 63؟ ان ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ لگ گیا جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ پاناما کیس میں بار ثبوت شریف خاندان پر ہے ، ثبوت کے طور پر نوازشریف نے 3تقاریر کیں اور پھرعدالت میں استثنی مانگ لیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 248کے تحت استثنی اور 66کے تحت استحقاق الگ الگ ہیں، نوازشریف نے آرٹیکل 66کے تحت استثنی نہیں استحقاق مانگا ہے ،بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیرا عظم نے استثنی نہیں مانگا ۔ جسٹس گلزار احمد نے وکیل توفیق آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیس کو اتنی غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئیے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کے موکل انتہائی قابل اخترام ہیں ، وکیل کی غلطی کو موکل پر نہیں ڈالنا چاہئیے۔ وکیل توفیق آصف نے کہا نوازشریف کی اسمبلی تقریر میں حکومتی پالیسی بیان نہیں تھا ۔وزیرا عظم نوازشریف نے بطور ایم این اے ذاتی الزامات کا جواب دیا ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کیا وزیر اعظم کی تقریر ایجنڈے کا حصہ تھی ؟ کیا ذاتی الزامات کا جواب دینے کیلئے اسمبلی فلور استعمال ہو سکتا ہے ؟

جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ نوازشریف کی تقریر ذاتی وضاحت ہے اس لئے اس کو پارلیمانی استحقاق حاصل نہیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کا زیادہ انحصار وزیر اعظم کی اسمبلی تقریر پر ہے ۔ وزیر اعظم کی تقرری قومی اسمبلی کے ایجنڈا میں شامل نہیں تھی ۔ اس موقع پر انہوں نے قومی اسمبلی ایجنڈا پیش کیا تو عدالت نے کہاکہ ایجنڈا کی کاپی عدالت میں جمع کروا دی جائے۔توفیق آصف نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 5 میں کہا گیا ہے کہ ملک کا ہر شہری ملکی قانون پر عملدرآمد کا پابند ہے چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 65 کا حوالہ دیا جس میں بطور ایم این اے اور بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کا ذکر کیاگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے پہلے ایم این اے پھر وزارت اعظمیٰ کا حلف لیا دونوں حلفوں میں جو الفاظ شامل ہیں وہ انتہائی متعلقہ ہیں۔حلف لیتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی یہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ آئین و اسلامی نظریہ کی حفاظت کریں گے۔جسٹس آصف کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا غیر مسلم بھی یہی حلف لیتے ہیں توفیق آصف نے کہا کہ آئین میں تو یہ ایک ہی حلف ہے تاہم وزیر اعظم کے حلف میں یہ واضح طور پر حلف اٹھاتا ہے کہ میں قانون کا احترام کروں گا اور اپنے ذاتی مفاد کو ملکی و قومی فیصلوں پر مقدم نہیں سمجھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم 1981ء سے 1997ء تک کاروبار اور سیاست ایک ساتھ کرتے رہے ۔ جب عام شہری آرٹیکل 5 کا پابند ہے تو وزیراعظم کا منصب تو اس سے بہت اعلیٰ ہے اس منصب کے حوالے سے کوئی چیز مبہم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف 1984ء میں وزیراعلیٰ بنے ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مفروضوں پر ہم کہاں تک چلیں گے نہ میٹریل ہے نہ کوئی ثبوت ہے ہم کس چیز پر فیصلہ سنا دیں۔جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار نے کیا کہ آپ نے کتنے نکات باقی رہ گئے ہیں تو توفیق آصف نے کہا کہ ابھی تو بہت سے نکات باقی ہیٍں۔اس موقع پر توفیق آصف نے ایمانداری کے حوالے سے لخت میں دی گئی تشریح پڑھی اور جسٹس گلزار نے کہا کہ یہ تشریخ کس تناظر میں کی گئی ہے ۔توفیق آصف نے جواب دیا کہ یہ تشریح پارلیمان کے رکن کے کنڈیکٹ کے بارے میں ہے۔وزیراعظم کے لیے الگ معیار نہیں ہوسکتا۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس کیس میں تو کوئی شہادت ہی نہیں ہے۔توفیق آصف نے کہا کہ تقریر کو بطور شہادت تسلیم کیاجائے ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس تقریر سے تو انکار ہی نہیں کیا گیا تو یہ متنازعہ تو نہ ہوئی۔جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل جاری تھے کہ عدالتی وقت ختم ہونے پر مزید سماعت پیرتک ملتوی کر دی گئی۔پیر کو جماعت اسلامی کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔