بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نوازشریف قوم کو بتائیں قطری شہزادوں نے کن خدمات کے عوض فلیٹس دیئے؟عمران خان

نوازشریف قوم کو بتائیں قطری شہزادوں نے کن خدمات کے عوض فلیٹس دیئے؟عمران خان


اسلام آباد۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کیس میں خطوط ارسال کر کے وزیراعظم کو بچانے والا قطری شہزادہ کرپٹ ترین آدمی ہے،قطری شہزادہ شریف خاندان کا بزنس پارٹنر ہے ،نواز حکومت نے ایل این جی اور پورٹ قاسم کا کنٹریکٹ قطری کو دیا ، گزشتہ سات ماہ میں شریف خاندان نے قطری کا کبھی نام نہیں لیا ،جب سے سپریم کورٹ آئے ہیں کبھی قطری ون اور کبھی قطری ٹو آجاتا ہے ، قطری شہزادوں نے شریفوں کو اربوں روپے کے فلیٹس کونسی خدمات کے عوض دیئے ، نوازشریف قوم کو آگاہ کریں،سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس انکشافات سے دنیا میں تہلکہ مچا، پاناما لیکس میں آنے والے ناموں سے کسی نے انکارنہیں کیا، کارروائی کے دوران وکیل نے 3 بار کہا کہ عدالت کے پاس اختیارنہیں ہے، پہلی بار انہوں نے مانا کہ لندن کے فلیٹس ہمارے ہیں جب کہ پہلے انہوں نے صاف انکارکیا تھا کہ فلیٹ ہمارے نہیں ہیں۔

تو لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں کیا حاتم طائی نے انہیں رہنے دیا تھا، 15 ملین درہم کا حساب ہم کہاں سے لائیں گے اور ملکیت تسلیم کرلی تو اب انہوں نے ہی جواب دینا ہے۔عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نے اسمبلی میں کہا کہ ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں لیکن اب ان سے یہ پوچھا جارہا ہے کہ انہوں نے اسمبلی کی صحیح بات کی تھی یاعدالت میں، گلف اسٹیل 15 ملین درہم نقصان دے رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ 1993سے لے کر 2006تک فلیٹس قطری کے نام تھے اور لندن فلیٹس کا 13 سال کا کرایہ 30 کروڑ بنا ہے۔یہ کرایہ کس نے ادا کیا۔

جب بھی ثبوت مانگو تو قطری حاتم طائی بن کر آجاتا ہے ۔عمران خان کا نے کہا کہ قطری کرپٹ ترین آدمی ہے اس پر کیسز ہیں، ایل این جی اورپورٹ قاسم کا کنٹریکٹ قطری کودیا گیا، وہ پاکستانی قوم کونقصان پہنچا کرقطری کو فائدہ پہنچا رہے ہیں، التوفیق کا پیسا کہاں سے آیا، کہتے ہیں قطری سے آیا، جب سے سپریم کورٹ میں آئے ہیں قطری ون اورقطری ٹوآگیا ہے، پچھلے 7 ماہ میں ان لوگوں نے کبھی قطری کا نام نہیں لیا، ان کی ساری منی ٹریل قطری ہے۔ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کی تلاشی لی جارہی ہے تو وہ قانون کے پیچھے چھپ رہے ہیں جب کہ وزیراعظم قانون کے پیچھے نہیں چھپ سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بڑے چوروں کا ملک میں احتساب نہیں ہورہا اس لئے جیلوں میں پڑے چھوٹے چھوٹے چور جو عرصے دراز سے سڑ رہے ہیں انہیں بھی چھوڑ دیا جائے ۔