بریکنگ نیوز
Home / کالم / بے بس صدور

بے بس صدور


صدر مملکت نے اگلے روز ایک بیان میں اور ایک ہی سانس میں دوباتیں کہی ہیں انہوں نے کہا ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑگئی ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری ملازمین کو کام کرنے کی عادت ہی نہیں رہی اور یہ کہ انہوں نے بعض محکموں کے سربراہان تبدیل کرنے کا کہا لیکن سنی ان سنی کردی گئی اور مجھے افسوس ہواکہ میری تجاویز پر کوئی خاص عملدرآمد نظر نہیں آیا صدر مملکت کی یہ بے بسی دیکھ کر ہم حیران ہیں کہ دل کو روئیں یا جگر کو پیٹیں صدر صاحب اگر اتنے ہی لاچار اور مجبور ہیں کہ سرکاری اہلکار جو کہ ان کا ماتحت عملہ ہے ان کی نہیں سنتا تو پھر ان کا ایوان صدر میں بیٹھنا کس کام کا؟ ویسے بدقسمتی سے اس ملک میں بعض صدور ایسے ضرور آئے ہیں کہ جن کی لاچاری پر قوم کو ترس آتا تھا اور آتاہے کیونکہ موجودہ صدر بھی نہایت شریف النفس بھلے مانس قسم کے انسان ہیں اور کسی پر غصہ بالکل نہیں کرتے ‘بھٹو مرحوم کے زمانے میں ہمارے ایک صدر ہوا کرتے تھے کہ جن کا نام تھا چوہدری فضل الٰہی ان کے تو منہ میں جیسے زبان تھی ہی نہیں وہ آنکھیں بند کرکے ہر اس چھٹی پر دستخط کردیتے تھے کہ جو بھٹو صاحب کی جانب سے انہیں آیا کرتی۔

ان ہی کے زمانے میں ایوان صدر کی دیواروں پر کسی منچلے نے یہ لکھ دیا تھا کہ صدر فضل الٰہی چوہدری کو رہا کرو رفیق تارڑ صاحب بھی اس ملک کے صدر رہے وہ میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران اس ملک کے صدر تھے اور میاں صاحب کے اتنے ہی تابع فرمان تھے کہ جتنے فضل الٰہی چوہدری صاحب بھٹو کے تھے یا ممنون حسین صاحب میاں نوازشریف کے ہیں جہاں تک صدر مملکت کی یہ بات ہے کہ قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑگئی تو ان کا یہ فرمان پتھر کی لکیر ہے من حیث القوم ہم غلط راہ پر چل نکلے ہیں ہمارے اکثر سرکاری اہلکاروں کو کام کی عادت نہیں رہی جب تک ان کی مٹھی نہ گرم کی جائے وہ کسی کا جائز کام بھی نہیں کرتے دفاتر میں کام کرنے والے وقت کی پابندی نہیں کرتے سرکاری دفاتر چلانے کیلئے ہر سال مختلف سرکاری محکموں کو جو سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے وہ پورا اس مقصد کیلئے استعمال تھوری ہوتا ہے کہ جس کیلئے دیا جاتا ہے اس میں سے آدھی رقم متعلقہ سرکاری اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے کیا مختلف قسم کے ترقیاتی کاموں میں سرکاری اہلکار کمیشن نہیں کھاتے؟

ٹھیکے دار کی بھی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور سرکاری اہلکاروں کا سر کڑاہی میں‘ سرکاری محکموں میں بھرتیاں یا تو پیسوں کے عوض ہوتی ہیں یا پھر سفارش کے ذریعے اب تو اس ملک کے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے کوئی معجزہ ہی اب اسے بچا سکتا ہے اعلیٰ سرکاری افسر قانون کی کتاب کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ حکمرانوں کی آبرو چشم کی طرف دیکھتے ہیں وہ خوف زدہ ہیں کہ اگر انہوں نے عوام الناس کی بہتری کیلئے کوئی بولڈ قدم اٹھالیا اور وہ حکمرانوں کے مزاج پر برا گزرا تو ان کی پھر خیر نہیں۔