بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / برسرزمین حالات کے تقاضے

برسرزمین حالات کے تقاضے


جنوبی وزیرستان میں سرحد پار سے ہونیوالے دہشتگردوں کے حملے میں پاک فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز کی بھرپور جوابی کاروائی میں مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا دوسری جانب افغان دفتر خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کرکے سرحد پر شیلنگ مہاجرین کی گرفتاریوں اور طورخم بارڈر کی بندش پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے پاکستان کے سفیر ابرار حسین کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد امن کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے بند کی گئی انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ افغانستان سے پاکستانی پوسٹوں پر حملہ کیا گیا جس کا جواب دے رہے ہیں دریں اثناء بھارتی سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں 4خواتین زخمی ہوئی ہیں پاک فوج کی بھرپور اور موثر جوابی کاروائی میں دشمن کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بناکر اسکی توپوں کو خاموش کردیاگیا دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت اور دیگر سیاسی رہنما پنجاب میں صوبائی حکومت کی جانب سے پختونوں کی بدسلوکی پر احتجاج کر رہے ہیں صوبے کی سیاسی قیادت فاٹا اصلاحات میں تاخیر پر بھی احتجاج کر رہی ہے۔

اس احتجاج میں جماعت اسلامی نے گزشتہ روز گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دیا گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ اصلاحات کیلئے تیاریاں مکمل ہیں جنکی منظوری جلد دے دی جائیگی گورنر اصلاحات کے معاملے کو وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں ایجنڈے پر لانے کی یقین دہانی بھی کرارہے ہیں وطن عزیز کو درپیش حالات اور چیلنجز اس بات کے متقاضی ہیں کہ سیاسی قیادت کو فوری طورپر یکجا ہو کر متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہئے اس سے دنیا کو بھی ایک مثبت تاثر جائیگا اسکے ساتھ وزیراعظم فاٹا اصلاحات سمیت وفاق اور صوبوں کے درمیان حل طلب معاملات کو بھی اسی اکٹھ میں طے کروائیں ایسا اسلئے بھی ضروری ہے تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پر توجہ مرکوز ہوسکے اور اسکے ثمرات سمیٹے جاسکیں جو پاکستان مخالف ممالک کی آنکھ کا کانٹا بن چکا ہے معاملہ پختونوں کیساتھ زیادتی کا ہو یا کوئی اور ہماری سیاسی قیادت کو کھلے دل کیساتھ ایک دوسرے کا موقف سننا ہوگا اور حکومت کو شکایات کا ازالہ یقینی بنانا ہوگا۔
ٹریفک کی روانی یقینی بنائی جائے

صوبائی دارالحکومت میں امن وامان کی صورتحال کے باعث چیکنگ زیادہ سخت ہو چکی ہے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات پولیس کی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں تاہم اس عمل میں شہریوں کو درپیش مشکلات کا ادراک اور انکے حل کیلئے اقدامات بھی ضروری ہیں پشاور میں ٹریفک کا زیادہ لوڈ جی ٹی روڈ پر ہے اس سڑک کے اوورلوڈ ہونے پر ٹریفک کے بہاؤ کو دوسری سڑکوں پر بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے تاہم اس مقصد کیلئے پورا پلان بنانا ہوگا اس پلان میں رابطہ سڑکوں کو ٹریفک کیلئے کلیئر کرنا اور ان پر ٹریفک اہلکاروں کو تعینات کرنا ضروری ہوگا بدقسمتی سے ہمارے ہاں پلاننگ میں ارضی حقائق کو مدنظر رکھنے اور سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت سے گریز کیا جاتا ہے ٹریفک نظام کسی بھی شہر میں وہی لوگ تجویز کر سکتے ہیں جو اس علاقے کے جغرافیے اور حالات سے باخبر ہوں سرکاری فائلوں میں پڑے کئی دہائی پرانے کاغذات اور نقشوں سے سسٹم نہیں بن سکتا بہتر یہ ہے کہ ٹریفک پولیس بلدیاتی ادارے ضلعی انتظامیہ اور قومی تعمیر کے محکمے فوری طورپر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں تاکہ لوگوں کو مشکلات سے چھٹکارا مل سکے۔