بریکنگ نیوز
Home / کالم / ربڑاورسلیکون

ربڑاورسلیکون

کل میں کافی تھکا ہوا تھا پہلا آپریشن بھی لمبا تھا اور چونکہ بچہ تھا اس لئے آپریشن تھیٹر کو زیادہ گرم رکھنا ضروری تھا اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے بھی پسینے چھوٹ گئے آپریشن ختم کرنے کے بعد میں نے دستانے اور گاؤن اتارا توکپڑے پسینے سے شرابور تھے دوسرا آپریشن زیادہ پیچیدہ تھا ایک لڑکے نے معمولی بات پر خفا ہوکر اپنی گردن پر پستول رکھ کر تقریباً آدھے چہرے کو اڑا دیا تھا جو آنکھ ضائع ہوگئی تھی اسکی جگہ ایک بڑا گڑھا میرا منہ چڑا رہا تھا جس میں سے باقی ماندہ دماغ صاف نظر آرہا تھا۔ خیر میں نے چار گھنٹے میں ایک اور جگہ سے گوشت اور جلد کا لوتھڑا لے کر گڑھے کو بھرا اور آپریشن ختم ہونے سے قبل ذرا سستانے کیلئے بیٹھا اس دوران میں نے اپنے رجسٹرار کو کہا کہ مریض کو پیشاب کیلئے ایک نلکی لگا دے پیشاب کی یہ نلکیاں بنیادی طور پر دو قسم کی مٹیریل کی ملتی ہیں ایک عام ربڑ جو کہ زرد رنگ کا ہوتاہے اور دوسرا سلیکون کا بنا ہوتا ہے جو شفاف مٹیریل سے بنا ہوتا ہے۔ پہلی قسم سستی او رعام ملتی ہے، دوسری قسم اچھی لیکن تھوڑی سی مہنگی ہوتی ہے۔

جب میں نے دو گھونٹ پانی پیا اور واپس آپریشن تھیٹر میں مریض کے پاس گیا تو میرا پارہ چڑھ گیا میں ہر اس مریض کو جسے پیشاب کی نلکی چوبیس گھنٹے سے زیادہ ڈالنی ہوتی ہے ربڑ کی نلکی سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ مریض کو زرد رنگ یعنی لیٹکس یاربڑ کا کیتھیٹر لگا ہوا ہے تو مجھے غصہ آیا ایک تو تھکاوٹ تھی دوسری مریض کو غلط نلکی ڈالنے پر موڈ آف ہوگیا تھا خیر رجسٹرار نے معافی مانگی کہ چونکہ اسکا پہلا دوسرا دن تھا اس لئے اسے یہاں کے معمول کا علم نہیں تھا۔ میں مڑا اور نرسنگ سٹاف پر برس پڑا کہ انہیں تو علم تھا کہ مجھے اس ربڑ کی نلکی سے کتنی چڑ ہے۔
انسانی جسم خدا کا ایک شاہکار ہے اللہ تعالیٰ نے اسمیں بے شمار خوبیاں رکھی ہیں جو نہ صرف جسم کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ نقصان زدہ حصوں کی مرمت بھی بڑی حد تک کرلیتی ہیں۔ عموماً ادویات بدن کی انہی خوبیوں کو استعمال کرکے اضافی سپورٹ فراہم کرتی ہیں اینٹی بیاٹکس ہی لے لیں عام لوگوں کی غلط فہمی یہ ہے کہ اینٹی بیاٹکس جراثیم کو بدن سے صاف کرتی ہیں حالانکہ یہ جراثیم کش ادویات جراثیم کی بیرونی حفاظتی حصار کو کمزور کردیتی ہیں اسکے بعد ہمارے خون کے سفید ذرے ان کمزور جراثیم کو ہڑپ لیتے ہیں ایک صحت مند جسم میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اگر اسکے ایک ایک گرام حصے میں ایک لاکھ جراثیم بھی داخل کئے جائیں تو وہ کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے اور جسم اپنے مدافعتی نظام کے ساتھ بغیر اینٹی بیاٹک کے ان جراثیم کا صفایا کرسکتا ہے۔ جراثیم کے علاوہ بدن میں کوئی بھی بیرونی پروٹین خصوصاً داخل ہوجائے تو بدن کا سارا مدافعتی نظام حرکت میں آجاتا ہے اور اگر اس بیرونی جز کو ختم نہیں کرسکتا تو اسے حصار میں لے لیتا ہے ان تمام بیرونی اجزاء جو جسم میں بغیر نظام ہضم کے دوسرے ذریعے سے داخل ہوتے ہیں ہمارا مدافعتی نظام، ان کے درپے ہوجاتا ہے جب اس مواد کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو ہمارا نظام متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے انفیکشن اور دوسرے عارضے خون میں زہر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔

دوسری طرف میڈیکل سائنس نے ایسے بے شمار اجزا ایجاد کئے ہیں جو بدن کے ناکارہ اجزاکی جگہ لے سکیں تاہم ان اجزا کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ہر قسم کے جراثیم سے صاف ہوں بلکہ مٹیرئل بھی ایسا ہو جو بدن کے مدافعتی نظام کو چیلنج نہ کرسکے اسی لئے میڈیکل سائنس ہر وقت ایسے اجزا تیار کرنے میں مصروف ہوتا ہے جو بدن کو قبول ہوں دل کی رگوں میں ڈالی جانے والی سٹنٹ کی مثال لیں پہلے یہی نلکیاں جلد ہی بند ہوجاتی تھیں لیکن اب نئے سٹنٹ ایسے ادویات سے لیس ہوتے ہیں جو وہاں خون کو جمنے نہیں دیتے یہی مثال ہڈیوں کو جوڑنے والی پلیٹس اور سلاخوں کی ہے ۔ سٹین لیس سٹیل کافی حد تک بدن کو قابل قبول ہوتا ہے لیکن اگر اسکے ساتھ تھوڑی تعداد میں بھی جراثیم بدن میں داخل ہو جائیں تو ہڈیوں میں انفیکشن ہوجاتی ہے جو کہ سالوں میں ختم نہیں ہوتی اسی لئے بہتر سے بہتر دھات کی تلاش جاری رہتی ہے اب ٹائی ٹینیم کو لے لیں یہ نہ صرف سٹیل کے مقابلے میں ہلکی ہوتی ہے بلکہ جسم اسے باآسانی قبول بھی کرلیتا ہے۔

جب کسی وجہ سے پیشاب بند ہوجائے یا اسکے اخراج میں دشواری ہو تو مثانے کے اندر ایک نلکی ڈالنی پڑتی ہے اسکے سرے پر ایک غبارہ ہوتا ہے جسے پانی سے بھرا جاسکتا ہے اور یوں وہ مثانے میں بحفاظت پڑا رہتا ہے ورنہ عام نلکی تو نکل جاتی ہے ایسی نلکی جسکے سرے پر غبارہ ہوتا ہے اور اسے مثانے کے اندر پھلایا جاسکے، فولی کیتھٹر کہا جاتا ہے۔ ادھیڑ عمر تک بے شمار مواقع آتے ہیں جب پیشاب کی بندش ہوتی ہے اور پیشاب کے اخراج کیلئے مثانے میں نلکی ڈالنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔
مثانے کے اندر پیشاب جراثیم سے بالکل صاف ہوتا ہے اور اسی لئے پرانے زمانے میں زخم پر تازہ پیشاب ڈالا جاتاتھاتاہم جب مثانے میں کوئی بیرونی شے داخل ہوجاتی ہے تو پھر پیشاب میں جراثیم بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں اسی لئے ہماری خواہش ہوتی ہے کہ کسی شخص کو بھی کیتھیٹر کی مصیبت سے بچایا جاسکے اور اگر ڈالنا بھی پڑے تو جلد سے جلد نکال لیں دوسرا متبادل ہمارے ہاتھ میں ایسی نلکی ہے جو بدن کو قابل قبول ہو یعنی سلیکون ربڑ کی نلکی مثانے میں کافی زیادہ سوزش کا باعث بنتی ہے اسی لئے میں اپنے مریضوں میں صرف سلیکون کی نلکی ڈالنا پسند کرتا ہوں ہاں اگر چند گھنٹوں کیلئے ضروری ہے تو پھر ربڑ کا کیتھیٹربادل نخواستہ استعمال کرلیتا ہوں۔

میں نے اس کالم سے شاید عام قاری کو کافی کنفیوز کردیاہو تاہم میرا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مریض کو اگر پیشاب کیلئے کیتھیٹر ڈالنے کی نوبت آئے تو وہ ڈاکٹر سے اصرار کرے کہ عام ربڑ کی جگہ اسے سلیکون کا کیتھیٹر ڈالا جائے ان دونوں کی قیمتوں میں دو تین سو روپے سے زیادہ کا فرق نہیں لیکن صرف اس ایک احتیاط سے پیشاب کے انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے ربڑ یعنی زرد رنگ کا سستا کیتھیٹر ڈالنے سے پیشاب میں جراثیم جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں جبکہ سلیکون بنیادی طور پر جسم کے قوت مدافعت کو چیلنج نہیں کرتا اسی لئے سلیکون کے دوسرے بے شمار اجزا بھی جسم میں کسی نقصان کے بغیر ڈالے جاسکتے ہیں مثال کے طور پر میں بعض اوقات پچکی ناک کو سیدھا کرنے کیلئے سلکیون کی ایک پتلی پٹی ڈال دیتا ہوں ۔