بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مالیاتی پالیسی اور ارضی حقائق

مالیاتی پالیسی اور ارضی حقائق

بینک دولت پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا ہے بینک کے گورنر اشرف وتھرا کے مطابق شرح سود کو5.75 فیصد پر ہی برقرار رکھا گیا ہے بینک کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کرنٹ اکاؤنٹ بڑھنے پر پلانٹ اور مشینری کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ طلب کے مقابلے میں توانائی کی رسد پہلے سے بہتر ہونے پر اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی نوٹ کی گئی ہے متعلقہ سرکاری محکموں کے پاس مہیا اعدادوشمار کے مطابق سال کی پہلی ششماہی کے دوران مہنگائی کی اوسط3.9 فیصد رہی جو2017ء کیلئے پہلے سے لگائے گئے اندازے سے جو6فیصد تھا کم رہے گی رپورٹ کے مطابق پست شرح سود کے باعث بینکوں سے قرضے لئے جا رہے ہیں اس سب کے ساتھ کھاتے کا خسارہ1.7 ارب سے بڑھ کر3.6ارب ڈالر ہوگیا ہے بینک دولت پاکستان مالی مشکلات کو امریکہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں رقم نہ ملنے اور ترسیلات زر میں سستی کا نتیجہ قرار دیتا ہے دوسری جانب برسرزمین حقائق کو دیکھا جائے تو بینک دولت پاکستان جس قدر خوشخبریاں دیتا رہے۔

اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کی شرح ہرآنیوالے دن بڑھ رہی ہے جسکے باعث غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کیلئے اپنے کچن کا خرچہ چلانا بھی ممکن نہیں رہا غریب اور بے روزگار شہریوں کو اپنے روزگار کیلئے بینک سے قرضہ ملنا محال ہے اسے دستاویزات کے ایسے چکر میں ڈالا جاتاہے کہ وہ خود قرضہ لینے سے انکار کردیتا ہے دوسری جانب کاروبار کے نام پر کروڑوں کے بینک قرضے ہڑپ کر جانے والوں کے باعث معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی رقم بھی غریب شہریوں سے پوری کی جا رہی ہے سمگلنگ پر قابو پانے میں ناکام ادارے ریونیو کا بوجھ شہریوں پر ڈالنے کے ساتھ مقامی صنعت کو متاثر کررہے ہیں حکومت سے تمام مراعات سمیٹنے والے سرمایہ کار ایکسپورٹ کی شرح میں قابل قدر اضافہ نہیں کرپارہے ایسے میں اقتصادی شعبے کی بہتری کیلئے حکومت کی تمام مخلصانہ کوششیں بے ثمر ثابت ہوجاتی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت سے وابستہ سرگرمیوں کی کڑی مانیٹرنگ کا انتظام کیا جائے اور حکومتی اقدامات کا فائدہ شہریوں تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی کی جائے۔

پشاور میں اپنی نوعیت کی پہلی لیبارٹری

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی میں جدید ترین ریفرل لیبارٹری کا قیام ایک قابل اطمینان منصوبہ ہے اس نوعیت کی ایک لیبارٹری این آئی ایچ اسلام آباد میں ہے جبکہ دوسری اب پشاور میں ہوگی اس لیبارٹری کے قیام سے اہم تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے اسلام آباد نہیں جانا پڑیگا اس ضمن میں ہونیوالے ایم او یو کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ لیبارٹری کیلئے آلات اور تکنیکی معاونت دیگا صوبائی حکومت اپنا حصہ ڈالے گی جبکہ خیبرمیڈیکل یونیورسٹی اس کیلئے جگہ فراہم کریگی کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اللہ اس لیبارٹری کو صوبے اور یونیورسٹی کیلئے اہم سنگ میل قراردیتے ہیں خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کی کامیابیوں کی فہرست روزبہ روز طویل ہی ہوتی جارہی ہے ایک ایسے وقت میں جب طب کے شعبے میں مادیت پرستی نے جعلی میڈیکل لیبارٹریاں کھلوا دی ہیں خیبرمیڈیکل یونیورسٹی اپنے طورپر این آئی ایچ سے ہٹ کر لیبارٹری سروسز کا نیا نیٹ ورک متعارف کرادے جس میں پورے صوبے سے کولیکشن پوائنٹس کے ذریعے نمونے لیکر ٹیسٹ رپورٹ ای میل کی جائے تو یہ بہت بڑا اقدام ہوگا اس سے لوگوں کو معیاری سروسز کیساتھ خود یونیورسٹی کیلئے آمدنی کا معقول ذریعہ بن جائیگا اس کے ساتھ خیبرمیڈیکل کالج کی لیبارٹری کی خدمات کا دائرہ وسیع کرکے دکھی انسانیت کی خدمت کی جاسکتی ہے۔