بریکنگ نیوز
Home / کالم / مشترکہ خوشحالی کا ایجنڈا

مشترکہ خوشحالی کا ایجنڈا


ترقی اور قیام امن جیسے اہداف کیلئے کسی بھی خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات اور ایک دوسرے پر اعتماد سب سے اہم ہوتا ہے خوش آئند ہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں اجلاس خوش اسلوبی اور کامیابی سے پرامن حالات میں اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ بائیس برس بعد اسلام آباد میں ہونے والے اِس اجلاس میں آٹھ رکن ممالک پر مشتمل تنظیم کے سات صدور‘ وزرائے اعظم اور ایک ملک افغانستان کے خصوصی نمائندے نے شرکت کی اجلاس میں شریک صدور کا تعلق ترکی‘ ایران‘ آذربائیجان‘ تاجکستان اور ترکمانستان سے تھا جبکہ کرغزستان اور قازقستان کے وزیراعظم اور ازبکستان کے نائب وزیراعظم اجلاس کا حصہ تھے۔ افغان صدر اشرف غنی کی نمائندگی پاکستان میں ان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کی علاوہ ازیں سربراہ اجلاس میں چین خصوصی مبصر کی حیثیت سے شریک تھا اقوام متحدہ کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے یاد رہے کہ سربراہ اجلاس کا موضوع علاقائی خوشحالی کیلئے رابطے‘ تھا‘ جسے سی پیک کے تناظر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے اور اسی بناء پر اجلاس میں ای سی او کے وژن 2025ء کی منظوری دی گئی پاکستان کے اقتصادی اشاریئے درست سمت میں گامزن ہیں اور وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں خطے میں مشترکہ خوشحالی کے لئے رابطوں کا فروغ ضروری ہے مواصلات کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر خطے میں سرمایہ کاری ہورہی ہے اور ریلوے‘ شاہراہیں‘ تیل اور گیس کی پائپ لائنیں خطے کے ملکوں کو قریب لارہی ہیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے تنظیم کو مستحکم کرنیکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کے سربراہان کے درمیان اتفاق رائے کے نتیجے میں تنظیم کے مقاصد اور سرگرمیوں کی تکمیل کی رفتار تیز کی جاسکتی ہے۔

اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن کی بنیاد 1985ء میں پاکستان اور ترکی نے مل کر رکھی تھی اس تنظیم کا بنیادی مقصد معاشی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینا تھا 1992ء میں ’ای سی او‘ کو وسعت دی گئی اسلام آباد میں ’ای سی او‘ کے غیرمعمولی اجلاس کے انعقاد سے اگر کوئی پریشان ہے تو وہ صرف بھارت ہے بھارت نے گزشتہ سال نومبر میں سارک سربراہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد نہیں ہونے دی تھی نریندر مودی نے سری لنکا‘ بنگلہ دیش‘ نیپال‘ بھوٹان اور مالدیپ پر سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا تھا بھارت کی طرف سے یہ پاکستان کو سفارتی طورپر تنہا کرنیکی ایک کوشش تھی ای سی او کے اہم رکن ممالک خاص طورپر ترکی‘ ایران‘ آذربائیجان‘ تاجکستان‘ کرغیزستان‘ قازقستان اور ترکمانستان پر اس کا بس نہیں چل رہا ورنہ وہ انہیں بھی ای سی او اجلاس میں شرکت سے روک دیتا چند روزسے پاکستان اور افغانستان کے مابین دہشت گردی کے خلاف تعاون کے مثبت اشارے مل رہے تھے افغان سفیر‘ آرمی چیف اور چیف ایگزیکٹو نے دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا مگر افغان صدر کا ایکو کانفرنس میں شرکت سے انکار اور اپنے نائب کو بھیجنے سے گریز انکے بھارت کے زیراثر ہونے کا غماز ہے۔

پاکستان میں دہشتگردی کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں اور عالمی سطح پر یہ سازش بھی جاری ہے کہ پاکستان کو دنیا میں سفارتی طور پر تنہا کردیا جائے یا ایسا کرنیکا تاثر عام کیا جائے‘ جسکی نفی حال ہی میں ہوئی چھتیس ممالک کی بحری مشقوں میں شرکت سے بخوبی ہو چکی ہے اور اب ایکو اجلاس کے انعقاد کے بعد پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی درحقیقت ان ممالک کی سفارتی تنہائی کا اظہار ہے جو اپنے وسائل کا استعمال نفرتیں عام کرنے میں خرچ کر رہے ہیں تاہم ایسی قوم کو یقیناًشکست نہیں دی جا سکتی جو ہر محاذ پر اپنے مفادات کے تحفظ کا عزم کئے بیٹھی ہو۔ ’سی پیک‘ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور اس کا حصہ بننے والے ممالک کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے کئی یورپی‘ عرب اور خلیجی ممالک نے ’سی پیک‘ کا حصّہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے پاکستان نے ’ای سی او‘ ممالک کو بھی ’سی پیک‘ میں شمولیت کی پیشکش کی ۔

ہے ان میں سے کچھ ممالک پہلے ہی سی پیک میں دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں باقی بھی یقیناًحصہ بننے پر تیار ہوں گے کیونکہ یہ خود انکے بہترین معاشی مفاد میں ہے ایران کی دوستی پر بھارت حق جتاتا رہا ہے لیکن ایران کی سی پیک کے حوالے سے تجاویز بھارت کے ایران کیساتھ قربت کے دعوؤں کے لئے تازیانہ ہے۔ ای سی او اجلاس سے پاکستان نے بہت سے اہداف حاصل کئے جن کے ثمرات آنے والے دنوں میں ظاہر ہوتے رہیں گے لیکن بنیادی نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کی اہمیت کسی بھی طرح خطے کے ممالک میں کم نہیں ہوئی۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: سعید جمال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)