بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / ای سی او سربراہ کانفرنس

ای سی او سربراہ کانفرنس


اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں سربراہ اجلاس اسلام آباد میں ای سی او کے تمام ممبر ممالک کے درمیان تجارت کو دگنا کرنے اور توانائی ‘ سیاحت ، صنعتی ترقی اور سائنس وٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم اور عہد کے ساتھ اختتام پزیر ہوگیااس کانفرنس میں تمام ممبر ممالک نے نہ صرف ای سی او کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا بلکہ خطے کی اس اہم تنظیم کے وسائل کو مشترکہ مفادات کیلئے بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا یہ بات خوش آئند ہے کہ بھارتی سازشوں اور کوششوں کے باوجود ای سی او کے تمام ممبر ممالک نے اس کانفرنس میں نہ صرف شرکت کے ذریعے بھارتی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے بھارتی سازشوں سے پچھلے دنوں سارک سربراہ کانفرنس کا اسلام آباد میں انعقاد کھٹائی میں پڑجانے کے بعد بھارت کی یہ ہر ممکن کوشش تھی کہ ای سی او سربراہ کانفرنس کو بھی اپنی سازشوں سے ملتوی کروایا جائے لیکن تمام ممبر ممالک نے ما سوائے افغانستان کے اس کانفرنس میں شرکت کے ذریعے نہ صرف بھارتی عزائم کو خاک میں ملادیابلکہ ممبر ممالک نے2025کے عنوان کے تحت جو وژن دیا ہے ۔

اس سے بھی یقیناًبھارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہوگی یہ بات بلا شک وشبہ کہی جا سکتا ہے کہ ای سی او ممالک میں ایک دوسرے کے وسائل اور تجربات سے استفادے کی نہ صرف کافی گنجائش موجود ہے بلکہ ان ممالک میں انسانی اور قدرتی وسائل کی صورت میں جو گراں قدر خزانہ پوشیدہ ہے اسے بھی بروئے کا ر لانے کی ضرورت ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ ممبر ممالک نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے جہاں دو طرفہ تجارت کو دگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہاں قریبی رابطوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کی جس تھیم کو ڈویلپ کیا ہے وہ بھی ایک مستحسن قدم ہے۔یاد رہے کہ ای سی او کو بنانے کا مقصد اقتصادی تعاون اور ترقی کے پوشیدہ امکانات کوبروئے کار لاتے ہوئے اس خطے کے دس اہم اور ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ممالک قازقستان ‘ ازبکستان‘ تاجکستان کرغیزستان‘ ترکمانستان‘ آذربائیجان ‘ ایران ‘ افغانستان ‘ پاکستان اور ترکی کو ایک دوسرے کے ساتھ قریب لانا ہے اس تنظیم کی بنیاد 1985میں ایران،پاکستان اور ترکی نے رکھی تھی۔دراصل اس تنظیم نے 1964میں بنائے گئے تین رکنی علاقائی ترقی کی تنظیم آر سی ڈی کے بطن سے جنم لیاتھا البتہ 1992میں جب سابق سوویت یونین کا انہدام ہوا اور دیگر ریاستوں کی طرح وسط ایشیا کی چھ مسلم ریاستوں نے بھی سوویت یونین سے اپنی آزادی کا اعلان کیا تو اس موقع پر اس خطے کی تین مسلم ریاستوں ایران،ترکی اور پاکستان نے ان چھ نوآزاد شدہ مسلم ریاستوں کو ای سی او کا ممبر بنانے کا فیصلہ کیاتھاانہی دنوں چونکہ افغانستان سے بھی ڈاکٹر نجیب کی کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

اور یہاں افغان مجاہدین کی عبوری حکومت قائم ہوگئی تھی لہٰذا افغانستان کو بھی ای سی او کا حصہ بنالیاگیاتھاای سی او کے پاکستان سمیت چونکہ اکثرممبران خطے کی ابھرتی ہوئے ایک اور اقتصادی علاقائی فورم شنگھائی تعاون تنظیم کے بھی رکن ہیں اس لئے اگر یہ دونوں تنظیمیں حقیقی معنوں میں فعال ہو جائیں اور ان کے درمیان ہم آہنگی فروغ پائے اور ایک دوسرے کیساتھ اقتصادی میدان میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں تو اگلے دس پندرہ سالوں میں یہ پورا خطہ تعمیر وترقی کی دوڑ میں یورپ سے بھی آگے نکل سکتا ہے یورپ کی ترقی میں یورپی یونین نے مختصر مدت کے دوران جو کردار ادا کیا ہے اس تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ای سی او کے ممالک باہمی ودطرفہ تجارت اور ایک دوسرے کے وسائل سے استفادے کو فروغ دینے میں کامیاب ہوجائیں تو اس پیشرفت سے اس خطے کے پچاس کروڑ سے زائد انسانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کے ذریعے تعمیر وترقی کی جو نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں اور چینی وروسی قیادت کی سوچ اور وژن کے مطابق یورپ،مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی کے لئے ون ریجن ون بیلٹ کے تصور کے تحت مستقبل قریب میں یہ خطہ جو اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے وہ بھارت کو بری طرح کھٹک رہا ہے در اصل یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ای سی اوجیسی اہم تنظیم کی کامیابی اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔