بریکنگ نیوز
Home / کالم / جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ادھر ماڈل گرل ایان علی کو جو رنگے ہاتھوں نوٹوں کا بھرا بیگ لئے ائر پورٹ پر پکڑی گئی کیس عدالت میں پہنچا تو میلہ لگ گیا سیدھا سادہ کیس جس میں نہ کسی گواہ کی ضرورت تھی اور نہ کسی وکیل کا کام تھا سب کچھ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا تھا جس افسر نے یہ چوری پکڑی اس کا فوراًہی کانٹانکال دیا گیااس افسر کو کس نے قتل کیا یہ معمہ بھی حل نہ کیا جا سکاپہلے بھی یہ افسر اسی جگہ کام کرتا تھا اور اس جیسے شاید بیسیوں کیس اس نے پکڑے ہوں گے مگر اس کی زندگی نے باقی رہنا تھا اس لئے کچھ بھی نہ ہوا نہ کسی سمگلر نے اس کو نشانہ بنایا نہ اس کو کبھی کوئی دھمکی ملی نہ اسکو کہیں اغوا کر کے دھمکایا گیا نہ اس کو جان سے مارنے کی کبھی دھمکیاں ملیں مگر جیسے ہی ایک لڑکی سے اس نے ایک نوٹوں سے بھرا بیگ ملک سے باہر لے جاتے ہوئے پکڑا تو دوسرے ہی دن اس کو اس جہان سے رخصت کر دیا گیایہ کس کی کارستانی ہے ؟ نہ اسکی طرف کسی پولیس کا دھیان ہے اور نہ کسی عدالت نے اور نہ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ سوچنے کی بات تو ہے مگر شاید بڑے لوگوں کی سوچنے کی بات نہیں ہے اس لئے کہ جو عورت منی لانڈرنگ کر رہی تھی اس کے ہاتھ شاید اتنے لمبے تھے کہ بجائے اسے ایک ملزم کے طور پر ٹرائل کرنے کے اسے ایک تماشا بنا دیا گیا اسکی ہر پیشی پر ٹی وی کیمروں کا ایک ہجوم اس کی چال ڈھال پورے ملک کو دکھانے کیلئے موجود ہوتا تھا اور عدالت بھی بجائے کوئی شہادت لینے یا کوئی پوچھ گچھ کرنے کے تاریخیں لگاتی رہی اور ٹی وی چینلوں کیلئے اس کو ایک خبر کے طور پر نشر کرنے کے مواقع فراہم کرتی رہی پھر یوں ہوا کہ کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آئیں گے ، وزارت داخلہ نے اس پر ملک چھوڑنے کی پابندی لگادی تا کہ کیس میں پردہ نشینوں کے بھی نام سامنے آئیں مگر سندھ ہائی کورٹ نے یہ پابندی ہٹا دی۔ وزارت داخلہ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی مگر سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کی یہ درخواست خارج کر دی اور محترمہ ایان علی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی اب محترمہ نے باہر چلے جانا ہے اور منی لانڈرنگ کا کیس فائلوں میں دب جانا ہے وزارت داخلہ مفت میں بدنام ہو رہی ہے ادھر ایک کیس میں بات پانامہ سے چلی اور اس پانامہ کو ادھیڑتے ہوئے ایک سے ایک نئی گتھی سامنے آ رہی ہے اورا صل بات یعنی پانامہ لیکس کہیں اوجھل ہی ہو گیا ہے۔اب تو شریف خاندان کی شاید’’ کوٹھے کی کڑیاں ‘‘ بھی گنی جائیں گی۔

کہ کہاں سے آئی ہیں اور کون کون لایا ہے۔ چونکہ یہ ہائی پروفائل کیس ہے اسلئے اس میں شریف خاندان کے ہر فرد کا کچا چھٹا سامنے لانا بہت ضروری ہے۔نواز شریف ایک ایسے ملک کا وزیر اعظم ہے اور تیسری دفعہ اس کرسی پر بیٹھا ہے کہ جس میں اس منصب پر بیٹھنے والے کے لئے مرحوم ولی خان نے ایک بڑا ہی پیارا تبصرہ کیا تھا کہ جب ایک بوڑھی عورت نے اسے دعا دی کہ اللہ تم کو اس ملک کا وزیر اعظم بنائے تو اس نے کہا تھا کہ مائی تم نے مجھے یہ بد دعا کیوں دی ہے مائی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ خان صاحب میں نے تو دعا دی ہے تو ولی خان نے کہا کہ اس ملک یعنی پاکستان کا وزیر اعظم بننے کی دعا دراصل بہت بڑی بد دعا ہے اس لئے کہ اس کرسی کے ساتھ گندہ بیروزہ لگا ہوا ہے اس لئے جو آدمی بھی اس پر بیٹھتا ہے وہ اس کرسی کے ساتھ چپک جاتا ہے اور جب اس کو زبردستی اتارا جاتا ہے تو اس کی پتلون کرسی کے ساتھ ہی چمٹی رہ جاتی ہے اور وہ یوں اپنی پتلون اتروا کر اس کرسی سے جدا ہوتا ہے اسی لئے میں اس کرسی پر بیٹھنے کی دعا کو بد دعا کہتا ہوں۔

محترم نواز شریف کیساتھ اس سے پہلے بھی دو دفعہ یہ ہاتھ ہو چکا ہے مگر نہ جانے قدر ت اس شخص کو کون سے گناہوں کی سزا دینا چاہتی ہے کہ اسے بار بار اس کرسی پر بٹھا دیتی ہے دو دفعہ پہلے اسے کرپشن کے الزم میں اتارا گیا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کو بھی اسی الزام میں اس کرسی سے اتارا گیا مگر الزام کبھی بھی ثابت نہ ہو سکا اب تیسری دفعہ نواز شریف پر کرپشن کے ہی الزامات ہیں اور ایک ایسے ایشو کو لیا گیا ہے کہ جس میں اس کا نام بھی نہیں ہے مگر سپریم کورٹ نے نواز شریف کے سارے خاندان کو اس میں ملوث کر لیا ہے کہ اگر نواز شریف کے بیٹوں نے بھی کوئی غلط کام کیا ہے تو وہ بھی نواز شریف ہی کے پلے باندھا جائے اور ثابت کیا جائے کہ نواز شریف جسے دو دفعہ پہلے بھی ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا چکی ہے ایک دفعہ پھر ایسا ہی کیا جائے کیس عدالت میں ہے اور ہمیں عدالت سے باہر لگی عدالتوں سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ بکری کے بچے نے پیدائش سے پہلے بھی اگر پانی گدلا کیا ہے تو اسے بھیڑیئے کو جواب دہ ہونا ہے۔