بریکنگ نیوز
Home / کالم / محبت کادلوں میں بیج اب بونا ضروری ہے

محبت کادلوں میں بیج اب بونا ضروری ہے


چاروں طرف اب ایک عجیب سا ہنگامہ بپا ہے کون پوچھے اور کس سے پوچھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے کیوں اس بستی سے اخلاق،شرافت، خلوص اور روا داری کے پرندے کوچ کر گئے ہیں بیرونی دشمن کیا کم تھے کہ ہمارے ہاتھ اپنوں کے گریبانوں تک پہنچ گئے ہیں شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ ہمارے چاروں اور اب ’’میں میں ‘‘کا شور بہت بڑھ گیا ہے اور یار لوگ شب و روز اس شور میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے اور بد قسمتی سے یہی نکلا کہ کوئی بھی شخص ا پنی اس ’’ میں ‘‘ کیخلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں ،سو عدم برداشت کا چلن عام ہو چلا ہے۔ ہر چہرے پر کشیدگی کے آثار ہیں ہر آنکھ غصّے سے لال نظر آرہی ہے ہر شخص چیخ رہا ہے جو منہ میں آئے کہہ رہا ہے اونچے ایوانوں کے باسی تو حیدر علی آتش کے زمانے کی یادیں تازہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس نے کہا تھا

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گا لیاں صاحِب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا
سو زبان بھی بگڑی،دہن بھی بگڑا اور رفتہ رفتہ سارا سماج اس بگاڑ کی لپیٹ میں آگیاایک پشتو روزمرہ کے مطابق بھینس کی ساری مستی اور اور اچھل کود ’’کھونٹے‘‘ کی مضبوطی پر منحصر ہے اور آج کے دور میں ’’ میں میں ‘‘ کے اسیر یا ر لوگوں کا کھونٹا میڈیا ہے، وہ جو ظہیر دہلوی نے کہا تھا کہ
یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

بس ہمارے ہاں بھی میڈیا جلتی پر خوب خوب تیل ڈالنے کا اہتمام کئے ہوئے ہے وہ جو ماضی میں ایک کردار ہوا کرتا تھا جو چورکو چوری کی ترغیب دیتا اور گھر کے مالک کو ہوشیار رہنے کی تلقین کرتا بس وہی کردار اب میرا میڈیاادا کر رہا ہے پہلے رپورٹ کرتا ہے اور پھر چند ماہرین کو بٹھا کر اس واقعہ کو میز پر رکھ دیتا ہے وہ بات کرتے چلے جاتے ہیں اور میزبان بظا ہر لا تعلق مگر چوکس بیٹھا ہوتا ہے کہ ذرا کسی کے منہ سے کسی کے خلاف بات نکلے تو اسے ’’انڈر لائن ‘‘ کر کے آگے بڑھاتے ہوئے مخالف فریق کو’’ آپ کیا کہتے ہیں ‘‘سے اشتعال دلانا شروع کر دیتا ہے خود کو دیکھنے کی خواہش نے تو انسان سے آئینہ بنوایاکیمرہ ایجاد کروایا جب متحرک تصویروں کا زمانہ نہ تھا تو اپنی ساکت تصویر کو بار بار اٹھا کر دیکھا جاتا تھا اور اگر ایک تصویر کی کئی ایک کاپیاں نکالی جاتیں تو یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ یہ ایک ہی تصویر کی کاپیاں ہیں مگر یقین کیجئے بلکہ یاد کیجئے کہ ایک ایک تصویر کو اٹھا کر دیکھا جاتا اور اب جب ہر شام یہ کھڑکیاں سج جاتی ہیں توکس کا جی نہیں چاہتاکہ وہ بھی اپنا چہرہ کرائے، سو اب جو بھی اچھا برا ہو رہا ہے اس کا ایک معتبر حوالہ یہ کھونٹا ہے جسے میڈیا کہا جاتا ہے میں نے بارہا دیکھا ہے کہ ایک ہی جماعت کے کچھ رہنما میڈیا سے بات کرنے کیلئے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل رہے ہوتے ہیں اور جب ایک بات کر رہا ہوتا ہے تو دوسرے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کیمرہ کے شوقین بھول جاتے ہیں کہ ان کے یہ ناک بھوں چڑھانے والے تاثرات آن ائیر ہیں یہ وہی ’’ میں ‘‘ کی دوڑ ہے ۔

جس میں صرف اونچے ایوانوں کے ’’ بڑے لوگ ‘‘ ہی نہیں زندگی کے ہر شعبہ سے ایسی مثالیں مل جائیں گی اور اب تو ’’ڈھونڈھ لی قوم نے فلاح کی راہ ‘‘ یعنی بلی کے بھاگوں سوشل میڈیا کا چھینکا ٹوٹا ہے۔ سو بری بھلی ساری باتیں لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہیں گویا اِدھر ایوانوں کے دیوانوں کی مونہوں نکلیں اْدھرسوشل میڈیا کے کو ٹھوں چڑھیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس حمام میں چھوٹے بڑے اور جھوٹے سچے سب ایک برابر ہیں،اس لئے ایک تکلیف دہ سیاسی کلچر پروان چڑھ رہا ہے اپنی ’’ میں ‘‘ کی خاطر ہر شخص ہر حد تک جا رہا ہے اورکوئی بھی کسی کو روکنے ٹوکنے کی بجائے ان کی پیٹھ پر تھپکی دے رہا ہے، ہلہ شیری سے مزید کچھ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ ابھی ایک واقعہ شہر بھر کی زبان پر ہے اس کو دیکھا اور پرکھا جائے اور پس منظر کو دیکھا جائے تو ایک طرف سے کچھ غیر ذمہ دارانہ لفظ کہے گئے اپنے پرائے سب دکھی ہوئے چلو جو ہوا سو ہوا مگر برا ہوا اب اسے اچھالا گیا اور برا ہوا ،دنیا جہاں کے کام چھوڑ کر اسی کو موضوع سخن بنایا جاتا رہا یعنی ایک بار کے کہے ہوئے لفظ اب تک سینکڑوں بار دہرائے گئے اور برا اور برا ہوا،ہر شام ہر کھڑکی میں ہر شخص اپنے اپنے حوالے سے بات کرتا رہا۔ کہتے ہیں ’’ بات چل نکلی ہے اب دیکھئے کہا ں تک پہنچے‘‘ تو جناب وہاں تک پہنچی جسے مقدس ایوان کہا جاتا ہے اور پہنچی ہی نہیں اچھالی بھی گئی الٹے سیدھے الزام بھی لگائے گئے ، ظاہر ہے یہ تو بہت ہی برا ہوا پھر بوجوہ ’’جواب آں غزل کا موقع نہیں دیا گیا اور یہ اس لئے برا ہوا کہ ایوان کے بڑے کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنے لگے یہ تو انتہائی برا ہوا پھر جواں خون کو جوش آ گیا مقدس ایوان کی دہلیز پر جو ہوا وہ بھی بہت ہی برا ہوا لیکن جو بعد میں میڈیا کو گواہ بنا کر سنجیدگی سے بقائمی ہوش حواس کہا گیا اور جسے ہر چینل نے موضوع بنایا مگر ایسے ،کہ جو کہا گیا اسے حذف کر کے بات ہوئی، اخلاقیات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ اس بات (گالی) کو نہ دہرایا جاتامگر اس کا کیا کیا جائے کہ سوشل میڈیا پر وہی بات یا گالی یا بھونڈا انتقامی الزام اب وائرل ہو چکا ہے۔ جس نے ’’ اجلے لوگوں ‘‘ کو ایکسپوز کر دیا ہے اور چینلز کی بزعم خویش اخلاقیات یا احتیاط دھری کی دھری رہ گئی یہی احتیاط اس وقت کی جاتی جب کسی بھی جانب سے پہلی چنگاری اڑی تھی۔

تو بات سے بات نکل کر گالی کی سرحد میں داخل نہ ہوتی کیونکہ چنگاری کو تو کوئی بھی آسانی سے بجھا سکتا ہے مگر جب یہ چنگاریاں شعلوں میں بدل جائیں تو پھر اس آگ پر قابو پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے مگر یہ سب اس لئے ممکن نہیں ہو تا کہ میڈیا کی بھی تو اپنی ایک ’’ میں ‘‘ ہے۔ جو ’’ میں۔میں‘‘ کے اس شور میں سب سے نمایاں ہے ، حکایت ہے کہ جب ایک بار بایزید بسطامیؒ اپنے مرشد کے پاس گئے اور ان کے دروازے پر دستک دی اور مرشد نے پوچھا کون؟ تو با یزید نے جواباََ کہا ۔’’ میں ‘‘ پھر نہ جانے کتنی دیر تک وہ کھڑے رہے اور پھر آ کر ایک ایک سے پوچھتے رہے کہ مرشد نے دروازہ کیوں نہیں کھولا،علما ئے کرام کے پاس گئے علمی مراکز پہنچے‘درویشوں کے جوتے سیدھے کئے طویل سفر کئے، مصیبتیں جھیلیں ‘ بھوکے پیاسے رہے اور اس سوال کے جواب کی تلاش میں بارہ طویل برس کاٹ کرواپس پھر مرشد کے در پر آئے پھر دستک دی پھراندر سے پوچھا گیا ’’ کون‘‘ ؟ اور تب با یزید نے جواب دیا، ’’ تْو‘‘ شنید ہے کہ دروازہ کھل گیا گویا میں سے چھٹکارا پانے کیلئے بارہ برس کی تلاش و ریاضت درکار ہے مگر کوئی اس ’میں‘ سے اپنا رومینس ختم کرنے پر آمادہ تو ہو ، نا۔اور سچ ،پورا سچ یہ ہے ہم نے ایک دوسرے کیلئے نفرتوں سے اپنے دلوں کو بھر ا ہوا ہے۔اے کاش کسی بھی واقعہ سے عبرت پکڑتے ہوئے ہم دلوں میں محبت کے دئیے روشن کر نا شروع کردیں جس کی اتنی ضرورت پہلے شاید کبھی نہیں رہی۔یوں بھی۔
بہت نفرت کی فصلیں کاٹ لیں، بر باد ہو بیٹھے
محبت کا دلوں میں بیج ا ب بونا ضروری ہے