بریکنگ نیوز
Home / کالم / محرومیوں کااحساس

محرومیوں کااحساس

وزیراعظم نے اگلے روز ملتان میں میٹروبس کا افتتاح کرتے وقت کہا جس کسی نے بھی نیا پاکستان دیکھنا ہو وہ ملتان آکر دیکھے بلاشبہ معیاری اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ جو وقت مقررہ پر بھی چلے عوام کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے یہ اس نجی ٹرانسپورٹ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے کہ جس کی سوزوکی اور دوسری قسم کی ویگنوں میں مسافروں کو ایسے گھسیٹا جاتا ہے جیسے وہ مال مویشی ہوں اور جن میں خواتین کے بیٹھنے کے لئے کوئی علیحدہ جگہ نہیں ہوتی پرکئی لوگوں کا خیال ہے کہ بہتر یہ ہوتا کہ میٹرو کی جگہ پر بڑے شہر میں انڈر گراؤنڈ ریلوے کا نظام مرتب کردیا جاتا کراچی میں چنگی بھلی ٹرام سروس پاکستان بننے کے بعد کئی برس تک چلتی رہی پر اسکو مزید پھیلانے کے بجائے ہم نے اسے جڑ سے ہی اکھاڑ دیا حالانکہ کئی یورپی ممالک میں اس قسم کی ٹرام اب بھی چالو ہے ٹرانسپورٹ کی افادیت اپنی جگہ پر عوامی فلاح وبہبود کے کاموں میں ترجیحات کا تعین سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے انسان اگر بھوکا ہوگا ‘ننگا ہوگا گرمی اور سردی کی مناسبت سے اسکے جسم پر مناسب کپڑے نہ ہونگے بیماری کی صورت میں ادویات کیلئے محتاج ہوگا ‘پیسے نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے بال بچوں کو سکول نہ بھجواسکے گا اس کے سر پر چھت نہ ہوگی تو اسے پھر میٹروبس سروس میں سفر کا خاک مزہ آئیگا؟ کیا وہ میٹرو بس کو پھر چاٹے گا؟ میٹرو بس جیسے منصوبے بے شک وقت کی ضرورت ہیں پر ایک مفلوک الحال انسان اس قسم کے منصوبوں کو امیروں کے چونچلوں سے زیادہ کچھ بھی تصور نہیں کرتا انہیں دیکھ کر اسے اپنی محرومیوں کا مزید شدت سے احساس ہونے لگتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ حکمران اگر ملکی وسائل اور دولت کو صرف اور صرف اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں اور علاقوں پر صرف کرنا شروع کردیں اس قسم کے رویوں سے آپ ایک معاشی کلاس کے اندر ایک اور اعلیٰ کلاس بناتے ہیں پنجاب صرف لاہور اور لاہور میں بھی صرف جاتی عمرہ ہی نہیں جنوبی پنجاب میں کئی ایسے دورافتادہ علاقے ہیں کہ جنکی حالت بلوچستان سندھ اور خیبر پختونخوا کے کئی دور دراز علاقوں جیسی ہے اگر حقدار کو اپنا حق نہیں ملے گا تو اس میں محرومیوں کا لاواپکتا رہے گا اور لامحالا ایک دن وہ اس شعر پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیگا کہ جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘ فرانس کے غریب عوام بھی تو تب ہی سڑکوں پر آگئے تھے کہ جب انکو روٹی میسر نہ تھی اور انکی ملکہ نے کہا تھا کہ اگر لوگوں کو روٹی میسر نہیں ہے تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے اس ملک کے عام آدمی کی مالی حالت آج ناگفتہ بہ ہے اسے سب سے پہلے دو وقت کی باعزت روٹی درکار ہے ادویات کی اسے ضرورت ہے پینے کیلئے شفاف پانی چاہئے بچوں کو سکول چاہئیں کتابیں چاہئیں میٹرو بھی ضروری ہے پر اس کا نمبر بعد میں آتا ہے سب سے پہلے عوام کے لئے دال دلیے کا بندوبست ضروری ہے ۔

ان کی بنیادی ضروریات کو پہلے پورا کرنا ضروری ہے یہ ملک قرضوں کے انبار تلے ڈوب چکا ہے حکمرانوں کو اگر پتا نہیں اور یا پھر وہ جان بوجھ کرانجانے بن بیٹھے ہیں پر اس ملک کے عام آدمی کو اچھی طرح پتا ہے کہ جس قسم کے اللوں تللوں میں ان کے حکمران مشغول ہیں اور جس فاقہ مستی کا مظاہرہ وہ کررہے ہیں اس نے ایک نہ ایک دن رنگ ضرور لانا ہے جلد یا بدیر ‘موجودہ حکومت سے تو یہ امید نہیں کہ وہ اپنی عادت بد کو اب آخری وقت میں ترک کریگی کہ جب نئے الیکشن سر پر آگئے ہیں ’ساری عمر کٹی عشق بتاں میں مومن ‘اب آخری وقت میں کیا خاک مسلمان ہونگے ‘پر 2018ء کے الیکشن کے بعد جو کوئی بھی اس ملک کا حکمران بنا اسے بعض کئی سخت فیصلے کرنا ہونگے کہ ان کے بغیر اس ملک کا چلنا محال ہوجائیگا مثلاً اس ملک کی معیشت کو دستاویزی کرنا ہوگا اس کے بغیر آپ کسی کو بھی حصہ بقدر جثہ کے اصول پر ٹیکس دینے پر مجبور نہیں کرسکتے اور نہ ہی ٹیکس چوروں کو پکڑ سکتے ہیں پہلے ابتدائی پانچ برس میں زندگی کے کئی شعبوں میں ہمیں راشننگ کرنا ہوگی کہ اسکے بغیر ہمارا معاشی مستقبل تاریک تر ہوتا جائیگا۔