بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / حکومت کے اقدامات بے ثمر کیوں؟

حکومت کے اقدامات بے ثمر کیوں؟


خیبر پختونخوا حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی پر بھرپور توجہ مرکوز کی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے خود صوبائی دارالحکومت سمیت پورے صوبے میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کی منظوری دی ٗاس مقصد کے لئے فنڈز بھی فراخدلانہ ریلیز کئے گئے صفائی کی چھوٹی موٹی مہمات کے بعد ایک بڑی مہم شروع کی گئی جو جاری و ساری ہے پشاور کے بعد دوسرے علاقوں میں سینی ٹیشن اور واٹر سپلائی کا کام آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ شجرکاری کی تاریخی مہم کا آغاز بھی موجودہ حکومت ہی کے کریڈٹ پر ہے اس سب کے باوجود چند اہم سڑکوں کو چھوڑ کر صوبے کے دوسرے علاقوں کی طرح صوبائی دارالحکومت میں صورتحال سدھر نہیں پا رہی اس کا بڑا ثبوت حالیہ بارشوں میں صوبائی دارالحکومت کے درجنوں علاقوں کا جوہڑوں میں تبدیل ہونا ہے بارش کے علاوہ بھی آئے روز شہر کی بعض سڑکوں اور چوراہوں پر سیلاب جیسی صورتحال معمول کا حصہ ہے اس میں نہ صرف روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں بلکہ نالیوں سے سڑکوں پر آنے والا پانی انسانی صحت اور زندگی کے لئے کتنا مضر ہے۔

اس کا اندازہ تعفن کے ساتھ مکھیوں مچھروں اور طرح طرح کے جراثیم کی بہتات سے لگایا جاسکتا ہے جگہ جگہ لگے کوڑے کے ڈھیر ابلتی نالیاں اور گٹر اصلاح احوال کے لئے حکومت کے سارے اقدامات کو بے ثمر ثابت کرتے ہیں تکنیکی مہارت سے عاری حکمت عملی بنانے والے ہمارے پالیسی ساز سارے مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر اسے حل کرنے کی بجائے وقتی اقدامات پر اکتفا کی روش اپنائے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ کرنے کے باوجود تبدیلی برسرزمین نظر نہیں آتی اربن پلاننگ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سیوریج سسٹم کو پلاسٹک کے شاپنگ بیگز نے بلاک کر رکھا ہے اور جب تک یہ سسٹم بلاک رہے گا صفائی کیلئے چلائی جانے والی کوئی مہم کامیاب نہیں کہلا پائے گی جب تک سیوریج نظام میں پانی رواں نہیں ہوگا قومی خزانے کے کروڑوں روپے ضائع ہوتے رہیں گے جبکہ عام شہری حکومتی اعلانات کو محض زبانی کلامی دعوے ہی سمجھتا رہے گا۔

اس افسوسناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ صوبے میں انسانی صحت اور زندگی کے ساتھ ماحول اور نکاسی آب کے نظام کو بلاک کرنے کا ذریعہ بننے والے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر فی الفور پابندی عائد کی جائے ضرورت یہ بھی ہے کہ خود وزیر اعلیٰ اس پابندی کیلئے اقدامات میں تاخیر پر بھی باز پرس کریں اس پوچھ گچھ کی ضرورت دیگر شعبوں میں بھی حکومتی احکامات پر عمل درآمد میں سست روی پر ضروری ہے خود وزیر اعلیٰ گزشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب میں بیورو کریسی کے رویے کا ذکر کر چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر افسر شاہی صحیح کام کرتی تو صورتحال یہ نہ ہوتی حکومت کو برسرزمین حقائق کی روشنی میں میونسپل سروسز کے ذریعے تبدیلی کا خوشگوار احساس دلانے کیلئے اصل مسئلے یعنی بلاک سیوریج سسٹم کو رواں کرنا ہے اور اس کیلئے شاپنگ بیگز پر پابندی کے سوا دوسرا راستہ نہیں سی ایس ڈی سٹورز پر استعمال ہونے والے قابل تحلیل شاپنگ بیگز استعمال میں موجودہ مضر بیگز سے بہت بہتر ہیں اس لئے پلاسٹک شاپنگ بیگز کا متبادل نہ ہونے کا عذر کسی طور نہیں کیا جاسکتا اگر اس ضمن میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو قومی خزانے سے صفائی کے لئے خرچ ہونے والے کروڑوں روپے ضائع ہی ہوتے رہیں گے۔