بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک پر باہمی مشاورت

سی پیک پر باہمی مشاورت


وفاقی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر بعض سیاسی حلقوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سی پیک پر مشترکہ تعاون کمیٹی کے چھٹے اجلاس کے بعد منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں اعلیٰ صوبائی قیادت کی شمولیت سی پیک پر یکجہتی کی مظہر ہے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس بڑے پراجیکٹ کیلئے دو روٹس بھی تجویز کئے ہیں ان میں پہلا گلگت‘ بشام ‘ صوابی ‘ مردان جبکہ دوسرا گلگت ‘ شانگلہ ‘ سوات اور چکدرہ پر مشتمل ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومت چین میں روڈ شو کا اہتمام بھی کر رہی ہے جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا میں انوسٹمنٹ کے لئے راغب کرنا ہے صوبے کی حکومت نے واپڈا کے ساتھ اپنی بجلی ٹرانسمشن لائن کا معاملہ بھی اٹھایا ہے تاکہ اس سے پیدا ہونے والی بجلی سستے نرخوں پر سپلائی ہو سکے سی پیک کی افادیت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں اس منصوبے نے بھارت کی نیندیں اڑا رکھی ہیں ۔ روس اس پراجیکٹ میں دلچسپی لے رہا ہے جبکہ برطانیہ بھی اس منصوبے کی افادیت کا احساس کرتے ہوئے اس کے فوائد سمیٹنے کا عندیہ دے رہا ہے ایسے میں ملک کے اندر ایک جانب صوبوں اور وفاق کے درمیان تحفظات اور خدشات کا دور ہونا ضروری تھا تو دوسری جانب اس منصوبے کے حوالے سے ہر لیول پر ہوم ورک ناگزیر ہے ایسے میں وفاقی حکومت اگر اے پی سی بلا ہی رہی ہے تو اس کے ایجنڈے پر صرف خدشات و تحفظات ہی نہ رکھے جائیں۔

بلکہ منصوبے کی سکیورٹی کے حوالے سے معاملات طے کرنے کے ساتھ ساتھ ہوم ورک کے طور پر صوبوں اور وفاق کے متعلقہ ذمہ دار اداروں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بنانے کیلئے مکینزم بھی وضع کیا جائے سی پیک سے جڑے دیگر منصوبوں کے لئے صوبوں کو درکار وسائل کی فراہمی پر بھی بات کی جائے ۔ خصوصاً خیبرپختونخوا کو مختلف مدوں میں واجب الادا فنڈز دینے کے ساتھ صوبے میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں مزید مراعات دینے پر غور کیا جائے تاکہ یہاں غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہو اور امن وامان کی صورتحال کا سامنا کرنے والے اس صوبے میں تعمیر وترقی کا عمل تیز تر کیا جاسکے‘ بے روزگاری ختم ہو اور عام شہری کو ریلیف ملے اسی سے لوگ تبدیلی کا احساس پائیں گے بصورت دیگر بڑے بڑے منصوبے عام شہری کے لئے کبھی دلچسپی کا محور نہیں بنتے۔

دودھ میں ملاوٹ کی تصدیق

پشاور میں ضلعی انتظامیہ نے دودھ میں ملاوٹ کے خلاف بڑی کاروائی میں 8 ہزار لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ ضائع کیا ہے ایڈمنسٹریشن نے دودھ میں چونے ‘ آئل اور گنے کے جوس کی ملاوٹ کی تصدیق بھی کی ہے ۔ مضر صحت کیمیکل ملے دودھ کی فروخت کے خلاف ایڈمنسٹریشن کی کاروائی ہر حوالے سے قابل اطمینان ہے تاہم یہ مسئلہ کسی ایک کریک ڈاؤن سے حل ہونے والا نہیں اب جبکہ معیار کی پڑتال شروع ہو چکی ہے بڑے سیل پوائنٹس سے لے کر عام دکاندار تک محتاط ہو جائے گا ۔

چیکنگ کا کام رکنے پر وہی دھندہ پھر سے شروع ہو جائے گا دودھ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء میں شامل ہے اس کی خریداری کسی دن ہفتے یا مہینے تک محدود نہیں اس کے معیار کی جانچ پڑتال کا کام بھی سال کے 12 مہینے جاری رکھنے کا متقاضی ہے جس کیلئے انتظامیہ کو قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی اس پلاننگ میں یونین کونسلوں کی سطح پر کمیٹیاں بھی بن سکتی ہیں جو مہنگائی اور ملاوٹ روکنے کے حوالے سے انتظامیہ سے تعاون کریں۔