بریکنگ نیوز
Home / کالم / وی آئی پی کلچر

وی آئی پی کلچر


کئی معاملات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو حکومتیں از خود بھی حل کر سکتی ہیں ان کیلئے نہ پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہوتی ہے ‘ نہ ان کیلئے کسی قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی سیاسی طبقے کی حمایت درکار ہوتی ہے ان کو حل کرنے میں اگر تاخیر کا مظاہرہ کیا جائے تو پھر یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ حکومت انہیں حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اکثر لوگوں کے دماغ میں یہ خناس گھس جاتا ہے کہ وہ اپنے برتاؤ سے یہ ثابت کریں کہ وہ عام لوگوں سے اونچے ہیں یہ جو ہم میں خبط عظمت سرایت کر گیا ہے یہ بھی اس خناس کی ایک نشانی ہے اگلے روز ایک اخباری خبر کے مطابق پی پی پی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے اس وقت تک اپنے قدم زمین پر نہیں رکھے جب تک ان کیلئے ریڈ کارپٹ نہ بچھا دیا گیا آصف زرداری جب مختصر دورے پر حب سے واپس کراچی کے باغ ابن قاسم پہنچے تو اپنے ہیلی کاپٹر سے اس وقت تک باہر نہ نکلے جب تک ان کیلئے ریڈ کارپٹ نہ بچھا دیا گیا ۔ ریڈ کارپٹ جیسے ہی بچھا سابق صدر پورے طمطراق کے ساتھ باہر آئے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے جس کسی نے بھی اس واقعہ کو دیکھا اور پھر لکھا ظاہر ہے وہ تاڑنے والا قیامت کی نظر رکھتا ہوگا کہ یہ اس سیاسی پارٹی کے رہنما کے لچھن ٹھہرے کہ جو چوبیس گھنٹے غریبوں کا دم بھرتی ہے اور ان کے غم میں ٹسوے بہاتی ہے اس کے برعکس ذرا ہمسایہ ملک ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو بھی دیکھئے کہ جو کئی برس تک ایران کے صدر رہے اورآج کل جب تہران یونیورسٹی میں پڑھانے کیلئے جاتے ہیں ۔

تو پبلک ٹرانسپورٹ کی بس میں سفر کرتے ہیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بس مسافروں سے کچھا کھچ بھرتی ہوتی ہے بیٹھنے کیلئے کوئی سیٹ خالی نہیں ہوتی اوران کو بہ امر مجبوری یونیورسٹی تک کا سفر بس میں کھڑا ہو کر طے کرنا پڑتا ہے ان کو ہیلی کاپٹراور ریڈ کارپٹ کیوں نہیں آتا یہ ہم سب کیلئے سوچنے کا مقام ہے وزیر اعظم محمد خان جونیجو سویڈن کے دورے پر تھے وہاں صبح ریسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے وہاں ان کی صبح کے ناشتے پر سویڈن کے وزیراعظم سے ملاقات متوقع تھی جس کا وقت 9 بجے مقرر تھا سویڈن کے وزیر اعظم ریسٹ ہاؤس بیس منٹ کی تاخیر سے پہنچے وہ اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے انہوں نے جونیجو صاحب سے لیٹ ہو جانے پر یہ کہہ کر معافی مانگی کہ چونکہ ان کی بیوی کو بخار تھا اس لئے آج صبح کا ناشتہ ان کو اپنے ہاتھ سے بنانا پڑا کہ ان کا باورچی بھی چھٹی پر ہے بات ہم نے شروع کی ہے وی وی آئی پی کلچر کی جو ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا اور نہ ہمارے رہنماء اپنا دامن اس سے چھڑانے میں سنجیدہ ہیں عربی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ رعایا حاکم وقت کے طریقہ کار کو اپناتی اور اسے نقل کرتی ہے۔

اگرحکمران اپنا طرز عمل سادہ رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عام آدمی اس کی نقل نہ کرے ایک چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ اوپر سے سٹرتی ہے اوپر بیٹھنے والے لوگ اگر ایمان دار ‘ صالح ‘ دیانت دار ہونگے تو ان کے ماتحتوں کی کیا مجال کہ وہ کسی قسم کی کرپشن کر سکیں کئی سال سے ہر نئے آنے والے حکمران سے ہم یہ سنتے آئے ہیں کہ وہ وی وی آئی پی کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا پر جب وہ اس کے مزے چکھنے لگتا ہے تو اس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اسے چھوڑے اب کیا کوئی زرداری صاحب سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ بھائی خدا کے بندے کیا یہ ضروری ہے کہ جب وہ زمین پر قدم رکھیں تو ان کے پاؤں تلے ریڈ کارپٹ ہونا چاہئے یہ توتکبر اور غرور کی نشانی ہے اورخدا متکبر انسان کو پسند نہیں کرتا کیا ان کو یاد نہیں کہ ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر کے دوران جوش خطابت میں اپنی اس کرسی کی طرف اشارہ کر کے یہ کہہ دیا تھا کہ جس پر وہ بیٹھے ہوئے ہیں کہ میں مضبوط نہیں پر یہ کرسی بڑی مضبوط ہے خدا کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی پھر نہ وہ کرسی رہی اور نہ وہ خود اس زمین پر رہ سکے ۔