بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات کی اصولی منظوری

فاٹا اصلاحات کی اصولی منظوری


وفاقی کابینہ نے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی اصولی منظوری دیدی ہے خصوصی کمیٹی کی جانب سے حکومت کو پیش کردہ سفارشات سے متعلق خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایف سی آر کے خاتمے کے ساتھ نیشنل فنانس کمیشن میں فاٹا کیلئے3فیصد حصہ مختص کرنے کا کہاگیا ہے ترقی کا دس سالہ منصوبہ دینے کیساتھ قبائلی علاقوں میں عدالتی سیٹ اپ کی سفارش بھی کی گئی امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے فورس میں20ہزار مقامی افراد کی بھرتی اور بلدیاتی انتخابات کا بھی کہاگیاہے فاٹا کی حیثیت کے تعین کیلئے5سال کا عرصہ لگے گا سفارشات میں سیکورٹی اور مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کا بھی کہاگیا ہے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی اورانہیں مرکزی دھارے میں لانے کیلئے آگے آئیں کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں ان کاکہنا ہے کہ پاکستان ہر شہری کا ہے اور ملک کے تمام علاقوں کے عوام کا قومی وسائل پر برابر کا حق ہے وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی کمیٹی کے ارکان نے قبائلی علاقوں کا دورہ کر کے مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور پھر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کیں اس ضمن میں بعض تحفظات بھی آئے جنہیں دور کرنے کیلئے بھی وزیر اعظم نے خصوصی ہدایات جاری کیں خیبرپختونخوا اسمبلی نے قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام سے متعلق قرارداد منظور کی جبکہ سیاسی جماعتیں بھی اس ضمن میں اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

وطن عزیز میں اس پوائنٹ پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جائے اور یہاں تعمیر و ترقی کیساتھ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے فاٹا اصلاحات پر خصوصی پیکج جسکی کابینہ نے اصولی منظوری دی اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو عملی شکل دینے میں روایتی سست روی کا مظاہرہ نہ کیا جائے فاٹا کی حیثیت کے تعین کیلئے5سال کا وقت بہت طویل ہے اس کو کم کیا جائے اصلاحات سے متعلق اگر کوئی تحفظات ہوں تو انہیں دور کیا جائے اور منظور شدہ اصلاحات پر عمل درآمد میں سٹیک ہولڈرز کو شریک کیا جائے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کا اعزاز

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی درجہ بندی میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے کوالٹی سیل کا ڈبلیو یعنی اعلیٰ درجے پر آنا قابل اطمینان ہے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی کا کہنا ہے کہ جامعہ اس سال جنرل یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں ٹاپ ٹین میں ضرور جگہ بنائے گی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اداروں کی مشروم گروتھ ہمیشہ معیار کو متاثر کرتی ہے ہمارے ہاں ادارے بنانے پر توجہ ضرورکی گئی لیکن معیار اور خدمات کو ثانوی حیثیت حاصل رہی اب جبکہ دستور میں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم صوبائی حکومت کا سبجیکٹ قرار پایا ہے تو اداروں کے نیٹ ورک کو توسیع دینے کے ساتھ یہاں کوالٹی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس حکمت عملی ناگزیر ہے اس مقصد کے لئے قائم سیٹ اپ کو وسیع کرنے کے ساتھ چیک اینڈ بیلنس کا نظام دینا ہوگا اگر صرف رجسٹریشن پر اکتفا کیاگیا تو کوالٹی نہیں ملے گی اور صلاحیتوں سے عاری افرادی قوت مزید بگاڑ کا سامان ہی بنتی رہے گی اس مقصد کے لئے تعلیمی اداروں کو ان کے وسائل کی روشنی میں کیٹیگری کے حوالے سے ٹارگٹ دینا ہوں گے۔